دہشت گردی پاک افغان تعاون ناگزیر
افغانستان کی حکومت کو پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے معاملے پر بھی پاکستان کے موقف کی تائید کرنا چاہیے
، فوٹو؛ آئی ایس پی آر
افغانستان اور پاکستان کے حالات اور باہمی تعلقات سب کے سامنے ہیں' دونوں ملکوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے' پچھلے دنوں افغانستان میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے ہیں۔
افغانستان میں جب دہشت گردی کی واردات ہوتی ہے تو افغان حکام پاکستان کی جانب انگلی اٹھاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد پاکستان کے قبائلی علاقوں سے آئے ہیں جب کہ پاکستان میں پچھلے دنوں دہشت گردی کی جو وارداتیں ہوئیں' ان میں خود کش حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا' اس صورت حال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کھلی ہے اور اس سرحد پر متعدد کراسنگ پوائنٹس ہیںاور لوگ بلاروک ٹوک دونوں ملکوں میں آ جا رہے ہیں۔
ماضی میں پاکستان نے کبھی اس سرحد کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کی جب کہ افغانستان نے بھی اسے کھلا چھوڑے رکھا' اس کوتاہی یا سستی کے نتیجے میں اس سرحد کے آر پار آنا جانا انتہائی آسان رہا' اس رجحان کے باعث پاکستان کے لیے مسائل زیادہ پیدا ہوئے کیونکہ افغانستان میں غربت اور پسماندگی سے اکتا کرروز گار کی تلاش میں سرحد پار کر کے پاکستان آنا تو برسوں سے جاری تھا لیکن افغانستان میں سوویت فوجوں کی آمد کے بعد اور پھر وہاں مجاہدین کے گروہوں کی باہمی لڑائیوں اور پھر طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں افغان باشندے پاکستان میں داخل ہونے لگے' اس صورت حال نے افغانستان کے لیے تو نہیں لیکن پاکستان کے لیے سنگین مسائل پیدا کیے' ان مسائل میں دہشت گردی سرفہرست ہے' پاکستان میں دہشت گردی کی اکثر وارداتوں میں پاکستان میں موجود افغان باشندے آلہ کار یا سہولت بنے' ان لوگوں نے بعض مقامی افراد کو بھی اپنا آلہ کار بنایا۔
یوں پاکستان بدترین دہشت گردی کا شکار ہو گیا' جرائم اور باہمی منافرتوں میں اضافہ ہوا اور اقتصادیات پر بوجھ بڑھنے لگا' ان حقائق نے پاکستان کو مجبور کر دیا کہ پاک افغان سرحد کو کھلا رکھنا پاکستان کے مفاد میں نہیں' یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے اصلاحات اٹھائے جا رہے ہیںجووقت کا تقاضا ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مفاہمت نہیں کی جانی چاہیے۔
اب پاک فوج کا ایک وفد افغانستان گیا ہے' یہ وفد چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کی قیادت میں گیا ہے' گزشتہ روز اس وفد نے افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع طارق شاہ بہرامی اور افغان آرمی چیف جنرل محمد شریف یفتالی سے ملاقات کی۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق پاک فوج کے وفد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے افغانستان میں مزار شریف حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت اور افغان فورسز و عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا جب کہ وفد نے حملے میں زخمی ہونے والوں کے لیے پاکستان میں مفت علاج کی پیشکش بھی کی ،ملاقات کے دوران پاکستان اور افغانستان کے فوجی حکام نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر افغانستان کے فوجی حکام نے کہا کہ افغان فورسز نے پاک افغان بارڈر پر اپنی طرف دہشت گردوں پر مکمل کنٹرول پا لیا ہے اُمید ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا ، دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں دونوں ممالک کو ان کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا ،دونوں ممالک نے بارڈر منیجمنٹ بہتر کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے وفد نے افغان حکام کو یقین دلایا کہ پاکستانی سرحدوں پر پاک فوج نے بھی مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاک فوج کے وفد نے دہشت گردوں کو مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے انھیں شکست دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے حوالے سے جو شکوک و شبہات اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد پایا جاتا ہے ' اسے دور کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ افغان حکام کا یہ کہنا کہ انھوں نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں پر کنٹرول پا لیا ہے اور اس کے جواب میں پاکستان کی جانب سے بھی ایسے خیالات کا اظہار خوش آیند پیش رفت ہے۔
افغانستان کی حکومت کو پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے معاملے پر بھی پاکستان کے موقف کی تائید کرنا چاہیے۔ پاک افغان سرحد جتنی زیادہ محفوظ ہو گی دہشت گرد اتنے ہی زیادہ کمزور ہوں گے۔ تبدیل ہوتے ہوئے حالات کا تقاضا یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت پاکستان میں موجود افغان مہاجرین اور دیگر افغان باشندوں کی وطن واپسی کے لیے اقدامات اٹھائے۔دونوں ملک دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کریں تو اس سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔
افغانستان میں جب دہشت گردی کی واردات ہوتی ہے تو افغان حکام پاکستان کی جانب انگلی اٹھاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد پاکستان کے قبائلی علاقوں سے آئے ہیں جب کہ پاکستان میں پچھلے دنوں دہشت گردی کی جو وارداتیں ہوئیں' ان میں خود کش حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا' اس صورت حال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کھلی ہے اور اس سرحد پر متعدد کراسنگ پوائنٹس ہیںاور لوگ بلاروک ٹوک دونوں ملکوں میں آ جا رہے ہیں۔
ماضی میں پاکستان نے کبھی اس سرحد کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کی جب کہ افغانستان نے بھی اسے کھلا چھوڑے رکھا' اس کوتاہی یا سستی کے نتیجے میں اس سرحد کے آر پار آنا جانا انتہائی آسان رہا' اس رجحان کے باعث پاکستان کے لیے مسائل زیادہ پیدا ہوئے کیونکہ افغانستان میں غربت اور پسماندگی سے اکتا کرروز گار کی تلاش میں سرحد پار کر کے پاکستان آنا تو برسوں سے جاری تھا لیکن افغانستان میں سوویت فوجوں کی آمد کے بعد اور پھر وہاں مجاہدین کے گروہوں کی باہمی لڑائیوں اور پھر طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں افغان باشندے پاکستان میں داخل ہونے لگے' اس صورت حال نے افغانستان کے لیے تو نہیں لیکن پاکستان کے لیے سنگین مسائل پیدا کیے' ان مسائل میں دہشت گردی سرفہرست ہے' پاکستان میں دہشت گردی کی اکثر وارداتوں میں پاکستان میں موجود افغان باشندے آلہ کار یا سہولت بنے' ان لوگوں نے بعض مقامی افراد کو بھی اپنا آلہ کار بنایا۔
یوں پاکستان بدترین دہشت گردی کا شکار ہو گیا' جرائم اور باہمی منافرتوں میں اضافہ ہوا اور اقتصادیات پر بوجھ بڑھنے لگا' ان حقائق نے پاکستان کو مجبور کر دیا کہ پاک افغان سرحد کو کھلا رکھنا پاکستان کے مفاد میں نہیں' یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے اصلاحات اٹھائے جا رہے ہیںجووقت کا تقاضا ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مفاہمت نہیں کی جانی چاہیے۔
اب پاک فوج کا ایک وفد افغانستان گیا ہے' یہ وفد چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کی قیادت میں گیا ہے' گزشتہ روز اس وفد نے افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع طارق شاہ بہرامی اور افغان آرمی چیف جنرل محمد شریف یفتالی سے ملاقات کی۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق پاک فوج کے وفد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے افغانستان میں مزار شریف حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت اور افغان فورسز و عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا جب کہ وفد نے حملے میں زخمی ہونے والوں کے لیے پاکستان میں مفت علاج کی پیشکش بھی کی ،ملاقات کے دوران پاکستان اور افغانستان کے فوجی حکام نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر افغانستان کے فوجی حکام نے کہا کہ افغان فورسز نے پاک افغان بارڈر پر اپنی طرف دہشت گردوں پر مکمل کنٹرول پا لیا ہے اُمید ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا ، دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں دونوں ممالک کو ان کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا ،دونوں ممالک نے بارڈر منیجمنٹ بہتر کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے وفد نے افغان حکام کو یقین دلایا کہ پاکستانی سرحدوں پر پاک فوج نے بھی مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاک فوج کے وفد نے دہشت گردوں کو مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے انھیں شکست دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے حوالے سے جو شکوک و شبہات اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد پایا جاتا ہے ' اسے دور کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ افغان حکام کا یہ کہنا کہ انھوں نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں پر کنٹرول پا لیا ہے اور اس کے جواب میں پاکستان کی جانب سے بھی ایسے خیالات کا اظہار خوش آیند پیش رفت ہے۔
افغانستان کی حکومت کو پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے معاملے پر بھی پاکستان کے موقف کی تائید کرنا چاہیے۔ پاک افغان سرحد جتنی زیادہ محفوظ ہو گی دہشت گرد اتنے ہی زیادہ کمزور ہوں گے۔ تبدیل ہوتے ہوئے حالات کا تقاضا یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت پاکستان میں موجود افغان مہاجرین اور دیگر افغان باشندوں کی وطن واپسی کے لیے اقدامات اٹھائے۔دونوں ملک دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کریں تو اس سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔