مہنگے قرضوں کا معاہدہ

مسلم لیگ ن کے دور اقتدار میں ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے

، فوٹو؛ فائل

اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر ملکی بینکوں سے دو ارب ڈالر کا مہنگا قرضہ لینے کے لیے معاہدہ کیا ہے تاہم بینکوں نے کمرشل قرض کی فراہمی کے لیے سود کی رقم پر عائد ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کی شرط رکھ دی ہے لہٰذا حکومت نے اس شرط کو تسلیم کرتے ہوئے سمری تیار کرکے وفاقی کابینہ کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب تو یہ حکومتی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں کہ حکومت مشروط طور پر مہنگے قرضے لینے پر کیوں مجبور ہوئی لیکن معاشی ماہرین اس معاہدے سے یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ حکومت اس وقت شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پر مالی دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے' غیرملکی مالیاتی ادارے اس تمام صورت حال اور حکومت کی مجبوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں لہٰذا انھوں نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی شرائط پر قرضے دینے کی حامی بھری ہے۔


عام آدمی حکومت کی مالی پریشانیوں اور معاشی اعدادوشمار کی گنجلک کا ادراک نہیں رکھتا وہ تو یہ دیکھتا ہے کہ حکومت ملک چلانے کے لیے بہتر سے بہتر کیا اقتصادی اور معاشی نظام لا رہی ہے اور اس کی زندگی میں اس کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سیاسی سطح پر جائزہ لیا جائے تو موجودہ حکمران جماعت نے انتخابات کے دوران یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ وہ ملک کا مالیاتی نظام اتنے بہتر انداز میں چلائے گی کہ اسے غیرملکی قرضے لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی بلکہ وہ قرضوں کے اس کشکول کو جلد از جلد توڑ دے گی اور وہ ملک کا معاشی نظام اس قدر مستحکم بنا دے گی کہ قرض لینے کے عذاب سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی۔

اب مسلم لیگ ن کو حکومت سنبھالے چار سال کا عرصہ گزر چکا ہے اتنے عرصے میں وہ کوئی ایسا نظام نہیں لا سکی جس سے غیرملکی قرضوں کے حصول سے نجات مل سکے بلکہ اس کے دور اقتدار میں ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور ان میں بتدریج افزونی کا رجحان غالب نظر آتا ہے۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ حکومت غیرملکی قرضوں کے حصول سے اجتناب تو کیا کرتی وہ اب مہنگے داموں قرضے لینے پر مجبور ہو گئی۔


یہ صورت حال اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حکومت کے معاشی حالات درست سمت میں نہیں جا رہے' اگر یہی پالیسی جاری رہی تو اغلب گمان ہے کہ مستقبل میں بھی معاملات میں بہتری نہیں آئے گی اور حکومت کو معاشی و مالی مشکلات کا سامنا رہے گا اور غیر ملکی مالیاتی ادارے اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرضے دیتے وقت کڑی سے کڑی شرائط عائد کریں گے۔

 
Load Next Story