دانشمندی اور سلامتی کا راستہ

ملکی سیاست میں پاناما کیس کا فیصلہ دور رس نتائج کا حامل ہے

ملکی سیاست میں پاناما کیس کا فیصلہ دور رس نتائج کا حامل ہے . فوٹو؛ فائل

پاناما کیس کے فیصلے کے پس منظر میں گزشتہ روز دو اہم شخصیات کے بیانات اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بنے ۔ دونوں سنجیدہ بیانات ملکی سیاست ، عدالتی پروسیس اور عوامی سوچ سے براہ راست مخاطب بیانیہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں 202 ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں اعلیٰ ترین عسکری قیادت نے ملک بھر میں جاری آپریشن رد الفساد کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

اس کے علاوہ کور کمانڈرز کانفرنس میں سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کا فیصلہ بھی تفصیلی طور پر زیر غور آیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پاک فوج پاناما کیس کے فیصلے کے تناظر میں تشکیل دی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں شفاف کردار ادا کرے گی اور جے آئی ٹی میں شامل ادارے کے نمائندے سپریم کورٹ کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناماکیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جس میں نیب، ایس ای سی پی اور ایف بی آر کے علاوہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے افسر بھی شامل ہوں گے۔

دوسری جانب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بعض چشم کشا معروضات پیش کیں اور پاناما کیس فیصلہ کے وسیع تر تناظر میں سیاست دانوں اور ماہرین قانون سمیت پوری سول سوسائٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ٍکہ پوری دنیا میں عدالتی فیصلوں میں اختلافی نوٹ لکھے جاتے ہیں لیکن ایسا کہیں نہیں ہوتا جیسا پاناما لیکس کے فیصلے کے بعد پاکستان میں ہو رہا ہے۔

اس ایک فقرے کے کوزے میں فاضل منصف اعلیٰ نے ملکی سیاست میں رائج دریدہ دہنی اور دشنام طرازی کا پورا دریا بند کردیا۔ اس بیان میں درد کی جو کسک ہے اسے پیچیدہ قانونی موشگافیوں اور عدالتی دلائل وبراہین سے واقف قانونی و آئینی ماہرین ہی جانتے ہیں، خیال رہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بنچ نے اگرچہ بنی گالہ میں تجاوزات کے بارے میں ازخود نوٹس کی سماعت کی اور اس دوران تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے تاہم چیف جسٹس نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا وہ در اصل اہل سیاست کے لیے چشم کشا معروضات تھیں جن میں حکومت اور اپوزیشن کو باور کرایا گیا کہ اختلاف رائے آزادی اظہار کا طرہ امتیاز ضرور ہے مگر ذاتیات پر مبنی جس سفلی نوعیت کی دل آزار مہم جوئی شروع ہوئی ہے اور ممکنہ سیاسی تبدیلی یا کرپشن سے پاک طرز حکمرانی کے جن دعوؤں سے فضا بوجھل ہے وہ فریب نظر ہی رہے گی اگر سیاست دان ٹھوس انتخابی منشور سے گریز پائی اختیار کرتے اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہے۔


ایسا افسوس ناک سیاسی طرز عمل اور جلسوں جلوسوں مین الزامات، کردار کشی اور گھڑے مردے اکھیڑنے کی ریسلنگ بے قابو ہوئی تو جمہوریت سب سے بڑی ''کیژولٹی'' ہوگی جب کہ آنے والے دنوں میں بڑی بھاری ذمے داری سیاسی جماعتوں پر آپڑنے والی ہے، ابھی جے آئی ٹی نے تحقیقات کا آغاز کرنا ہے ، دو ماہ اس اعصاب شکن عمل میں گزریں گے ، سیاست دان جلسے کریں ،مگر قانون کو بھی اپنا راستہ بنانے دیں، منفی حربوں اور ذاتی حملوں سے اجتناب کریں، جمہوری ریاستوں کی اساس آزاد عدلیہ ، جمہوری سوچ ، رواداری اور اختلاف رائے کے احترام پر استوار ہوتی ہے، جن دو بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ قول فیصل کی طرح ہیں، سیاست کو بہر حال عدلیہ سے دور رکھنا ہی ملکی مفاد میں ہے۔

چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے سربراہ سے جو کچھ کہا اس کا اطلاق آفاقیت کا متقاضی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ قوم کے رہنما ہونے کی وجہ سے آپ سمیت تمام سیاستدانوںکی ذمے داری ہے کہ عدالتوں کا احترام یقینی بنائیں۔کیا اس اپیل میں کچھ کمی ہے؟ منصف اعلیٰ کے مطابق میڈیا میں جو کچھ ہو رہا ہے سب کے سامنے ہے، لوگ قانون سمجھتے نہیں اور میڈیا پر تبصرے کرتے ہیں۔ عدالت کا عزت و احترام ختم نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ایسے لیڈرز کی ضرورت ہے جن کا صرف یہ مقصد ہونا چاہیے کہ قوم کو آگے لے کر بڑھنا ہے۔

ملکی سیاست میں پاناما کیس کا فیصلہ دور رس نتائج کا حامل ہے ۔ پاناما کیس کا فیصلہ رکے ہوئے پانی میں وزنی پتھر کی طرح گرا ہے، یہ ارتعاش طرز حکمرانی میں بنیادی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ۔یہی راستہ سلامتی اور دانشمندی کا راستہ ہے۔ دعا ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ سیاست دانوں کی اجتماعی سرخروئی کا سبب بنے تاکہ وہ فخر سے کہہ سکیں کہ

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
Load Next Story