بی جے پی اور شیو سینا دہشت گردی کے کیمپ چلا رہی ہیں بھارتی وزیرداخلہ

سمجھوتاایکسپریس،مالیگائوں اورمدنی مسجددھماکے ہندو انتہا پسندتنظیموں نے کیے،بھارتی وزیرداخلہ

پاکستان بھارتی فوجیوںکی ہلاکت پرازخودکارروائی کرے ورنہ تعلقات متاثرہوسکتے ہیں،منموہن،بہتر تعلقات امن کیلیے ناگزیرہے،سونیا،صورتحال پرتشویش ہے،سلمان خورشید. فوٹو رائٹرز

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہاہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان نے جو غیر انسانی کام کیاہے اس سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔

کنٹرول لائن پر بھارتی فوجیوں کے قتل سے بھارت میں شدیدغم وغصہ ہے اوراسلام آبادکو چاہیے کہ اب وہ عمل سے ثابت کرے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتاہے،بھارت پاکستان کے ساتھ دوستی چاہتاہے اس سلسلے میں پاکستان کوبھی تعاون کرناچاہیے،پاکستان اگربھارت کے ساتھ دوستی چاہتاہے تولائن آف کنٹرول پربھارتی جوانوںکی ہلاکت کے ذمے داروںکوسخت سے سخت سزادیناہوگی،پاکستان کوبتادیاکہ8جنوری کوایل اوسی پرغیر انسانی اقدام کونہ روکاگیاتومستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات کوتقویت نہیں ملے گی۔

سرحدوں کی خلاف ورزی کے بعدپاکستان سے بہترتعلقات کیسے ممکن ہیں؟بھارتی میڈیاکے مطابق اتوار کو بھارتی وزیراعظم میڈیاسے گفتگوکررہے تھے ،ان کا کہناتھا کہ پڑوسیوں سے بہترتعلقات خطے میں امن کے لیے ناگزیرہیں اورہمیں پاکستان کا بطور پڑوسی ملک احترام کرنا چاہیے،ہمیں اپنی طاقت،خامیوں اور لاحق خطرات پرغورکرناچاہیے۔آن لائن کے مطابق منموہن سنگھ نے پاکستان پراپنے ایک فوجی کاسر قلم کرنے کا الزام دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعہ کے باہمی تعلقات پر منفی اثرات پڑیں گے پاکستان کو بھی دوستی کا جواب دوستی سے دینا ہوگا۔




بھارتی حکمران جماعت کانگریس کی سربراہ سونیاگاندھی نے کہاہے کہ پڑوسیوں سے بہترتعلقات خطے میں امن کیلیے ناگزیر ہے،بھارتی اپوزیشن پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اختیارنہ کرے ۔ادھربھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشیدنے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے ساتھ امن عمل دوبارہ ٹریک پرلانے کیلیے انتہائی توجہ سے غور ہو رہاہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اگے بڑھنے کیلیے ماحول بھی ساز گارہو،سرحدپرسیز فائر کی خلاف ورزی اوردوفوجیوں کی ہلاکت یقینی طورپرہمارے لیے تشویش کاباعث ہے لیکن ہم ان خلاف ورزیوں اورحالیہ سرحدی کشیدگی کوایک طرف رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ امن عمل آگے بڑھانے پرغورکررہے ہیں۔

بدقسمتی سے میڈیاپرسرحدی کشیدگی اورفوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے کچھ متضادبیانات آرہے ہیں ، میڈیا کی آزادی معاشرتی ترقی کیلیے ناگزیر ہے لیکن میڈیاکوغیر ذمے داری کامظاہرہ نہیں کرناچاہیے،لائن آف کنٹرول پر فائرنگ واقعات کے بعدپاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنزکے درمیان ہونے والے مذاکرات مثبت اشارہ تھے،دونوں ممالک کے درمیان امن عمل اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں،امیدہے کہ آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بحال ہوجائے گالیکن یہ نہیں کہاجاسکتاہے کہ اس پراسیس میں کتناوقت لگے گا۔

Recommended Stories

Load Next Story