ٹیکس کا نظام اور با اثر طبقات

مختلف ٹرسٹ اورفلاحی اداروں کو جو رقوم ملتی ہیں ان کی جانچ پڑتال بھی ہونی چاہیے

مختلف ٹرسٹ اورفلاحی اداروں کو جو رقوم ملتی ہیں ان کی جانچ پڑتال بھی ہونی چاہیے . فوٹو : فائل

میڈیا کی ایک اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت نے آیندہ مالی سال 18-2017 کے وفاقی بجٹ میں ایزی پیسہ اور ویسٹرن یونین کے ذریعے رقوم کی مُنتقلی کو ڈاکیومنٹڈ بنانے اور ٹیکس نیٹ میں لانیکا فیصلہ کیاہے جس کے لیے آیندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں فنانس بل کے ذریعے ٹیکس قوانین میں ترامیم متعارف کروائی جائینگی۔

اس اقدام کی توضیع یہ پیش کی جا رہی ہے کہ ان ذرائع سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہورہی ہیں اورمذکورہ ذرائع سے رقوم کی منتقلی کی ڈاکیومنٹیشن سے نہ صرف ٹیکس کی مد میں ریونیو بڑھے گا بلکہ غلط مقاصد کے لیے فنانسنگ کی روک تھام بھی یقینی ہوجائیگی اور مذکورہ ذرائع سے رقوم کی منتقلی کی موثر مانیٹرنگ ہوسکے گی۔ بلاشبہ حکومت کو اپنے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل ہو سکے لیکن اس حوالے سے یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جو رقوم ان ذرایع سے منتقل ہو رہی ہیں 'کیا وہ ٹیکس دہندگان کی تو نہیں ہیں۔ کیونکہ کالا دھن تو ہنڈی کے ذریعے منتقل ہوتا ہے یا کوئی مسافر غیر ملکی کرنسی ہوائی سفر کے ذریعے بیرون ملک لے جاتا ہے۔

جہاں تک ملک کے ان شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے جو ٹیکس نہیں دے رہے اور اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان بااثر طبقات کی جانب رجوع کیا جائے جن کا معیار زندگی تو بہت بلند ہے لیکن ان کی انکم ٹیکس فائلیں یا تو موجود ہی نہیں یا وہ چند ہزار روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض طاقتور افراد اور صنعتی گروپوں نے چیریٹی ادارے کھول رکھے ہیں اور اس کی آڑ میں بھی ٹیکس بچایا جا رہا ہے۔


مختلف ٹرسٹ اورفلاحی اداروں کو جو رقوم ملتی ہیں ان کی جانچ پڑتال بھی ہونی چاہیے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ حکومت بینک ٹرانزیکشن پر بھی ٹیکس لگا رہی 'یہاں فائلرز اور نان فائلرز کا بھی مسئلہ موجود ہے۔ جن افراد کو نیشنل ٹیکس نمبر مل چکا ہے'لیکن اگر وہ نان فائلرزکی فہرست میں ہے تو اس سے بھی بینک ٹرانزیکشنز پر زائد پیسے لیے جا تے ہیں۔اسٹاک مارکیٹ میں بھی ٹیکس عائد کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور وہ اگر کسی کو کوئی کمپنی ڈیونڈ دیتی ہے تو اس پر بھی انکم ٹیکس کاٹا جاتا ہے 'یوں ٹیکسوں کا ایک گورکھ دھندا ہے۔ دوسری جانب جو لوگ خصوصاً تنخواہ دار طبقہ انکم ٹیکس کی زد میں آ گیا ہے 'اسے دیگر ٹیکس بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔اگر کوئی زائد ٹیکس ادا کرتا ہے تو اسے واپس لینے کا میکنزم بھی خاصا مشکل کام ہے۔

یہی وجہ ہے کہ لوگ ٹیکس فائل بنانے سے گھبراتے ہیں۔ ایزی پیسہ اور دیگر ذرایع سے عموماً زرمبادلہ بھیجا جاتا ہے یا اندرون ملک معمولی رقوم منتقل کی جاتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے بالادست طبقے سے اس کی دولت کے مطابق ٹیکس لینے کا میکنزم بنایا جائے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا 'فاٹا 'بلوچستان 'دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب سے انکم ٹیکس کی مد میں بہت کم رقوم جمع ہوتی ہیں' قبائلی علاقوں کے طاقتور افراد 'بڑے زمیندار 'گدی نشین'علمائے کرام' یہ وہ طبقات ہیں جن کی انکم ٹیکس فائلیں تقریباً خالی ہوتی ہیں جب کہ ان طبقات کا معیار زندگی اور طرز زندگی بڑے بڑے صنعتکاروں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔

لینڈ کروزرز اور جدید اسلحے سے لیس محافظوں کی ایک فوج ان کے ساتھ ہوتی ہے 'غیرملکی دوروں پر جانا عام سی بات ہوتی ہے 'سرکار دربار میں رسائی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کئی حضرات ایم پی اے 'ایم این اے اور وزیر تک بنتے ہیں لیکن ٹیکس اول تو ہوتا نہیں اور اگر ہو تو بہت کم ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ اصل خرابی جو ملک کے ریونیو کو متاثر کر رہی ہے۔ جو طبقے پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں انھیں مسلسل نچوڑنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
Load Next Story