سندھ کی سیاسی نشاہ ثانیہ مگر کیسے
اب کراچی کی نئی تہذیبی اور سیاسی قلب ماہیت ہونی چاہیے
اب کراچی کی نئی تہذیبی اور سیاسی قلب ماہیت ہونی چاہیے . فوٹو : فائل
کراچی سمیت اندرون سندھ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جارہا ہے۔ سیاسی افق جذباتی اور والہانہ نعروں سے گونج رہا ہے ۔ پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف ، مسلم لیگ ن ، ایم کیو ایم پاکستان جب کہ دوسری جانب پاکستان سرزمین پارٹی سمیت مسلم لیگ فنکشنل اور مذہبی و دینی جماعتوں ، قوم پرست سیاسی قوتوں کے درمیان سیاسی اتحاد اور مشترکہ سیاسی ایجنڈوں کے تحت نئی سیاسی جدوجہد پر اتفاق رائے پیدا کیے جانے کی سرگرمیاں عروج پر ہیں ، دوسری جانب سندھ کو درپیش مسائل اور پیدا شدہ صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلیے ہر سیاسی جماعت اپنے وجود، اہمیت اور سیاسی بریک تھرو کی کوششوں اور میڈیا میں جگہ پانے کی تگ ودو میں مصروف ہے ، بادی النظر میں حالیہ سیاسی منظرنامہ ماضی کی پرانی سیاست گری سے قدرے مختلف نظر آتا ہے اورتلخ ترین زمینی حقائق کی زبان میں کہا جاسکتا ہے کہ سندھ کی موجودہ سیاست پیراڈئم شفٹ کا واضح عندیہ دے رہی ہے۔
کئی سماجی و سیاسی عوامل ایسے منکشف ہونے جارہے ہیں جو سندھ کی قدیم جاگیردارانہ سوچ ، وڈیرہ شاہی ، جمود ، معاشی مفادات کے برگد نما سیاسی درختوں اور سیاست کے سومناتی بتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا اشارہ دے رہے ہیں، بعض سیاسی مبصرین نے کراچی کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز اور اکھاڑہ بننے کے عمل کو ایک سیاسی چنگھاڑ سے تشبیہ دی ہے ان کو امید ہے کہ سندھ میں جمود ٹوٹے گا ، کراچی کی سیاست تشدد ، قبضہ گیری ، روایتی گٹھ جوڑ اور معذرت خواہانہ روش سے بیزاری کا اعلان کریگی ۔مگر لندن ایم کیو ایم کا معمہ بھی سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی تبدیلیوں کے امکانات کے حوالے سے بعض اہل دانش کا کہنا ہے کہ کراچی اور سندھ کے سیاست دان دھرتی کو درپیش معاشی و سماجی محروموں سے صرف نظر نہ کریں۔ عوامی ریلیف سے جڑی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے ۔
کراچی کو کھنڈر اور سندھ کے دیہی علاقوں ، صحرائے تھر کو غربت، پسماندگی، بد حالی اور بربادی کی رلادینے والی صورتحال سے نکالنے کی کوشش کریں ، سیاسی تجزیہ کاروں کی اکثریت اس ایشو پر متفق ہے کہ سندھ کو ایک بڑے معاشی پیکیج اور اچھی حکمرانی درکار ہے، داخلی کشمکش کی جگہ اجتماعی سیاسی دانش اور جمہوری گنجائش کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، ورنہ نقصان ہوگا، کراچی آپریشن کو اس کے حتمی نتائج تک جاری رکھنا صوبہ کے مفاد میںہے لیکن سارے کام جادوئی چھڑی یا بلیم گیم سے مکمل نہیں ہوسکتے، کراچی کو ہیلنگ ٹچhealing touch کی اشد ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کو اپنے جمہوری ایجنڈے ، سیاسی لائحہ عمل اور ملکی سلامتی سے جڑے ہوئے قومی و نظریاتی منزل کی تلاش میں سارے اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ شہری اور دیہی سیاست کو ٹھندے دل سے پاناما کیس کے حتمی فیصلہ کے نتائج و مضمرات پر سوچنا چاہیے، نعروں ، دھرنوں اور تحریکوں سے دشمنوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع دینا کسی کے مفاد میں نہ ہوگا، کراچی کے زخم رس رہے ہیں۔
ملک کا سب سے بڑا تجارتی اور ثقافتی شہر موئن جو دڑو بنا ہوا ہے، ٹرانسپورٹ مافیا کا زور توڑا جائے، شہر قائد کو شفاف اور باوقار ٹریفک اور ماس ٹرانزٹ سسٹم کی ضرورت ہے، کچی آبادیوں پر نظر ڈالیے، بانیٔ پاکستان کی جنم بھومی کی معاشی ، سماجی ، علمی ، فکری اور سیاسی نشاہ ثانیہ کیلیے پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف، مسلم لیگ ن ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان ، جمعیت علائے اسلام، مسلم لیگ فنشکنل جے یو پی اور دیگر دینی و مذہبی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنے کیلیے عملی میدان میں آنا چاہیے، سیاسی رابطوں پر کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے، متحدہ ، پی ایس پی، دیگر گروپ سندھ اور ملک کے مفاد میں مل بیٹھ کر سیاسی پلیئنگ فیلڈ کو یقینی بنائیں، سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ یہ سندھ کی وحدت میں کثرت کے دلکش سیاسی چمن کی آبیاری کا وقت ہے، کراچی نے خونریزی اور بدامنی کی بھاری قیمت ادا کی ہے ۔
اب کراچی کی نئی تہذیبی اور سیاسی قلب ماہیت ہونی چاہیے، سندھ کی سیاست داخلی انتشار کو راستہ نہ دے ، سیاست دان مسائل کے گرداب ، سماجی و سیاسی تضادات اور معاشی محرومیوں سے نجات کے لیے گرینڈ الائنس بنائیں ، مگر ترقی و استحکام کیلیے۔ پاناما کیس کا فیصلہ آنے سے قبل سندھ کی سیاست سے وابستہ جمہوری قوتوں کی توقعات اور امیدوں کا سیاسی سورج بلاشبہ نصف النہار پر تھا ،کراچی کو ملک میں ہر آمریت کے خلاف انقلاب جنکشن اور حزب اختلاف کا شہر ہونے کا اعزاز حاصل تھا ۔
اسے بندہ پرور اور غریب نواز شہر قائد کہا جاتا تھا، اس کی سیاسی وسیع المشربی اور روادارانہ سیاست کا وفاق بھی معترف تھا اور مرکزیت سے متصف فیڈریشن کی اکائیاں سیاسی اختلافات کے باوجود قومی یکجہتی ، جمہوری رویوں اور معاشی ترقی و خوشحالی کے اجتماعی اور مشترکہ ایجنڈے سے منسلک تھیں ۔ آج شہر قائد سمیت صوبہ سندھ کو مفاہمت اور سیاسی رواداری کی جتنی ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ ملکی تاریخ کے اندھیرے اجالے کا ایک حوالہ سندھ اور کراچی کی سیاسی کشمکش بھی رہی ہے، اب سندھ کی تعمیری سیاست کا نقشہ ایک عظیم جست سے ہی بدلا جا سکتا ہے۔
کئی سماجی و سیاسی عوامل ایسے منکشف ہونے جارہے ہیں جو سندھ کی قدیم جاگیردارانہ سوچ ، وڈیرہ شاہی ، جمود ، معاشی مفادات کے برگد نما سیاسی درختوں اور سیاست کے سومناتی بتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا اشارہ دے رہے ہیں، بعض سیاسی مبصرین نے کراچی کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز اور اکھاڑہ بننے کے عمل کو ایک سیاسی چنگھاڑ سے تشبیہ دی ہے ان کو امید ہے کہ سندھ میں جمود ٹوٹے گا ، کراچی کی سیاست تشدد ، قبضہ گیری ، روایتی گٹھ جوڑ اور معذرت خواہانہ روش سے بیزاری کا اعلان کریگی ۔مگر لندن ایم کیو ایم کا معمہ بھی سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی تبدیلیوں کے امکانات کے حوالے سے بعض اہل دانش کا کہنا ہے کہ کراچی اور سندھ کے سیاست دان دھرتی کو درپیش معاشی و سماجی محروموں سے صرف نظر نہ کریں۔ عوامی ریلیف سے جڑی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے ۔
کراچی کو کھنڈر اور سندھ کے دیہی علاقوں ، صحرائے تھر کو غربت، پسماندگی، بد حالی اور بربادی کی رلادینے والی صورتحال سے نکالنے کی کوشش کریں ، سیاسی تجزیہ کاروں کی اکثریت اس ایشو پر متفق ہے کہ سندھ کو ایک بڑے معاشی پیکیج اور اچھی حکمرانی درکار ہے، داخلی کشمکش کی جگہ اجتماعی سیاسی دانش اور جمہوری گنجائش کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، ورنہ نقصان ہوگا، کراچی آپریشن کو اس کے حتمی نتائج تک جاری رکھنا صوبہ کے مفاد میںہے لیکن سارے کام جادوئی چھڑی یا بلیم گیم سے مکمل نہیں ہوسکتے، کراچی کو ہیلنگ ٹچhealing touch کی اشد ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کو اپنے جمہوری ایجنڈے ، سیاسی لائحہ عمل اور ملکی سلامتی سے جڑے ہوئے قومی و نظریاتی منزل کی تلاش میں سارے اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ شہری اور دیہی سیاست کو ٹھندے دل سے پاناما کیس کے حتمی فیصلہ کے نتائج و مضمرات پر سوچنا چاہیے، نعروں ، دھرنوں اور تحریکوں سے دشمنوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع دینا کسی کے مفاد میں نہ ہوگا، کراچی کے زخم رس رہے ہیں۔
ملک کا سب سے بڑا تجارتی اور ثقافتی شہر موئن جو دڑو بنا ہوا ہے، ٹرانسپورٹ مافیا کا زور توڑا جائے، شہر قائد کو شفاف اور باوقار ٹریفک اور ماس ٹرانزٹ سسٹم کی ضرورت ہے، کچی آبادیوں پر نظر ڈالیے، بانیٔ پاکستان کی جنم بھومی کی معاشی ، سماجی ، علمی ، فکری اور سیاسی نشاہ ثانیہ کیلیے پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف، مسلم لیگ ن ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان ، جمعیت علائے اسلام، مسلم لیگ فنشکنل جے یو پی اور دیگر دینی و مذہبی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنے کیلیے عملی میدان میں آنا چاہیے، سیاسی رابطوں پر کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے، متحدہ ، پی ایس پی، دیگر گروپ سندھ اور ملک کے مفاد میں مل بیٹھ کر سیاسی پلیئنگ فیلڈ کو یقینی بنائیں، سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ یہ سندھ کی وحدت میں کثرت کے دلکش سیاسی چمن کی آبیاری کا وقت ہے، کراچی نے خونریزی اور بدامنی کی بھاری قیمت ادا کی ہے ۔
اب کراچی کی نئی تہذیبی اور سیاسی قلب ماہیت ہونی چاہیے، سندھ کی سیاست داخلی انتشار کو راستہ نہ دے ، سیاست دان مسائل کے گرداب ، سماجی و سیاسی تضادات اور معاشی محرومیوں سے نجات کے لیے گرینڈ الائنس بنائیں ، مگر ترقی و استحکام کیلیے۔ پاناما کیس کا فیصلہ آنے سے قبل سندھ کی سیاست سے وابستہ جمہوری قوتوں کی توقعات اور امیدوں کا سیاسی سورج بلاشبہ نصف النہار پر تھا ،کراچی کو ملک میں ہر آمریت کے خلاف انقلاب جنکشن اور حزب اختلاف کا شہر ہونے کا اعزاز حاصل تھا ۔
اسے بندہ پرور اور غریب نواز شہر قائد کہا جاتا تھا، اس کی سیاسی وسیع المشربی اور روادارانہ سیاست کا وفاق بھی معترف تھا اور مرکزیت سے متصف فیڈریشن کی اکائیاں سیاسی اختلافات کے باوجود قومی یکجہتی ، جمہوری رویوں اور معاشی ترقی و خوشحالی کے اجتماعی اور مشترکہ ایجنڈے سے منسلک تھیں ۔ آج شہر قائد سمیت صوبہ سندھ کو مفاہمت اور سیاسی رواداری کی جتنی ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ ملکی تاریخ کے اندھیرے اجالے کا ایک حوالہ سندھ اور کراچی کی سیاسی کشمکش بھی رہی ہے، اب سندھ کی تعمیری سیاست کا نقشہ ایک عظیم جست سے ہی بدلا جا سکتا ہے۔