قومی اسمبلی اجلاس کا ناتمام دورانیہآئینی بحران کاخدشہ
آئینی طورپرپارلیمانی سال کے دوران130دن ایوان زیریںکااجلاس ہرحال میںہوناچاہیے
آئینی طورپرپارلیمانی سال کے دوران130دن ایوان زیریںکااجلاس ہرحال میںہوناچاہیے فوٹو: اے پی پی/ فائل
آخری پارلیمانی سال کے 130دن پورے نہیں ہوئے، آئندہ قومی اسمبلی اجلاس کا دورانیہ شامل کرکے بھی98 دن بنتے ہیں۔
پارلیمانی سال پورا کرنے میں پھر بھی 32 دن باقی ہیں، پارلیمانی سال کے دن پورے نہ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے جس سے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ہر پارلیمانی سال کے دوران130دن قومی اسمبلی کا اجلاس ہر حال میں ہونا چاہیے جوکہ آئینی ضرورت ہے، ذرائع کے مطابق پارلیمانی کیلنڈر کے مطابق فروری کے وسط میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے مقررہ دن پورے ہونے تھے، ذرائع نے بتایا کہ آئندہ اسمبلی اجلاس کے دن ملاکر98 دن بنتے ہیں۔
اس لحاظ سے32 دن پھر بھی باقی رہتے ہیں۔ پارلیمانی سال کے130دن پورے نہ کرکے حکومت آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ جب اس حوالے سے پارلیمانی امور کے ماہر اظہار رومی سے پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ پارلیمانی سال کے130دن پورے ہونے چاہئیں، یہ آئینی تقاضا ہے۔ ادھر قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے چیف وہپ سید خورشید شاہ کاکہنا ہے کہ آخری پارلیمانی سال میں130دن پورے کرنے ضروری نہیں ہوتے اسلیے کوئی آئینی بحران نہیں ہوگا، سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔
پارلیمانی سال پورا کرنے میں پھر بھی 32 دن باقی ہیں، پارلیمانی سال کے دن پورے نہ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے جس سے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ہر پارلیمانی سال کے دوران130دن قومی اسمبلی کا اجلاس ہر حال میں ہونا چاہیے جوکہ آئینی ضرورت ہے، ذرائع کے مطابق پارلیمانی کیلنڈر کے مطابق فروری کے وسط میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے مقررہ دن پورے ہونے تھے، ذرائع نے بتایا کہ آئندہ اسمبلی اجلاس کے دن ملاکر98 دن بنتے ہیں۔
اس لحاظ سے32 دن پھر بھی باقی رہتے ہیں۔ پارلیمانی سال کے130دن پورے نہ کرکے حکومت آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ جب اس حوالے سے پارلیمانی امور کے ماہر اظہار رومی سے پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ پارلیمانی سال کے130دن پورے ہونے چاہئیں، یہ آئینی تقاضا ہے۔ ادھر قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے چیف وہپ سید خورشید شاہ کاکہنا ہے کہ آخری پارلیمانی سال میں130دن پورے کرنے ضروری نہیں ہوتے اسلیے کوئی آئینی بحران نہیں ہوگا، سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔