کرم ایجنسی سانحہ کراچی میں رینجرز آپریشن

کراچی میں دہشتگرد پھر سے فعال ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں

۔ فوٹو : آن لائن

کرم ایجنسی کے علاقہ گودر کے قریب سڑک کنارے ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں مسافر وین میں سوار پانچ خواتین اور چار بچوں سمیت 14 افراد جاںبحق اور 9زخمی ہوگئے، ادھرآئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں اردو بازار کے قریب مارے جانے والے چاروں دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم جند اﷲ سے تھا اور مارے جانے والے دہشت گردوں کی شناخت زاہد آفریدی عرف فہیم عرف حمید ، محمد حفیظ اﷲ ، ماما اور خاتون افشاں کے نام سے ہوئی۔ شدید زخمیوں کو خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کردیا گیا۔

منگل کو رونما ہونے والے ان دونوں واقعات کے پیچھے دہشتگرد نیٹ ورک کی اچانک فعالیت خالی از علت نہیں ہے ، یہ ''بدی کے محور'' کے از سر نو متحرک ہونے کا شاخسانہ ہے، جس سے غافل ہونے کا ملک اور سیکیورٹی فورسز متحمل نہیں ہوسکتیں، طالبان کا اصل چہرہ ان کے منحرف رہنما احسان اللہ احسان کے اعترافات میں جھلکتا ہے۔ ارباب اختیار اور ملکی سلامتی پر مامور مسلح افواج ، رینجرز، پولیس اور خفیہ اداروں کو معلوم ہے کہ دشمن محور میں شامل عناصر کن عزائم کے ساتھ پاکستان کے خلاف تزویراتی گٹھ جوڑ کیے ہوئے ہیں۔

متحدہ کی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیمیں شہر قائد میں سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ادھر بھارت اور افغانستان اس محور سے الگ نہیں ہوسکتے جب کہ ان کی کوشش ہے کہ ایران پاکستان کے تعلقات کو بھی محور کی مذموم سرگرمیوں کے ذریعے زہر آلود کیا جائے اور جنداللہ کے فراریوں کی کراچی آمد اسی حکمت عملی کی ایک کڑی ہے۔

جنداللہ اس سے پہلے بھی کراچی میں فورسز کو نشانہ بنا چکی ہے، کراچی میں عشروں پہلے امان اللہ مبارکی نے ون مین آرمی کے طور پر دہشتگردی کی تھی اور مارا گیا تھا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں پریڈی تھانہ کے علاقہ اردو بازار کے قریب مارے جانے والے چاروں دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم جند اﷲ سے تھا۔

خبر کے مطابق مارے جانے والے دہشت گرد مارچ 2015ء میں اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کی بس پر فائرنگ اور بم حملے میں ملوث تھے جس میں 2 پولیس اہلکار جاں بحق جب کہ 15 زخمی ہوئے تھے، دہشت گرد سٹی کورٹ میں دستی بم حملے اور فائرنگ میں بھی ملوث رہے ہیں اور اس حملے کے دوران 4 دہشت گردوں کو چھڑا کر لے گئے تھے ، 2013ء میں 15 سے 20 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا تھا جو اہل تشیع تھے جب کہ دہشت گردوں نے مسجد ابوہریرہ پر تعینات رینجرز کی گاڑی پر حملہ کر کے رینجرز کے 4 اہلکاروں کو بھی شہید کیا تھا جب کہ 30 نومبر 2011کو ناظم آباد جب کہ 14 نومبر 2008ء میں ماڑی پور کے علاقے میں بینک ڈکیتی کی واردات میں فائرنگ سے 2 افراد کو ہلاک کیا تھا اور دونوں وارداتوں میں ایک کروڑ روپے سے زائد رقم لوٹی تھی ، دہشت گردوں نے اگست 2014 میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن عجب خان کو اغوا کر کے 10.5 ملین تاوان وصول کیا تھا جب کہ 2015 میں کراچی سینٹرل جیل میں سرنگ بنانے کی کوشش اور حملے کی منصوبہ بندی میں بھی شامل تھے ۔ اردو بازار میں چھاپہ طالبان کے گرفتار دہشتگرد بلال منصور کی نشاندہی پر مارا گیا تھا۔


بلاشبہ کراچی ، خیبر پختونخوا ، بلوچستان کی صورتحال تقاضہ کرتی ہے کہ فاٹا سمیت وڈھ ، سوئی ، بگٹی ، مری تربت ، پشین ، کچلاک و دیگر علاقوں میں سرچ آپریشن سے دہشتگرد سراسیمہ ہوکر ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں ، پشین اور وڈھ سے بھاگے ہوئے دہشتگرد کراچی آ گئے ہیں اور اسی دوران وارداتیں کر کے اپنے وجود کا بزدلانہ احساس دلا رہے ہیں۔

ایک طرف دہشتگردوں نے اسٹبلشمنٹ کو الرٹ کردیا ہے کہ وہ ریاستی اقدامات کے خلاف اپنے ردعمل کا اظہار جوابی تخریب کاری اور دہشتگردی کے واقعات کی شکل میں کرنے پر تلے ہوئے ہیں جب کہ بلوچستان میں فورسز کے شدید سرچ آپریشن سے بوکھلاہٹ کا شکار مختلف فراری یونٹ روپوش ہونے لگے ہیں۔

کرم ایجنسی کا سانحہ انسانیت سوز قرار دیے جانے کے قابل ہے کہ جس میں معصوم بچوں اور خواتین تک پر رحم نہیں کیا گیا اور مسافر کوچ کو نشانہ بناکر سیکیورٹی فورسز کو یہ گھناؤنا پیغام دیا گیا کہ ان کی لڑائی اور مزاحمت کی بنیاد نظریاتی اور ریاستی قوتوں سے جائز کاز کے لیے نہیں بلکہ انھوں ثابت کردیا کہ وہ کرائے کے قاتل ہیں، جن کا مقصد اللہ کی زمین پر فساد پھیلانے کے مذموم ایجنڈہ کو مکمل کرنا ہے، وہ بزدلانہ حملے کرکے صرف انسانیت کا خون کرتے ہیں ، یہ ریڈیکل اسلام کی بھی توہین کرتے ہیں، ماسوائے خطے کے امن کو تباہ کرنے اور اپنے ملکی سہولت کاروں اور غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے ان کا کوئی مقدس مشن نہیں۔

یہ لوگ پاکستان کی ریاستی رٹ کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، دوسری جانب کراچی میں دہشتگرد پھر سے فعال ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اس نیٹ ورک کو بلوچستان میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں سے چڑ ہے۔ ضرورت ان عناصر کے خاتمہ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی جیسے موثر میکنزم کی ہے۔

 
Load Next Story