بھارتی وزیر داخلہ کا اعتراف
یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ بھارت میں ہونے والے فسادات میں پاکستان نہیں بلکہ ہندو انتہاپسند تنظیمیں ملوث ہیں۔
بی جے پی اور آر ایس ایس قوم پرستی کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کر رہی ہیں، سُشیل کمارشنڈے ، فوٹو : فائل
بھارتی وزیر داخلہ سوشیل کمار شندے نے راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں حکمران جماعت کانگریس کے اجلاس سے خطاب کے دوران اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ موجود ہیں۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ اقلیتوں کے ساتھ غیرمنصفانہ سلوک اور دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کیمپوں میں ہندو انتہاپسندوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔
بی جے پی اور آر ایس ایس قوم پرستی کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کر رہی ہیں۔ ان جماعتوں کے ٹریننگ کیمپ ہندو دہشت گردی بڑھانے کا کام کر رہے ہیں۔ سوشیل کمار نے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس' مکہ مسجد بم دھماکا اور مالیگاؤں دھماکاشیوسینا اور بی جے پی کا کارنامہ ہے۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ بھارتی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے پہلی بار اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے کہ بھارت میں دہشت گرد تنظیموں کے تربیتی کیمپ ہیں اور وہ اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر حملوں میں باقاعدہ ملوث ہیں۔ اس سے قبل بھارتی ایجنسیوں اور پولیس کے لیے آسان حل یہ تھا کہ ہر دہشت گردی کا الزام پاکستان پر عائد کر کے حکومت اور عوام کے سامنے جواب دہی کے عمل سے اپنی جان بچا لی جاتی رہی۔
اس طرح بھارتی ایجنسیاں جواب دہی کے عمل سے تو بچ جاتیں مگر اس کا نقصان یہ ہوتا کہ عوامی سطح پر نفرت کا رخ انتہاپسند جماعتوں کے بجائے مسلمانوں اور پاکستان کی طرف مڑ جاتا۔ انتہاپسند جماعتیں بھی خوش تھیں کہ اس گھنائونے کھیل میں ان کی دہشت گردانہ کارروائیوں پر پردہ پڑ جاتا ہے مگر اب بھارتی وزیر داخلہ نے منافقت کا یہ پردہ چاک کرتے ہوئے علی الاعلان کہہ دیا ہے کہ ہندو انتہاپسند تنظیمیں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہیں اور ان وارداتوں کے بعد مسلمانوں اور پاکستان پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔
اب پوری دنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ بھارت کے اندر ہونے والے فسادات میں پاکستان نہیں بلکہ ہندو انتہاپسند تنظیمیں ملوث ہیں۔ اس امر میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان انتہاپسند تنظیموں کو حکومت اور سرکاری عہدوں پر فائز اپنے ہمدردوں کی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔ سرکاری پشت پناہی کے بغیر انتہاپسند تحریکیں پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ بہرحال اس کا کریڈٹ بھارتی وزیر داخلہ کو جاتا ہے کہ انھوں نے اس سچائی کو چھپانے کے بجائے جرأت اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے عوام کے سامنے پیش کر دیا کہ بھارت میں ہونے والے مسلم کش فسادات میں پاکستان نہیں' ان کے اپنے لوگ ملوث ہیں۔
بھارتی وزیر داخلہ نے یہ الزام بی جے پی سے سیاسی مخالفت کی بناء پر نہیں لگایا بلکہ فسادات اور دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اصل حقائق سے عوام کو آگاہ کیا ہے۔ ایک طرف بھارتی وزیر داخلہ سچائی سامنے لا رہے ہیں تو دوسری جانب وزیر اعظم من موہن سنگھ کہہ رہے ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان نے جو غیرانسانی کام کیا ہے اس سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ بھارت کنٹرول لائن کے واقعے کی اقوام متحدہ سے تحقیق کرانے کی پاکستان کی پیش کش کو ٹھکرا کر اس امر کو تقویت دے رہا ہے کہ سرحدی معاملات بگاڑنے میں اسی کا ہاتھ ہے۔ بھارتی حکومت اگر لائن آف کنٹرول کے معاملات کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائے تو اصل حقائق سامنے آ جائیں گے ۔
دہشت گردی خطے کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان میں بھی دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں امن وامان کی صورت حال خطرے میں ہے۔ پاکستانی حکومت دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے بھی سوشیل کمار کی طرح انتہاپسند تنظیموں کے بارے میں حقائق کو منظرعام پر لانا ہو ں گے ۔ پاک وہند کے خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں مل کر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کمیٹی تشکیل دیں تاکہ دونوں جانب دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کارروائی ممکن ہوسکے۔ ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے کیونکہ اس طرح حقیقی اور معنوی طور پر انتہاپسندوں ہی کا ایجنڈا پورا ہوتا ہے جو اس خطے میں نفرت کی آگ بھڑکا کر اپنے مذموم مقاصد پورا کرنا چاہتے ہیں۔
بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کا تحفظ وہاں کی حکومت کی ذمے داری ہے۔ اگر وہ صرف بیانات تک محدود رہتے ہوئے انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں رہتی ہے تو وہاں فسادات کا سلسلہ کبھی رکنے نہیں پائے گا۔ بی جے پی حکومت میں بھی رہ چکی ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث یہ تنظیم بھارت میں اپنا ایک خاص اثر ورسوخ رکھتی ہے۔ گجرات میں مسلم کش فسادات میں ملوث نریندر مودی دوبارہ ریاست کا وزیراعلیٰ منتخب ہو چکا ہے جو اقلیتوں کے تحفظ اور بھارت میں امن کے وجود کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ آر ایس ایس دائیں بازو کی رضاکار ہندو نیشنلسٹ تنظیم ہے۔ یہ تنظیم شروع ہی سے انتہاپسندانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ اسی تنظیم کے ایک رکن گوڈسے نے 1948ء میں مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا تھا۔ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت میں بھی یہ تنظیم پیش پیش رہی۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس نے بھارت میں مسلمانوں کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ 2002ء میں گجرات کے فسادات کے دوران بھی آر ایس ایس نے شرپسندوں میں مسلمانوں کے گھروں اور کاروباری مراکز کی باقاعدہ فہرست تقسیم کی تاکہ انھیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکے۔ اب جب بھارتی وزیر داخلہ نے یہ اعتراف کر ہی لیا ہے تو بھارتی حکومت کو صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کے ٹریننگ کیمپ بزور قوت بند کر کے ان پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگانا ہو گی۔
اگر بھارتی حکومت نے عملی اقدامات نہ اٹھائے تو انتہاپسند تنظیمیں مزید مضبوط ہوں گی اور فسادات کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا جس سے پورے خطے کا امن داؤ پر لگا رہے گا۔ پاکستان اور بھارت اگر حقیقی معنوں میں خطے میں امن چاہتے ہیں تو انھیں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔ دہشت گردوں کی فنانسنگ لائن توڑنے' حکومت اور سرکاری اداروں میں ان کے ہمدردوں کے خلاف سخت فیصلے کرنا ہوں گے ورنہ خدشہ ہے کہ انتہاپسندی اس خطے کا مستقبل بن کر اسے امن سے دور لے جانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔
بی جے پی اور آر ایس ایس قوم پرستی کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کر رہی ہیں۔ ان جماعتوں کے ٹریننگ کیمپ ہندو دہشت گردی بڑھانے کا کام کر رہے ہیں۔ سوشیل کمار نے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس' مکہ مسجد بم دھماکا اور مالیگاؤں دھماکاشیوسینا اور بی جے پی کا کارنامہ ہے۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ بھارتی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے پہلی بار اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے کہ بھارت میں دہشت گرد تنظیموں کے تربیتی کیمپ ہیں اور وہ اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر حملوں میں باقاعدہ ملوث ہیں۔ اس سے قبل بھارتی ایجنسیوں اور پولیس کے لیے آسان حل یہ تھا کہ ہر دہشت گردی کا الزام پاکستان پر عائد کر کے حکومت اور عوام کے سامنے جواب دہی کے عمل سے اپنی جان بچا لی جاتی رہی۔
اس طرح بھارتی ایجنسیاں جواب دہی کے عمل سے تو بچ جاتیں مگر اس کا نقصان یہ ہوتا کہ عوامی سطح پر نفرت کا رخ انتہاپسند جماعتوں کے بجائے مسلمانوں اور پاکستان کی طرف مڑ جاتا۔ انتہاپسند جماعتیں بھی خوش تھیں کہ اس گھنائونے کھیل میں ان کی دہشت گردانہ کارروائیوں پر پردہ پڑ جاتا ہے مگر اب بھارتی وزیر داخلہ نے منافقت کا یہ پردہ چاک کرتے ہوئے علی الاعلان کہہ دیا ہے کہ ہندو انتہاپسند تنظیمیں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہیں اور ان وارداتوں کے بعد مسلمانوں اور پاکستان پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔
اب پوری دنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ بھارت کے اندر ہونے والے فسادات میں پاکستان نہیں بلکہ ہندو انتہاپسند تنظیمیں ملوث ہیں۔ اس امر میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان انتہاپسند تنظیموں کو حکومت اور سرکاری عہدوں پر فائز اپنے ہمدردوں کی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔ سرکاری پشت پناہی کے بغیر انتہاپسند تحریکیں پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ بہرحال اس کا کریڈٹ بھارتی وزیر داخلہ کو جاتا ہے کہ انھوں نے اس سچائی کو چھپانے کے بجائے جرأت اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے عوام کے سامنے پیش کر دیا کہ بھارت میں ہونے والے مسلم کش فسادات میں پاکستان نہیں' ان کے اپنے لوگ ملوث ہیں۔
بھارتی وزیر داخلہ نے یہ الزام بی جے پی سے سیاسی مخالفت کی بناء پر نہیں لگایا بلکہ فسادات اور دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اصل حقائق سے عوام کو آگاہ کیا ہے۔ ایک طرف بھارتی وزیر داخلہ سچائی سامنے لا رہے ہیں تو دوسری جانب وزیر اعظم من موہن سنگھ کہہ رہے ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان نے جو غیرانسانی کام کیا ہے اس سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ بھارت کنٹرول لائن کے واقعے کی اقوام متحدہ سے تحقیق کرانے کی پاکستان کی پیش کش کو ٹھکرا کر اس امر کو تقویت دے رہا ہے کہ سرحدی معاملات بگاڑنے میں اسی کا ہاتھ ہے۔ بھارتی حکومت اگر لائن آف کنٹرول کے معاملات کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائے تو اصل حقائق سامنے آ جائیں گے ۔
دہشت گردی خطے کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان میں بھی دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں امن وامان کی صورت حال خطرے میں ہے۔ پاکستانی حکومت دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے بھی سوشیل کمار کی طرح انتہاپسند تنظیموں کے بارے میں حقائق کو منظرعام پر لانا ہو ں گے ۔ پاک وہند کے خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں مل کر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کمیٹی تشکیل دیں تاکہ دونوں جانب دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کارروائی ممکن ہوسکے۔ ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے کیونکہ اس طرح حقیقی اور معنوی طور پر انتہاپسندوں ہی کا ایجنڈا پورا ہوتا ہے جو اس خطے میں نفرت کی آگ بھڑکا کر اپنے مذموم مقاصد پورا کرنا چاہتے ہیں۔
بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کا تحفظ وہاں کی حکومت کی ذمے داری ہے۔ اگر وہ صرف بیانات تک محدود رہتے ہوئے انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں رہتی ہے تو وہاں فسادات کا سلسلہ کبھی رکنے نہیں پائے گا۔ بی جے پی حکومت میں بھی رہ چکی ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث یہ تنظیم بھارت میں اپنا ایک خاص اثر ورسوخ رکھتی ہے۔ گجرات میں مسلم کش فسادات میں ملوث نریندر مودی دوبارہ ریاست کا وزیراعلیٰ منتخب ہو چکا ہے جو اقلیتوں کے تحفظ اور بھارت میں امن کے وجود کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ آر ایس ایس دائیں بازو کی رضاکار ہندو نیشنلسٹ تنظیم ہے۔ یہ تنظیم شروع ہی سے انتہاپسندانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ اسی تنظیم کے ایک رکن گوڈسے نے 1948ء میں مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا تھا۔ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت میں بھی یہ تنظیم پیش پیش رہی۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس نے بھارت میں مسلمانوں کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ 2002ء میں گجرات کے فسادات کے دوران بھی آر ایس ایس نے شرپسندوں میں مسلمانوں کے گھروں اور کاروباری مراکز کی باقاعدہ فہرست تقسیم کی تاکہ انھیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکے۔ اب جب بھارتی وزیر داخلہ نے یہ اعتراف کر ہی لیا ہے تو بھارتی حکومت کو صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کے ٹریننگ کیمپ بزور قوت بند کر کے ان پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگانا ہو گی۔
اگر بھارتی حکومت نے عملی اقدامات نہ اٹھائے تو انتہاپسند تنظیمیں مزید مضبوط ہوں گی اور فسادات کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا جس سے پورے خطے کا امن داؤ پر لگا رہے گا۔ پاکستان اور بھارت اگر حقیقی معنوں میں خطے میں امن چاہتے ہیں تو انھیں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔ دہشت گردوں کی فنانسنگ لائن توڑنے' حکومت اور سرکاری اداروں میں ان کے ہمدردوں کے خلاف سخت فیصلے کرنا ہوں گے ورنہ خدشہ ہے کہ انتہاپسندی اس خطے کا مستقبل بن کر اسے امن سے دور لے جانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔