کے ای ایس سی سے نکالے گئے شخص نے خودکشی کرلی
گلشن حدید فیز ٹومیں رہائش پذیر 32 سالہ سلیم احمد ڈیٹا کنٹرول آفیسر تھے.
نوکری چلی گئی ہے، زندگی بھی ختم کرنے پر مجبور ہوگیا ہوں،متوفی کا خط۔ فوٹو: فائل
گلشن حدید میں نوکری سے نکالے جانیوالے شخص نے دلبرداشتہ ہو کر خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔
متوفی کو ایک روز قبل کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے نوکری سے نکال دیا تھا ، تفصیلات کے مطابق گلشن حدید فیز ٹوکے رہائشی 32 سالہ سلیم احمد ولد مشتاق احمد نے خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال لائی گئی ، ایس ایچ او اسٹیل ٹاؤن ہارون کورائی نے بتایا کہ متوفی کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی میں ملازم تھا جسے نوکری سے نکال دیا گیا تھا اور اسی وجہ سے اس نے دلبرداشتہ ہو کر لائسنس یافتہ نائن ایم ایم پستول سے خود کو گولی مارلی۔
انھوں نے بتایا کہ متوفی نے خودکشی سے قبل ایک نوٹ بھی تحریرکیا جس پر اس نے لکھا کہ نوکری چلی گئی ہے اب آئندہ زندگی کاگزارہ بہت مشکل ہوگیا ہے ، اپنی زندگی بھی ختم کرنے پر مجبور ہوگیا ہوں ، پولیس نے مذکورہ تحریرکو اپنی تحویل میں لے لیا ہے جبکہ متوفی کی اہلیہ گلشن حدید میں واقع نجی اسکول میں ٹیچر ہیں ، کے ای ایس سی لیبر یونین (سی بی اے )کے رہنما محمد اخلاق خان کے مطابق متوفی سلیم احمد کو صرف 3 دن کی چھٹی کرنے پر کے ای ایس سی کی انتظامیہ نے نوکری سے طرف کیا۔
سلیم احمد چھٹیوں کے بعد جمعے کو دفتر گئے تھے کہ انھیں برطرفی کا لیٹر تھما دیا گیا جس کے بعد سے وہ شدید ذہنی اذیت سے دوچار تھے ، انھوں نے بتایا کہ سلیم احمد آئی بی سی بن قاسم میں ڈیٹا کنٹرول آفیسر تھے جبکہ ان کے والد مشتاق احمد جو کہ کے ای ایس سی میں ڈپٹی جنرل مینجر ایچ آر تھے انھیں بھی گذشتہ سال نومبر میں نوکری سے جبری برطرف کر دیا گیا تھا ، متوفی کی چند ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔
متوفی کو ایک روز قبل کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے نوکری سے نکال دیا تھا ، تفصیلات کے مطابق گلشن حدید فیز ٹوکے رہائشی 32 سالہ سلیم احمد ولد مشتاق احمد نے خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال لائی گئی ، ایس ایچ او اسٹیل ٹاؤن ہارون کورائی نے بتایا کہ متوفی کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی میں ملازم تھا جسے نوکری سے نکال دیا گیا تھا اور اسی وجہ سے اس نے دلبرداشتہ ہو کر لائسنس یافتہ نائن ایم ایم پستول سے خود کو گولی مارلی۔
انھوں نے بتایا کہ متوفی نے خودکشی سے قبل ایک نوٹ بھی تحریرکیا جس پر اس نے لکھا کہ نوکری چلی گئی ہے اب آئندہ زندگی کاگزارہ بہت مشکل ہوگیا ہے ، اپنی زندگی بھی ختم کرنے پر مجبور ہوگیا ہوں ، پولیس نے مذکورہ تحریرکو اپنی تحویل میں لے لیا ہے جبکہ متوفی کی اہلیہ گلشن حدید میں واقع نجی اسکول میں ٹیچر ہیں ، کے ای ایس سی لیبر یونین (سی بی اے )کے رہنما محمد اخلاق خان کے مطابق متوفی سلیم احمد کو صرف 3 دن کی چھٹی کرنے پر کے ای ایس سی کی انتظامیہ نے نوکری سے طرف کیا۔
سلیم احمد چھٹیوں کے بعد جمعے کو دفتر گئے تھے کہ انھیں برطرفی کا لیٹر تھما دیا گیا جس کے بعد سے وہ شدید ذہنی اذیت سے دوچار تھے ، انھوں نے بتایا کہ سلیم احمد آئی بی سی بن قاسم میں ڈیٹا کنٹرول آفیسر تھے جبکہ ان کے والد مشتاق احمد جو کہ کے ای ایس سی میں ڈپٹی جنرل مینجر ایچ آر تھے انھیں بھی گذشتہ سال نومبر میں نوکری سے جبری برطرف کر دیا گیا تھا ، متوفی کی چند ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔