یونیورسٹیوں کا افلاس

تمام طلبہ نے مخصوص کتابوں سے مخصوص نوعیت کا مواد حاصل کیا

tauceeph@gmail.com

خیبر پختون خواہ کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کے اجلاس میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ طلبہ کو ہر ہفتے برداشت کے بارے میں لیکچر دیے جائیں۔ یہ تجویز ولی خان یونیورسٹی مردان میں ہجوم کے ہاتھوں ایک طالب علم مشال کے قتل ہونے کے واقعات کے اسباب پر بحث ومباحثے کے موقعے پر دی گئی۔ یونیورسٹیاں علمی آزادی کا محور ہوتی ہیں۔

علمی آزادی کا ادارہ طلبہ اوراساتذہ کی تحقیق اوران پر آزادانہ بحث ومباحثے کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے۔ اس بناء پر یونیورسٹیوں میں طلبہ اور اساتذہ کے آزادئ اظہارکے حق کو آئینی طور پر تسلیم کرنے اورجمہوری رویوں کے ارتقاء کے نتیجے میں علمی آزادی (Academic Freedom) کا ادارہ طاقتور ہوتا ہے۔ دنیا کے جدید ممالک میں علمی آزادی کا ادارہ اتنا مستحکم ہے کہ یونیورسٹیاں منحرفین کی آواز بن جاتی ہیں اور ریاستی ادارے ان یونیورسٹیوں کا احترام کرتے ہیں مگر ملک میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی سے یونیورسٹیاں بھی براہِ راست متاثر ہوئیں۔ جنرل ایوب خان کی حکومت نے تاریخ اور جغرافیے کے بجائے سماجی علوم (Social Studies) کا مضمون رائج کیا۔اس مضمون میں تاریخ کو مسخ کیا گیا۔

وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹوکی حکومت نے پاکستان اسٹڈیزکا مضمون نصاب میں شامل کیا۔ اس مضمون میں پاکستان بنانے والے سب سے بڑے صوبے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کا اہم ترین واقعہ غائب کردیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے سائنس، تاریخ اور دیگر مضامین میں مذہب کو بھی شامل کرلیا اور غیر مسلم شہریوں اور دیگر ممالک کے بارے میں مواد شامل کیا گیا۔ جہاد کو مضمون میں ایک اہم حیثیت دی گئی ، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سارے مضامین میں ایک بیانیہ بنیادی حیثیت اختیار کرگیا۔ اس صورتحال سے پورا معاشرہ متاثر ہوا۔

جنرل ضیاء الحق نے یونیورسٹیوں کے منتخب اداروں کے کردارکو مسخ کردیا اور طلبہ یونین کے ادارے کو خطرناک قرار دے کر پابندی لگادی جس کے نتیجے میں طلبہ میںجمہوری رویوں کو نقصان ہوا اور انتہاپسندانہ نظریات پروان چڑھنے لگے۔ بعض تنظیموں نے پہلے افغانستان اور پھرکشمیر میں رضاکاروں کو برآمد کرنا شروع کیا۔اس کے ساتھ ہی کلاشنکوف کلچر پہلے یونیورسٹیوں میں چھایا اور پھر پورے ملک کو اس کلچر نے لپیٹ میں لے لیا۔ اس بناء پر ریاستی اداروں نے ایسی پالیسیاں بنائیں کہ جنونیت کی فضاء کی جڑیں یونیورسٹی کے اداروں میں پیوست ہوگئیں۔

سرکاری یونیورسٹیوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے تقرر میں میرٹ کے اصول کو نظراندازکیا گیا اور ایک مخصوص ذہن رکھنے والے افراد کو ترجیح دی جانے لگی۔ یہ لوگ 80کی دہائی میں جونیئر افسر اور لیکچرار بنے اور پھر ترقی کرتے کرتے چیئرمین اور ڈین جیسے عہدوں پر فائز ہوگئے اور کچھ وائس چانسلر بن گئے۔ اس صورتحال میں ہر طرف تاریکی ہی تاریکی پھیل گئی اور انتہاپسندی نے ادارے کی شکل اختیار کرلی۔ مختلف یونیورسٹیوں میں قائم اساتذہ کی انجمنوں کا کردار بھی تبدیل ہوا۔ مختلف گروہوں نے جمہوری فضاء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اساتذہ کو ساتھ ملالیا۔ ان گروہوں نے اپنے حامیوں کے معاملات حل کرنے کے لیے میرٹ کے اصولوں کو نظر اندازکیا اور مخالف اساتذہ کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔


اس طرح ان گروہوں نے مافیا کی حیثیت اختیارکرلی۔ اعلیٰ تعلیم کے ادارے ہائرایجوکیشن کمیشن نے بین الاقوامی معیارکے مطابق یونیورسٹیوں میں اصلاحات کا ایجنڈا بنایا۔ان اصلاحات کا مقصد یونیورسٹیوں کے معیارکو بین الاقوامی معیار تک پہنچانا ہے مگر ان اصلاحات سے اساتذہ کے گروہوں کے مفادات متاثر ہونے لگے۔ بہت سے اساتذہ غیر معیاری طریقوںکے ذریعے ترقیاں اور مراعات کے حقدار بن گئے تھے، ان اصلاحات کی بناء پر ان اساتذہ کے مفادات کو ضرب لگنے لگی۔ ہائرایجوکیشن کمیشن نے بعض ایسی اصلاحات رائج کیں کہ جن سے تعلیم کے مہنگا ہونے اور محدود ہونے کا تصور ابھرا اور ان عناصر کو نئی زندگی مل گئی۔ طلبہ کی منتخب انجمن پر پابندی کا فائدہ اساتذہ کی انجمنوں کو ہوا۔ اساتذہ کی انجمن نے رفتہ رفتہ طلبہ انجمن کی جگہ لے لی۔ یونیورسٹی کے انتظامی اداروں سنڈیکیٹ، سینیٹ اوراکیڈمک کونسل وغیرہ میں اساتذہ کی موثر نمایندگی ہوتی ہے۔

اس نمایندگی کا مقصد یونیورسٹی کے انتظام میں اساتذہ کو شریک کرنا ہے مگر اب بعض یونیورسٹیوں خاص طور پر کراچی یونیورسٹی میں صورتحال تبدیل ہوگئی۔ مخصوص سیاسی حالات میں اساتذہ انجمن نے انتظامیہ کو یرغمال بنالیا اور تمام فیصلے ان کی ڈکٹیشن پر ہونے لگے۔ ان اساتذہ نمایندوں نے عملی طور پر ثابت کردیاکہ اپنے ووٹر وں کے تمام غیر قانونی اقدامات کو تحفظ فراہم کریں گے اور خامیوں کے باوجود اپنے حامیوں کو تمام ترقیاں اور مراعات دلوائیں گے اور مخالف اساتذہ کو ان کے جائز حقوق سے محروم کردیا جائے گا تاکہ یہ اساتذہ ان کے گروہ میں شمولیت اختیار کریں۔ ان گروہوں نے یونیورسٹی کی خودمختاری کو اپنے منفی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کیا اور جذباتی نعروں کے ذریعے منفی فضاء پیدا کی جانے لگی اور اس فضاء کی آڑ میں اپنے ناجائز مطالبات کو پورا کرنے کا راستہ تلاش کرلیا گیا۔

یونیورسٹیوں میں نظریاتی سیاست کے خاتمے کا ان گروہوں کو خوب فائدہ ہوا۔انھوں نے محض مخصوص مفادات کی بناء پر اپنے گروہوں کو مضبوط کیا۔ یہ سب کچھ جمہوریت اور علمی آزادی کے نام پر ہوا۔ کراچی یونیورسٹی اس صورتحال کی بدترین مثال ہے جہاں مخصوص قسم کے طالب علموں کو اساتذہ کے عہدوں پر فائزکرنے کی روایت بہت مستحکم ہے۔ پرانے نصاب کی تدریس حتیٰ کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کی تعلیم کو غیر معیاری رکھنے پر فخر کیا جانے لگا۔ ملک کی بڑی اور چھوٹی سرکاری یونیورسٹیوں کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلوں کے طریقہ کار کا موازنہ کیا جائے تو سب سے زیادہ غیر معیاری طریقہ کار کراچی یونیورسٹی میں نظر آتا ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے تجارت، معاشیات اور نظمیات کاروبار کے شعبوں سے پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کے موضوعات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ کئی طلبہ نے اسلامیات کے موضوع پر تحقیق کی ہے۔

تمام طلبہ نے مخصوص کتابوں سے مخصوص نوعیت کا مواد حاصل کیا۔ ان تمام تحقیق کا معاشیات، تجارت اور نظمیات کاروبار سے دور تک کا کوئی تعلق نہیں۔ ان طلبہ کے جن میں کئی پروفیسر اور بعض وائس چانسلر جیسے عہدوں پر فائز ہوئے نے ملک کی معیشت اور طرز حکومت پر تحقیق کی اہمیت کو غیر معیاری جانا۔ جب ایچ ای سی نے ان غیر معیاری مقالوں کی جانچ پڑتال کی تو ان میں سے کئی پر سرقہ نویسی کے الزامات درست ثابت ہوئے۔ جب ان طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا گیا تو یونیورسٹی نے تاخیری حربے استعمال کرنا شروع کیے۔

ایچ ای سی نے 5 مقالوںکو سرقہ نویسی پر مبنی ٹھہرایا، یہ سب اساتذہ ہیں، مگر کراچی یونیورسٹی کے ادارے ان اساتذہ کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ان گروہوں نے ایچ ای سی کے خلاف ایسی فضاء بنالی ہے جیسے کہ بھارت کے خلاف ملک میں فضاء بنائی گئی ہے جس کا مجموعی نقصان یونیورسٹی کو ہوا اور یونیورسٹی کے مستقل پر اس کے مزید گہرے اثرات مرتب ہوںگے۔ ایچ ای سی کو مجبوراً اکیڈمک آڈٹ جیسے انتہائی اقدام پر عملدرآمدکا فیصلہ کرنا پڑا تو نیم دلی سے فیصلے کیے گئے۔ اورکسی بھی طالب علم کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ جب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان معاملات کی گونج سنائی دی گئی تو اس طرح کارروائی کی گئی کہ قانونی سقم موجود رہے۔ اساتذہ کے یہ گروہ میدان میں کود پڑے۔ انھیں اپنے مفادات خطرے میں نظر آنے لگے۔ اس ساری صورتحال کا نقصان اعلیٰ تعلیم کے معیار پر پڑا اور نئی اصلاحات کا معاملہ التواء کا شکار ہوگیا۔

یونیورسٹیوں کا بحران انتہاپسندی ہے۔ انتہاپسندی کے ساتھ ساتھ اساتذہ، طلبہ اوردیگر عناصرکے پریشر گروپوں کا ہے جو دباؤ کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں مگر یہ سب کچھ یونیورسٹی کی خودمختاری کے نام پر ہوتاہے۔اس صورتحال کا نقصان یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں ترقی کے عمل میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔
Load Next Story