آئندہ بجٹ میں حکومت کا زرعی انشورنس پریمیئم سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ

چھوٹے کاشتکاروں کوکراپ کیلیے ڈیڑھ ارب، لائیو اسٹاک کے تحت 50کروڑبجٹری سپورٹ کی مد میں دیے جائیں گے

چھوٹے کاشتکاروں کوکراپ کیلیے ڈیڑھ ارب، لائیو اسٹاک کے تحت 50کروڑبجٹری سپورٹ کی مد میں دیے جائیں گے۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2017-18 کے وفاقی بجٹ میں بھی بجٹری سپورٹ کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو 5 بڑی فصلوں اور لائیواسٹاک کے لیے لون انشورنس پریمیئم سبسڈی کی ادائیگی جاری رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)کی تجویز پرآئندہ مالی سال2017-18 کے وفاقی بجٹ میں 5 بڑی فصلوں اور لائیواسٹاک کے لیے قرضوں کے انشورنس پریمئم سبسڈی کے لیے 2 ارب روپے سے زائد کے فنڈز مختص کیے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران چھوٹے کاشتکاروں کوکراپ لون انشورنس پریمیئم سبسڈی کی ادائیگی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے جبکہ لائیواسٹاک لون انشورنس پریمیئم سبسڈی کی ادائیگی کے لیے 50 کروڑ روپے کی بجٹری سپورٹ کی مد میں فراہم کیے جائیں گے۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے 2008 میں کراپ لون انشورنس اسکیم متعارف کروائی گئی تھی اور موجودہ حکومت نے مالی سال 2014-15 میں کراپ لون انشورنس اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسے25 ایکڑ تک زرعی اراضی رکھنے والے کاشتکاروں کو بھی اس اسکیم کے تحت فصلوںکے لیے لون انشورنس پریمیئم کے اہل قراردیا گیا ہے۔


علاوہ ازیں تمام کاشتکار 5 بڑی فصلوں کی کاشت وپیداوار کے لیے قرضے حاصل کررہے ہیں اور اس اسکیم کے لیے اڑھائی ارب روپے رکھے گئے تھے اور اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 38 لاکھ 82ہزار چھوٹے کاشتکاروں نے فائدہ اٹھایا اورچھوٹے کاشتکاروں کی جانب سے جون 2016 تک مجموعی طور پر43 لاکھ 53ہزار روپے مالیت کے انشورنس پریمیئم کلیمز حاصل کیے گئے ہیں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حکومت کی جانب سے بجٹ میں اعلان کردہ پیرا میٹرز کے مطابق اس اسکیم پر کامیابی کے ساتھ عملدرآمد کیا ہے اور گزشتہ مالی سال کے تجربے اور اس سے حاصل ہونے وایی نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تجویز دی ہے کہ آئندہ مالی سال 2017-18کے وفاقی بجٹ میں بھی کراپ لون انشورنس پریمیئم سبسڈی اسکیم جاری رکھی جائے اور چھوٹے کاشتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کراپ لون انشورنس اسکیم کے لیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کیے جائیں۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چھوٹے لائیواسٹاک کاشتکاروں کے نقصانات کے امکانات کو کم سے کم کرنے کے لیے انشورنس کمپنیوں، ایس ای سی پی، صوبائی لائیواسٹاک ڈپارٹمنٹس، بینکوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تعاوب سے لائیواسٹاک لون انشورنس اسکیم متعارف کروائی ہے جو کہ لائیواسٹاک کے شعبے کے لیے قرض کے حصول کے خواہاں کاشتکاروں کے فائدے کے لیے ہے اور اس اسکیم کے تحت چھوٹے لائیواسٹاک کاشتکاروں کی سہولت و فائدے کے لیے 10جانور رکھنے والے لائیواسٹاک کاشتکاروں کے پریمیئم کی مد میں اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے اور اس اسکیم کے تحت مالی سال 2014-15کے دوران حکوت نے 30کروڑ روپے مختص کیے تھے اور اس اسکیم کے تحت موسمی اثرات، ڈیزاسٹر، سیلاب یا بیماریوں کی وجہ سے جانوروں کے مرنے پر کاشتکاروں کو انشورنس کلیمز ملتے ہیں اور اس اسکیم کے لیے بھی پیرامیٹرز حکومت نے متعین کیے تھے جن کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عملدرآمد کروایا اور اب اسٹیٹ بینک نے تجویز دی ہے کہ آئندہ مالی سال 2017-18 کے وفاقی بجٹ میں بھی یہ اسکیم جاری رکھی جائے اور اس اسکیم کے لیے اگلے بجٹ میں 50کروڑ روپے مختص کیے جائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تجاویز سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے انہیں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حصہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

 
Load Next Story