شام میں کشیدگی جاری اپوزیشن کو ہتھیار ڈال کر مذاکرات کی دعوت

دمشق کےمضافات میں درعا اوردیگرقصبوں ودیہات کوشدیدبمباری کانشانہ بنایا گیا، صدر کی والدہ اپنی بیٹی کے پاس ہیں، ذرائع.

استنبول میں اپوزیشن گروپوں کا اجلاس، نئے شامی وزیراعظم کیلیے ناموں پرغورکیاگیا، 28 جنوری کوپیرس اجلاس میں اعلان کیا جائیگا۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
شام میں جاری تشددمیں اتوارکوبھی ایک ہی خاندان کے 5 افرادسمیت9 افراد ہلاک ہوگئے۔

سرکاری طیاروں نے دارالحکومت کے مضافات میں درعا اوردیگرقصبوں ودیہات کو شدید بمباری کانشانہ بنایا۔ ادھرصدربشارالاسدکی والدہ انیسہ مخلف بھی دمشق سے دبئی پہنچ گئی ہیں اوروہاں اپنی بیٹی کے پاس مقیم ہیں۔شامی اپوزیشن کا اتوارکواستنبول میں اجلاس میں جس میں ملک کے نئے وزیر اعظم کے ناموں پرغورکیاگیا۔ان میں سابق وزیراعظم ریاض حجاب کانام بھی زیرغورآیالیکن اس پراتفاق نہیں ہوسکا۔ اپوزیشن گروپ 28 جنوری کوپیرس اجلاس میں نئے وزیراعظم کا اعلان کرینگے۔شامی وزیرخارجہ ولیدمعلم صدر بشارالاسد کے بغیرکسی عبوری حکومت کی تشکیل کومستردکرچکے ہیں۔




ادھر شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے ملک کی حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر ایک نئی حکومت کی تشکیل پر بات چیت میں شامل ہوں۔ حزب اختلاف کا کوئی بھی گروپ غیر ملکی مداخلت کو مسترد کر کے نئی کابینہ کا حصہ بن سکتا ہے۔وزیر خارجہ ولید المعلم نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت کرنا قابل قبول نہیں ہے۔ دریں اثنا فرانسیسی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی فورسز نے گزشتہ ماہ حمص میں غیرمہلک کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔ مغربی ملکوں نے اس امید پر یہ واقعہ نظر انداز کر دیا تھا کہ یہ دہرایا نہیں جائے گا۔ ذرائع کے مطابق شام میں دو صحافی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
Load Next Story