جمیکا کرکٹ ٹیسٹ پاکستان کی شاندار فتح
وہ مشاق کھلاڑی جو ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکے ہیں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے
کنگسٹن جمیکا میں کھیلے جانے والی ٹیسٹ کرکٹ سیریز میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو 7وکٹوں سے ہرا کر شاندار کامیابی حاصل کرلی، اس جیت کے ساتھ ہی گرین کیپس کو سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔ میچ کی سب سے اہم بات یہ رہی کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم دوسری اننگز میں صرف 152 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور پاکستان کو فتح کے لیے صرف 32 رنز کا ہدف ملا جو کہ اب تک دوسری اننگز میں جیت کے لیے پاکستان کا سب سے کم ہدف ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم بتدریج ٹیسٹ اور ون ڈے میچز میں اپنی کارکردگی بہتر بناتی جا رہی ہے جو کہ ٹیم کی مشترکہ کاوشوں، کوچ کی محنت اور شاندار کپتانی کا مشترکہ ثمر ہے۔ بے شک کرکٹ بائی چانس ہے لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم جس تندہی اور لگن کے ساتھ اپنے اوپر لگے الزامات صاف کرنے میں مصروف عمل ہے اس کے تناظر میں آیندہ ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم بہتر اور مستحکم پوزیشن پر نظر آتی ہے۔
جمیکا ٹیسٹ میں کپتان مصباح الحق اپنی ٹیسٹ لائف کے آخری میچز کھیل رہے ہیں جب کہ یونس خان بھی کرکٹ کی دنیا میں 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے کے ساتھ ہی اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکے ہیں۔ واضح رہے کہ کپتان مصباح الحق کی قیادت میں یہ 25 ویں فتح ثابت ہوئی۔ کپتان نے حالیہ فتح کو ساتھیوں کی جانب سے تحفہ قرار دیا ہے۔
بلاشبہ عامر اور یاسر شاہ نے کنڈیشنز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا جب کہ اسپنر نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ ٹیم کو سیریز جتوانا چاہتے ہیں۔ کسی بھی کھیل میں جیت کے لیے جس جذبہ اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں میں یہ جذبات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ لیکن ٹیم سے سینئر اور مشاق کھلاڑیوں کے جانے کے بعد جو خلا پیدا ہونے والا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اسے پر کرنے کے لیے ابھی سے لائحہ عمل طے کرنا ہوگا، یہ حقیقت ہے کہ نئے ٹیلنٹ کو موقع دیے بغیر کامیابی کی راہیں مستقل ہموار نہیں کی جا سکتیں۔
وہ مشاق کھلاڑی جو ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکے ہیں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور نئے لوگوں کو ٹریننگ فراہم کی جائے۔ پاکستان کی حالیہ فتوحات کو دیکھتے ہوئے قوم پرامید ہے کہ کرکٹ ٹیم آیندہ ورلڈ کپ میں بھی ایسی ہی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم بتدریج ٹیسٹ اور ون ڈے میچز میں اپنی کارکردگی بہتر بناتی جا رہی ہے جو کہ ٹیم کی مشترکہ کاوشوں، کوچ کی محنت اور شاندار کپتانی کا مشترکہ ثمر ہے۔ بے شک کرکٹ بائی چانس ہے لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم جس تندہی اور لگن کے ساتھ اپنے اوپر لگے الزامات صاف کرنے میں مصروف عمل ہے اس کے تناظر میں آیندہ ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم بہتر اور مستحکم پوزیشن پر نظر آتی ہے۔
جمیکا ٹیسٹ میں کپتان مصباح الحق اپنی ٹیسٹ لائف کے آخری میچز کھیل رہے ہیں جب کہ یونس خان بھی کرکٹ کی دنیا میں 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے کے ساتھ ہی اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکے ہیں۔ واضح رہے کہ کپتان مصباح الحق کی قیادت میں یہ 25 ویں فتح ثابت ہوئی۔ کپتان نے حالیہ فتح کو ساتھیوں کی جانب سے تحفہ قرار دیا ہے۔
بلاشبہ عامر اور یاسر شاہ نے کنڈیشنز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا جب کہ اسپنر نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ ٹیم کو سیریز جتوانا چاہتے ہیں۔ کسی بھی کھیل میں جیت کے لیے جس جذبہ اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں میں یہ جذبات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ لیکن ٹیم سے سینئر اور مشاق کھلاڑیوں کے جانے کے بعد جو خلا پیدا ہونے والا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اسے پر کرنے کے لیے ابھی سے لائحہ عمل طے کرنا ہوگا، یہ حقیقت ہے کہ نئے ٹیلنٹ کو موقع دیے بغیر کامیابی کی راہیں مستقل ہموار نہیں کی جا سکتیں۔
وہ مشاق کھلاڑی جو ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکے ہیں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور نئے لوگوں کو ٹریننگ فراہم کی جائے۔ پاکستان کی حالیہ فتوحات کو دیکھتے ہوئے قوم پرامید ہے کہ کرکٹ ٹیم آیندہ ورلڈ کپ میں بھی ایسی ہی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔