دودھ کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن کی وضاحت کیلئے کمشنر کو نوٹس
4جنوری2010کوقیمتوںکے تعین کیلیے جاری نوٹیفکیشن کی قانونی حیثیت واضح کرنے کیلیے کمشنر کوئی افسر مقرر کریں، عدالت
4جنوری2010کوقیمتوںکے تعین کیلیے جاری نوٹیفکیشن کی قانونی حیثیت واضح کرنے کیلیے کمشنر کوئی افسر مقرر کریں، عدالت
سندھ ہائیکورٹ نے دودھ کی قیمتوں کے متعلق نوٹیفکیشن کی قانونی حیثیت کے بارے میں وضاحت کیلیے کمشنر کراچی کو نوٹس جاری کردیا ہے،
جسٹس منیب اختر اور جسٹس آفتاب گورڑ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی سینئر افسر کو مقرر کریں جو آئندہ سماعت 7 اگست کو عدالت میں پیش ہوکر وضاحت کرسکے کہ پراونشل ایکٹ 2005 کی روشنی میں دودھ کی قیمت کے تعین کیلیے 4 جنوری 2010 کو جونوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اس کی قانونی حیثیت کیا ہے، فاضل بینچ نے یہ ہدایت آل کراچی ملک ریٹیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر نثار احمد کی متفرق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کی،
درخواست میں موقف اختیارکیاگیا ہے کہ ایسوسی ایشن کے ارکان کو دودھ زائد نرخوں پر فروخت کرنے کے الزام میں ہراساں کیا جارہا ہے اور ان پر جرمانے عائد کیے جارہے ہیں جو کہ غیر قانونی ہیں، درخواست گزار کے مطابق 4 جنوری کو دودھ کی خوردہ قیمت 60 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی جبکہ پروڈکشن اور تھوک قیمت بالترتیب 51 اور 55 روپے مقرر کی گئی تھی،
درخواست گزار کے مطابق یہ نرخ مقرر کرنا غیرقانونی ہے کیونکہ یہ سندھ ہائیکورٹ کے مارچ 2007 کے حکم کیخلاف ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور ہدایت کی گئی تھی کہ دودھ کی پیداوار، ہول سیل اور خوردہ قیمتوں کے تعین کیلیے تمام متعلقہ پہلوئوں کا جائزہ لیا جائے تاہم مدعا علیہان نے اس ہدایت کو نظرانداز کرتے ہوئے قیمت مقرر کردی،
دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ نے آٹو میٹک ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) سے رقم نکلوانے کے چارجز سے متعلق مسابقتی کمیشن کے فیصلے پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے وزارت خزانہ و دیگر مدعا علیہان کو 21 اگست کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مسابقتی کمیشن کے فیصلے کو غیرقانونی قراردیا جائے کیونکہ کمیشن کی کارروائی اسکے دائرہ اختیار سے باہر تھی،
علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے گلستان جوہر میں کے ایم سی کے اسپتال کی تعمیر کیخلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے کے ایم سی کو تعمیرات سے روک دیا ہے، فاضل بینچ نے ہدایت کی ہے کہ عدالت کی اجازت کے بغیر آئندہ سماعت تک کے ڈی اے اسکیم 36گلستان جوہر پلاٹST-26اورST-26/1پرکسی قسم کی تعمیرات نہ کی جائے،
مزید براں سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن میں افسران کی کنٹریکٹ پر تقرریوں کیخلاف درخواست پر سیکریٹری ایکسائز سمیت دیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے ۔
جسٹس منیب اختر اور جسٹس آفتاب گورڑ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی سینئر افسر کو مقرر کریں جو آئندہ سماعت 7 اگست کو عدالت میں پیش ہوکر وضاحت کرسکے کہ پراونشل ایکٹ 2005 کی روشنی میں دودھ کی قیمت کے تعین کیلیے 4 جنوری 2010 کو جونوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اس کی قانونی حیثیت کیا ہے، فاضل بینچ نے یہ ہدایت آل کراچی ملک ریٹیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر نثار احمد کی متفرق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کی،
درخواست میں موقف اختیارکیاگیا ہے کہ ایسوسی ایشن کے ارکان کو دودھ زائد نرخوں پر فروخت کرنے کے الزام میں ہراساں کیا جارہا ہے اور ان پر جرمانے عائد کیے جارہے ہیں جو کہ غیر قانونی ہیں، درخواست گزار کے مطابق 4 جنوری کو دودھ کی خوردہ قیمت 60 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی جبکہ پروڈکشن اور تھوک قیمت بالترتیب 51 اور 55 روپے مقرر کی گئی تھی،
درخواست گزار کے مطابق یہ نرخ مقرر کرنا غیرقانونی ہے کیونکہ یہ سندھ ہائیکورٹ کے مارچ 2007 کے حکم کیخلاف ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور ہدایت کی گئی تھی کہ دودھ کی پیداوار، ہول سیل اور خوردہ قیمتوں کے تعین کیلیے تمام متعلقہ پہلوئوں کا جائزہ لیا جائے تاہم مدعا علیہان نے اس ہدایت کو نظرانداز کرتے ہوئے قیمت مقرر کردی،
دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ نے آٹو میٹک ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) سے رقم نکلوانے کے چارجز سے متعلق مسابقتی کمیشن کے فیصلے پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے وزارت خزانہ و دیگر مدعا علیہان کو 21 اگست کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مسابقتی کمیشن کے فیصلے کو غیرقانونی قراردیا جائے کیونکہ کمیشن کی کارروائی اسکے دائرہ اختیار سے باہر تھی،
علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے گلستان جوہر میں کے ایم سی کے اسپتال کی تعمیر کیخلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے کے ایم سی کو تعمیرات سے روک دیا ہے، فاضل بینچ نے ہدایت کی ہے کہ عدالت کی اجازت کے بغیر آئندہ سماعت تک کے ڈی اے اسکیم 36گلستان جوہر پلاٹST-26اورST-26/1پرکسی قسم کی تعمیرات نہ کی جائے،
مزید براں سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن میں افسران کی کنٹریکٹ پر تقرریوں کیخلاف درخواست پر سیکریٹری ایکسائز سمیت دیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے ۔