تربت میں دہشت گردی کی واردات
تربت میں ہونے والا دھماکا ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا
تربت میں ہونے والا دھماکا ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا ۔ فوٹو : فائل
بلوچستان کے ضلع تربت کے علاقے مند میں ایف سی کی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے میں 4اہلکار اور ایک شہری شہید جب کہ تین اہلکار زخمی ہو گئے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مادر وطن سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری' وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان' آصف زرداری اور سینیٹر سراج الحق نے بھی تربت میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی۔
تربت میں ہونے والا دھماکا ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا۔ بلوچستان ایک عرصے سے بدامنی کا شکار چلا آ رہا ہے' شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث دہشت گردوں کی ایک تعداد ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص بلوچستان فرار ہو گئی اور وہاں مختلف علاقوں کو اپنی کارروائیوں کا مرکز بنا لیا۔ یہ امر عیاں ہو چکا ہے کہ بلوچستان میں موجود دہشت گردوں کو بیرون ملک سے اعانت مل رہی ہے اور غیرملکی ایجنسیاں یہاں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت منظر عام پر آ چکے ہیں۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیاں بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کررہی ہیں' ایف سی اہلکار بھی سیکیورٹی کے پیش نظر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے کہ نامعلوم شدت پسندوں کی کارروائی کا نشانہ بن گئے۔ سامنے موجود دشمن کے خلاف کارروائی کرنا آسان ہے مگر چھپے ہوئے بے چہرہ اور بے شناخت وطن دشمن عناصر کو قانون کے شکنجے میں لینا ایک مشکل امر ہے' یہ بے چہرہ دشمن معاشرے میں آسانی سے گھل مل کر اپنی مذموم کارروائیاں کرتا اور وطن دشمن عناصر کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ وطن دشمن عناصر مقامی افراد کی ہمدردی اور سہولت کے بغیر اپنی کارروائیاں نہیں کر سکتے۔
لہٰذا جہاں ان وطن دشمنوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ضرورت ہے وہاں ان کے سہولت کاروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے خفیہ ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں کو عوام کے تعاون کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے گراس روٹ لیول پر بلدیاتی اداروں اور گلی محلے کی سطح پر نوجوانوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے' عوام کے تعاون کے بغیر کوئی بڑی مہم کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اپنی جان پر کھیل کر متعدد دہشت گردوں کو گرفتار کرچکے ہیں مگر وقتاً فوقتاً ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک کافی مضبوط ہے جسے توڑنے کے لیے ہمہ جہتی حربے بروئے کار لانے ہوں گے۔
تربت میں ہونے والا دھماکا ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا۔ بلوچستان ایک عرصے سے بدامنی کا شکار چلا آ رہا ہے' شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث دہشت گردوں کی ایک تعداد ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص بلوچستان فرار ہو گئی اور وہاں مختلف علاقوں کو اپنی کارروائیوں کا مرکز بنا لیا۔ یہ امر عیاں ہو چکا ہے کہ بلوچستان میں موجود دہشت گردوں کو بیرون ملک سے اعانت مل رہی ہے اور غیرملکی ایجنسیاں یہاں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت منظر عام پر آ چکے ہیں۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیاں بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کررہی ہیں' ایف سی اہلکار بھی سیکیورٹی کے پیش نظر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے کہ نامعلوم شدت پسندوں کی کارروائی کا نشانہ بن گئے۔ سامنے موجود دشمن کے خلاف کارروائی کرنا آسان ہے مگر چھپے ہوئے بے چہرہ اور بے شناخت وطن دشمن عناصر کو قانون کے شکنجے میں لینا ایک مشکل امر ہے' یہ بے چہرہ دشمن معاشرے میں آسانی سے گھل مل کر اپنی مذموم کارروائیاں کرتا اور وطن دشمن عناصر کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ وطن دشمن عناصر مقامی افراد کی ہمدردی اور سہولت کے بغیر اپنی کارروائیاں نہیں کر سکتے۔
لہٰذا جہاں ان وطن دشمنوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ضرورت ہے وہاں ان کے سہولت کاروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے خفیہ ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں کو عوام کے تعاون کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے گراس روٹ لیول پر بلدیاتی اداروں اور گلی محلے کی سطح پر نوجوانوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے' عوام کے تعاون کے بغیر کوئی بڑی مہم کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اپنی جان پر کھیل کر متعدد دہشت گردوں کو گرفتار کرچکے ہیں مگر وقتاً فوقتاً ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک کافی مضبوط ہے جسے توڑنے کے لیے ہمہ جہتی حربے بروئے کار لانے ہوں گے۔