اولاد کو قتل کرکے خودکشی کا المناک سانحہ

ملک بھر میں والدین کا اپنے معصوم بچوں کو قتل کرنا اور پھر خود کو مار لینے کا بڑھتا ہوا رجحان جہاں انتہائی افسوسناک ہے

، فوٹو: فائل

ملک بھر میں والدین کا اپنے معصوم بچوں کو قتل کرنا اور پھر خود کو مار لینے کا بڑھتا ہوا رجحان جہاں انتہائی افسوسناک ہے وہاں وہ گھریلو' معاشرتی مسائل اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری کا درد ناک منظر بھی پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ حالات سے مایوس ہو کر خود کشی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔

اخبارات میں تقریباً روزانہ ایسی خبریں شایع ہوتی رہتی ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حالات سے تنگ افراد مایوسی کے گرداب میں پھنس کر آخری حل اپنی زندگی کے خاتمے ہی میں تلاش کرتے ہیںیا پھر ذہنی توازن کھو کر اپنے بچوں تک کی جان لے لیتے ہیں۔ گزشتہ روز پنجاب کے ضلع لیہ میں ایک شخص نے گھریلو حالات سے دلبرداشتہ ہو کر اپنے پانچ بچوں کو زہر دے کر خود کشی کر لی۔


ادھر بہاولپور میں ایک خاتون نے بھی گھریلو جھگڑے پر اپنے تین بچوں کو زہر دے کر خودکشی کر لی۔ اپنی یا اپنی اولاد کی زندگی جیسی نعمت ختم کرنا اتنا آسان نہیں مگر بعض افراد ایسا بھیانک قدم بھی اٹھا لیتے ہیں' یہ رجحان معاشرتی ناہمواری' شدید مایوسی' شدید غصے یا نفرت کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ معاشی مسائل اور غربت نے بھی گھریلو جھگڑوں ، ذہنی اور نفسیاتی عوارض میں اضافہ کیا ہے ۔بدقسمتی سے ارباب اختیار کی اس جانب توجہ ہے اور نہ ہی اہل علم ، علماء کرام اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔

امتحانات میں ناکامی پر کسی طالب علم کے خود کشی کرنے کے فعل کے پس منظر میں عموماً والدین کا سخت گیر رویہ ہی ہوتا ہے۔ اہل علم، علماء کرام اور میڈیا پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہریوں میں صبر و تحمل' رواداری اور مصیبتوں سے نمٹنے کے لیے جرات و حوصلے سے کام لینے کی تلقین کریں اور شہریوں کو یہ شعور دیا جائے کہ وہ اپنے گھریلو مسائل لڑ جھگڑ کر بڑھانے کے بجائے باہمی افہام و تفہیم سے انھیں حل کریں۔
Load Next Story