باچا خان دور اندیش سیاست دان تھےسینیٹر شاہی سید
اے این پی نے امن کی خاطر 750 کارکن قربان کردیے،وفود سے بات چیت.
اے این پی نے امن کی خاطر 750 کارکن قربان کردیے،وفود سے بات چیت۔ فوٹو: فائل
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ باچا خان پختون قوم کے محسن اور جنگ آزادی کے ایک ایسے ہیرو تھے جنھوں نے ساری زندگی جہد مسلسل میں گزاری، جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف اور آزادی کے بعد ہر جابر اور آمر کے خلاف کلمہ حق کہا، باچا خان ایک دور اندیش سیاستدان تھے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے مردان ہائوس میں پارٹی اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،انھوں نے30 سال پہلے جو پیش گوئیاں کی تھیں وہ آج صحیح ثابت ہو رہی ہیں، انھوں نے قوم کو شعور اور عدم تشدد کا فلسفہ دیا تاہم اگر ان کے عدم تشدد کے فلسفے پر عمل کیا جاتا تو آج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی، باچا خان نے افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد کہا تھا کہ یہ روس اور امریکا کی جنگ ہے اور اس میں دونوں طرف تباہی صرف پختونوں کی ہوگی لیکن کچھ قوتوں اور اس وقت کے مذہبی لوگوں اور حکمرانوں نے ان کی ان باتوں پر کوئی توجہ نہ دی جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پختون دہشت گرد ہیں۔
بابائے امن کے پیروکاروں نے ان کے عدم تشدد کے فلسفے کو زندہ رکھنے کیلیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ پختون دہشت گرد نہیں بلکہ امن پسند قوم ہے، عوامی نیشنل پارٹی نے 750 سے زیادہ عہدیداروں اور کارکنوں ، اہم شخصیات اور ارکان اسمبلی کی قربانی دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ امن کے حصول اور ملک میں امن کے قیام کیلیے باچا خان کے پیروکار کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امن قائم نہیں ہو جاتا۔
انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی شخصیت بھی پاکستان میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے ،انھوں نے پاکستام میں جمہوری کلچر اور جمہوریت کو فروغ دینے کیلیے پریس ، عدلیہ کی آزادی اور صوبائی خود مختاری کیلیے جو طویل جدوجہد کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور آخری دور میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں،انھوں نے کہا کہ قائد جمہوریت خان عبدالولی خان جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے مردان ہائوس میں پارٹی اور پختون ایکشن کمیٹی (لویہ جرگہ) کے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،انھوں نے30 سال پہلے جو پیش گوئیاں کی تھیں وہ آج صحیح ثابت ہو رہی ہیں، انھوں نے قوم کو شعور اور عدم تشدد کا فلسفہ دیا تاہم اگر ان کے عدم تشدد کے فلسفے پر عمل کیا جاتا تو آج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی، باچا خان نے افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد کہا تھا کہ یہ روس اور امریکا کی جنگ ہے اور اس میں دونوں طرف تباہی صرف پختونوں کی ہوگی لیکن کچھ قوتوں اور اس وقت کے مذہبی لوگوں اور حکمرانوں نے ان کی ان باتوں پر کوئی توجہ نہ دی جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پختون دہشت گرد ہیں۔
بابائے امن کے پیروکاروں نے ان کے عدم تشدد کے فلسفے کو زندہ رکھنے کیلیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ پختون دہشت گرد نہیں بلکہ امن پسند قوم ہے، عوامی نیشنل پارٹی نے 750 سے زیادہ عہدیداروں اور کارکنوں ، اہم شخصیات اور ارکان اسمبلی کی قربانی دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ امن کے حصول اور ملک میں امن کے قیام کیلیے باچا خان کے پیروکار کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امن قائم نہیں ہو جاتا۔
انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی شخصیت بھی پاکستان میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے ،انھوں نے پاکستام میں جمہوری کلچر اور جمہوریت کو فروغ دینے کیلیے پریس ، عدلیہ کی آزادی اور صوبائی خود مختاری کیلیے جو طویل جدوجہد کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور آخری دور میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں،انھوں نے کہا کہ قائد جمہوریت خان عبدالولی خان جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔