کرپشن کی بُو نے بنگلادیشی کرکٹ بورڈ کو چونکا دیا
4 گیندوں پر 92 رنز بنائے جانے کے معاملے کی جانچ پڑتال شروع، کمیٹی قائم
بی سی بی کے صدر نظم الحسن نے اس واقعے کو بنگلادیشی کرکٹ کیلیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
ڈومیسٹک کرکٹ میں کرپشن کی بو نے بنگلہ دیشی بورڈ کو چونکا دیا جس کے بعد اینٹی کرپشن یونٹ نے 4 گیندوں پر 92 رنز بننے کے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں جبکہ تین رکنی کمیٹی بھی قائم کردی گئی۔
گزشتہ دنوں ایگزائیم کلب کے خلاف سیکنڈ ڈویژن ڈھاکا لیگ میچ میں لال ماتیا کے بولر سجن محمود نے اننگز کے پہلے ہی اوور میں وائیڈز گیندوں پر 65 اور 15 نوبال پر حریف سائیڈ کو 92 رنز کا ہدف عبور کرادیا، اس دوران انھوں نے صرف 4 لیگل بالز کیں، ان کے اس اقدام کا مقصد پہلے بیٹنگ کرنے والی اپنی ٹیم کے خلاف ہونے والے غلط امپائرنگ فیصلوں پر احتجاج کرنا تھا۔ ان کی یہ حرکت دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بنی۔ اب بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔
دوسری جانب بی سی بی کے صدر نظم الحسن نے اس واقعے کو بنگلادیشی کرکٹ کیلیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس معاملے کی جانچ اینٹی کرپشن یونٹ کررہا ہے جبکہ بی سی بی کے ڈائریکٹرز جلال یونس، اکرم خان اور شیخ سہیل واقعے میں ملوث تمام فریقین سے پوچھ گچھ کریں گے جن میں کپتان، کوچز اور امپائرز شامل ہیں۔
نظم الحسن کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ کے ساتھ یہ معاملہ ہماری خصوصی کمیٹی بھی دیکھ رہی اور وہ تین روز میں اپنی رپورٹ ہمیں پیش کردے گی۔واضح رہے کہ کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں امپائرز کے فیصلوں پر پہلے بھی کئی بار انگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں مگر پہلی بار اس قسم کے احتجاج کی وجہ سے بورڈ نوٹس لینے پر مجبور ہوگیا ہے، اس کے ساتھ اس کی جانب سے ڈھاکا پریمیئر لیگ مقابلوں کے دوران اب ہر وینیو میں تین کیمرے بھی ریکارڈنگ کیلیے نصب کردیے گئے ہیں جبکہ نظم الحسن کا کہنا ہے کہ آئندہ سیزن سے فرسٹ اور سیکنڈ ڈویژن مقابلوں کی بھی ریکارڈنگ کی جائے گی تاہم امپائرنگ فیصلوں کی بھی جانچ کی جاسکے۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں کرپشن کی بو نے بنگلہ دیشی بورڈ کو چونکا دیا جس کے بعد اینٹی کرپشن یونٹ نے 4 گیندوں پر 92 رنز بننے کے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں جبکہ تین رکنی کمیٹی بھی قائم کردی گئی۔
گزشتہ دنوں ایگزائیم کلب کے خلاف سیکنڈ ڈویژن ڈھاکا لیگ میچ میں لال ماتیا کے بولر سجن محمود نے اننگز کے پہلے ہی اوور میں وائیڈز گیندوں پر 65 اور 15 نوبال پر حریف سائیڈ کو 92 رنز کا ہدف عبور کرادیا، اس دوران انھوں نے صرف 4 لیگل بالز کیں، ان کے اس اقدام کا مقصد پہلے بیٹنگ کرنے والی اپنی ٹیم کے خلاف ہونے والے غلط امپائرنگ فیصلوں پر احتجاج کرنا تھا۔ ان کی یہ حرکت دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بنی۔ اب بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔
دوسری جانب بی سی بی کے صدر نظم الحسن نے اس واقعے کو بنگلادیشی کرکٹ کیلیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس معاملے کی جانچ اینٹی کرپشن یونٹ کررہا ہے جبکہ بی سی بی کے ڈائریکٹرز جلال یونس، اکرم خان اور شیخ سہیل واقعے میں ملوث تمام فریقین سے پوچھ گچھ کریں گے جن میں کپتان، کوچز اور امپائرز شامل ہیں۔
نظم الحسن کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ کے ساتھ یہ معاملہ ہماری خصوصی کمیٹی بھی دیکھ رہی اور وہ تین روز میں اپنی رپورٹ ہمیں پیش کردے گی۔واضح رہے کہ کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں امپائرز کے فیصلوں پر پہلے بھی کئی بار انگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں مگر پہلی بار اس قسم کے احتجاج کی وجہ سے بورڈ نوٹس لینے پر مجبور ہوگیا ہے، اس کے ساتھ اس کی جانب سے ڈھاکا پریمیئر لیگ مقابلوں کے دوران اب ہر وینیو میں تین کیمرے بھی ریکارڈنگ کیلیے نصب کردیے گئے ہیں جبکہ نظم الحسن کا کہنا ہے کہ آئندہ سیزن سے فرسٹ اور سیکنڈ ڈویژن مقابلوں کی بھی ریکارڈنگ کی جائے گی تاہم امپائرنگ فیصلوں کی بھی جانچ کی جاسکے۔