صدر اوباما کا امن ورثہ دینے کی تمنا
اوباما کا دوسری بار عہدہ صدارت پر متمکن ہونا ایک شخص کی جمہوری اور سیاسی جدوجہد کا نکتہ کمال ہے۔
صدر اوباما کی پہلی ٹرم توقعات اور بہترمستقبل کی طرف پیش قدمی سے مربوط تھی۔ فوٹو: فائل
امریکی صدر بارک اوباما نے دوسری مدت کے لیے عہدے کاحلف اٹھا لیا ۔اس حلف کے ساتھ ہی صدراوباما کے دوسرے چار سالہ دور صدارت کا سرکاری سطح پر آغاز ہوجا ئیگا ۔اتوار کو وائٹ ہائوس میں ہونے والی ایک سادہ تقریب میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے صدراوباما سے حلف لیا۔ روایت کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پہلے جو بائیڈن سے نائب صدر کے عہدے کا حلف لیا۔نئے دورصدارت کا مرکزی خیال ''امریکا کا مستقبل پر اعتماد'' رکھا گیا ہے۔
اوباما کا دوسری بار عہدہ صدارت پر متمکن ہونا ایک شخص کی جمہوری اور سیاسی جدوجہد کا نکتہ کمال ہی ہے جب کہ وہ اس ملک کے صدر ہیں جسے دنیا میں صدارتی نظام سیاست کے بانی ملک اور سپر پاور کی حیثیت حاصل ہے جو اس نے اپنی بلا خیز فوجی طاقت، شاندار اقتصادی پیش رفت اور امریکی معاشرہ کی داخلی آزادی ، مساوات اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مسلسل اقدامات کے باعث مستحکم کی تاہم گزشتہ صدی کی نصف دہائی کے بعد ہونے والے تہلکہ خیزعالمی واقعات اور تیسری دنیا کے ممالک میں نوآبادیاتی جبر و استبدادکے خلاف آزادی کی تحریکوں کو کچلنے میں امریکی سیاست، معیشت ، عسکری اور تزویراتی پالیسوں میںامریکی مفادات کے ''جن '' نے عالمی سطح پر امریکا کو غارت گر امن بنا کر رکھ دیا اورعراق و افغانستان آج اکیسویں صدی میں بھی قتل و غارت، اور انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کا اندوہ ناک حوالہ بن کر رہ گئے ہیں۔
بلاشبہ صدر اوباما کی پہلی ٹرم توقعات اور بہترمستقبل کی طرف پیش قدمی سے مربوط تھی مگر رفتہ رفتہ پاک امریکا روایتی تعلقات میں بحران در آئے، صدر اوباما کی امن پسندی سے بندھی امیدیں دم توڑ گئیں اور افغانستان کی صورتحال کی آڑ میں پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عذاب نازل کیا گیا ۔ مشرف کے دور سے شروع ہونے والے پاکستان پر ڈرون حملے تواتر سے آج بھی جاری ہیں جب کہ تازہ اطلاع یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ نے دنیا بھر میں دہشتگردی کے خلاف سی آئی اے اور امریکی فوج کی ٹارگیٹڈ کارروائیوں میں بیگناہ لوگوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے ''کائونٹرٹیرر ازم پلے بک'' نامی ایک نئی پالیسی بنادی ہے لیکن سی آئی اے کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی موجودہ پالسی جاری رکھنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے ، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس چھوٹ سے پہلے ہی فاٹا کے علاقے میں ڈرون حملوں سے بیگناہ لوگوں کی ہلاکت پر امریکا مخالف جذبات کا نیا ہولناک دھارا پیدا ہوا ہے جس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے شدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے ۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نئی پالیسی کے تحت امریکی افواج اور خفیہ اداروں کو دنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرنے کے لیے امریکی صدر کی اجازت درکار ہوگی ۔ پلے بک نامی دستاویز میں امریکا مخالف افراد کی ایک لسٹ پیش کی جائے گی ۔ امریکی صدر کی منظوری کے بعد ان افراد کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیے جائیں گے۔دوسری طرف ڈرون حملوں کے ظالمانہ نتائج پر خود امریکی میڈیا اور انتظامیہ میں اختلافی آوازیں اٹھتی رہیں ۔ امریکی ماہرین نے زبردست بحث و مباحثہ کیا تھا جس کے بعد اس طریقہ کار پر اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، سی آئی اے اور پینٹاگان میں اختلافات کے باعث پچھلے سال کے آخر میں نئی پالیسی کا عمل تقریباً ڈی ریل ہوگیا تھا ۔
اگرچہ نئی پالیسی کا اہم ترین مقصد افغانستان سے امریکی انخلا کے وقت القاعدہ اور طالبان کو مزید کمزور کرنا ہے تاکہ وہ امریکا کے لیے مشکلات پیدا نہ کرسکیں ۔لیکن حقائق اور شواہد بتاتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں اور ہائی پروفائل القاعدہ وطالبان کمانڈروں اور انتہا پسندوں کو مارنے کی حکمت عملی کا الٹا نتیجہ برآمد ہورہا ہے ۔ صدر اوباما کی دوسری ٹرم کے بارے میں میڈیا کا کہنا ہے کہ اسے صدر اوباما چیلنجنگ ، صدارتی عظمت کے حصول اور عہد آفریں ورثہ کے طور پر یادگار بنانا چاہتے ہیں۔ صدر اوباما کو پاک امریکا تعلقات ،ایران کے ایٹمی تنازع،افغانستان سے انخلا،عراق میں مستحکم حکومت،شام کی خانہ جنگی سمیت مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کا روڈ میپ،اسرائیلی جارحیت کے خاتمے ، جنوبی ایشیا میں امن ، فلسطینی ریاست کے جلد قیام اور امریکا میں اقتصادی اور دیگر مالیاتی مسائل کے ایک گرداب کا سامنا ہے ۔صدر اوباما اسٹرٹیجی بنا رہے ہیں اور ''تھنک بگ'' جیسی برین اسٹارمنگ جاری ہے مگر ڈرون زدہ پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک کو انتظار ہوگا کہ صدر اوباما دنیا کو امن کا جو ورثہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں اس کا آغاز پاکستان پر ڈرون حملوں کی بندش سے کریں ۔
اوباما کا دوسری بار عہدہ صدارت پر متمکن ہونا ایک شخص کی جمہوری اور سیاسی جدوجہد کا نکتہ کمال ہی ہے جب کہ وہ اس ملک کے صدر ہیں جسے دنیا میں صدارتی نظام سیاست کے بانی ملک اور سپر پاور کی حیثیت حاصل ہے جو اس نے اپنی بلا خیز فوجی طاقت، شاندار اقتصادی پیش رفت اور امریکی معاشرہ کی داخلی آزادی ، مساوات اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مسلسل اقدامات کے باعث مستحکم کی تاہم گزشتہ صدی کی نصف دہائی کے بعد ہونے والے تہلکہ خیزعالمی واقعات اور تیسری دنیا کے ممالک میں نوآبادیاتی جبر و استبدادکے خلاف آزادی کی تحریکوں کو کچلنے میں امریکی سیاست، معیشت ، عسکری اور تزویراتی پالیسوں میںامریکی مفادات کے ''جن '' نے عالمی سطح پر امریکا کو غارت گر امن بنا کر رکھ دیا اورعراق و افغانستان آج اکیسویں صدی میں بھی قتل و غارت، اور انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کا اندوہ ناک حوالہ بن کر رہ گئے ہیں۔
بلاشبہ صدر اوباما کی پہلی ٹرم توقعات اور بہترمستقبل کی طرف پیش قدمی سے مربوط تھی مگر رفتہ رفتہ پاک امریکا روایتی تعلقات میں بحران در آئے، صدر اوباما کی امن پسندی سے بندھی امیدیں دم توڑ گئیں اور افغانستان کی صورتحال کی آڑ میں پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عذاب نازل کیا گیا ۔ مشرف کے دور سے شروع ہونے والے پاکستان پر ڈرون حملے تواتر سے آج بھی جاری ہیں جب کہ تازہ اطلاع یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ نے دنیا بھر میں دہشتگردی کے خلاف سی آئی اے اور امریکی فوج کی ٹارگیٹڈ کارروائیوں میں بیگناہ لوگوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے ''کائونٹرٹیرر ازم پلے بک'' نامی ایک نئی پالیسی بنادی ہے لیکن سی آئی اے کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی موجودہ پالسی جاری رکھنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے ، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس چھوٹ سے پہلے ہی فاٹا کے علاقے میں ڈرون حملوں سے بیگناہ لوگوں کی ہلاکت پر امریکا مخالف جذبات کا نیا ہولناک دھارا پیدا ہوا ہے جس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے شدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے ۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نئی پالیسی کے تحت امریکی افواج اور خفیہ اداروں کو دنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرنے کے لیے امریکی صدر کی اجازت درکار ہوگی ۔ پلے بک نامی دستاویز میں امریکا مخالف افراد کی ایک لسٹ پیش کی جائے گی ۔ امریکی صدر کی منظوری کے بعد ان افراد کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیے جائیں گے۔دوسری طرف ڈرون حملوں کے ظالمانہ نتائج پر خود امریکی میڈیا اور انتظامیہ میں اختلافی آوازیں اٹھتی رہیں ۔ امریکی ماہرین نے زبردست بحث و مباحثہ کیا تھا جس کے بعد اس طریقہ کار پر اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، سی آئی اے اور پینٹاگان میں اختلافات کے باعث پچھلے سال کے آخر میں نئی پالیسی کا عمل تقریباً ڈی ریل ہوگیا تھا ۔
اگرچہ نئی پالیسی کا اہم ترین مقصد افغانستان سے امریکی انخلا کے وقت القاعدہ اور طالبان کو مزید کمزور کرنا ہے تاکہ وہ امریکا کے لیے مشکلات پیدا نہ کرسکیں ۔لیکن حقائق اور شواہد بتاتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں اور ہائی پروفائل القاعدہ وطالبان کمانڈروں اور انتہا پسندوں کو مارنے کی حکمت عملی کا الٹا نتیجہ برآمد ہورہا ہے ۔ صدر اوباما کی دوسری ٹرم کے بارے میں میڈیا کا کہنا ہے کہ اسے صدر اوباما چیلنجنگ ، صدارتی عظمت کے حصول اور عہد آفریں ورثہ کے طور پر یادگار بنانا چاہتے ہیں۔ صدر اوباما کو پاک امریکا تعلقات ،ایران کے ایٹمی تنازع،افغانستان سے انخلا،عراق میں مستحکم حکومت،شام کی خانہ جنگی سمیت مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کا روڈ میپ،اسرائیلی جارحیت کے خاتمے ، جنوبی ایشیا میں امن ، فلسطینی ریاست کے جلد قیام اور امریکا میں اقتصادی اور دیگر مالیاتی مسائل کے ایک گرداب کا سامنا ہے ۔صدر اوباما اسٹرٹیجی بنا رہے ہیں اور ''تھنک بگ'' جیسی برین اسٹارمنگ جاری ہے مگر ڈرون زدہ پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک کو انتظار ہوگا کہ صدر اوباما دنیا کو امن کا جو ورثہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں اس کا آغاز پاکستان پر ڈرون حملوں کی بندش سے کریں ۔