ایک ڈینجرس خواب
مطلب یہ ہے کہ آج کل ہم بڑے پرابلم میں ہیں اور ایک اچھے تعبیر گر کی تلاش میں ہیں
barq@email.com
ہم نے آپ کو پچھلے کسی کالم میں بتایا تھا کہ ہم آج کل انتہائی برے برے خواب دیکھ رہے ہیں جن میں سے اکثر تو ہالی وڈ، بالی وڈ اور لالی وڈ کی شادیاں غلط لوگوں سے ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، اب یہ کوئی تُک ہے کہ ایک لالی وڈ کی اداکارہ کی شادی دبئی کے ایک بوڑھے شیخ سے ہوتے ہم نے دیکھی، کنڈولیزا رائس کی شادی پر تو ہم خوش ہوئے کہ ٹرمپ سے ہوئی لیکن انجلینا جولی کی شادی نریندر مودی سے تو ہم دیکھ ہی نہیں پائے اور پہلے ہی پھیرے میں جاگ گئے، دیپکا پاڈوکون کی شادی پر تو ہمیں کوئی خاص دکھ نہیں ہوا جو چار لاکھ اونٹوں اور دس کنوؤں کے مالک ایک عرب شیخ سے ہوئی لیکن پریانکا چوپڑا کی شادی کا تو صرف سن کر ہی ہم خواب میں چیخ پڑے اور دولہے کا منہ تک نہیں دیکھا، خیر اس قسم کے خواب تو ہمارے ذاتی ''دکھ'' ہیں اور اس زمانے سے چل رہے ہیں جب دلیپ کمار نے ایک فلم میں مدھو بالا سے بیاہ رچایا تھا لیکن ان خوابوں کا کیا کریں جن میں ہم تعزیرات پاکستان کی نہایت خطرناک دفعات کی زد میں آتے آتے رہ جاتے ہیں، ابھی کل رات کی ہی بات ہے کہ ہم نکلے کلاشن کوف لے کے، پھر راستے میں سڑک پر ایک موڑ آیا جہاں لگ بھگ چار پانچ ہزار پاکستانی لیڈر جمع تھے اور پاکستان کو چیلوں کی طرح نوچ نوچ کر کھا رہے تھے، چھین جھپٹ کر رہے تھے۔
سب کی چونچیں اور پنجے خون میں لتھڑے ہوئے تھے، بندہ بشر ہے رہا نہ گیا اور کلاشن کوف سے عقل کا پاسبان ہٹا کر شروع ہوئے، زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہم بھی بہت خوش ہوئے تھے کہ چلو خس کم ... لیکن تھوڑی دیر بعد دیکھا کہ ان کے خون کے ایک ایک قطرے سے بے تحاشہ نئے گدھ پیدا ہو رہے ہیں اور ہم پر جھپٹ رہے ہیں خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ خواب میں جاگنے کا آپشن بھی ہوتا ہے ورنہ ہمارا حشر نشر تو پاکستان سے بھی برا ہونے والا تھا، جاگنے پر بھی خاصی دیر تک کپکپاتے رہے ذرا حساب لگایئے پانچ چھ ہزار لوگ جنہوں نے عمر بھر پاکستان کا خون چوس چوس کر جزو بدن بنایا تھا ان کے جسم میں کتنا خون ہو گا اور بحساب ایک گدھ فی قطرہ حساب لگایئے
دل حسرت زدہ تھا مائدہ لذت درد
کام یاروں کا بقدر لب و دنداں نکلا
مطلب یہ ہے کہ آج کل ہم بڑے پرابلم میں ہیں اور ایک اچھے تعبیر گر کی تلاش میں ہیں لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ علامہ ڈاکٹر پروفیسر طاہر القادری وطن کے امراض کے لیے گل بکاؤلی ڈھونڈنے کینیڈا فرما ہیں اور دوسرے کسی اچھے تعبیر گر کا ہمیں پتہ نہیں۔ حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ العالیٰ بھی ہمارے کام آسکتے ہیں لیکن آج کل سنا ہے کہ وہ اتنے مصروف ہیں کہ اپنی پگڑی باندھنے کے لیے بھی وقت نہیں رکھتے اور دوسروں سے بندھوا رہے ہیں، اخبارات و رسائل میں کچھ لوگ خوابوں کی تعبیر بتانے کا دھندہ کرتے ہیں لیکن آپ تو جانتے ہیں کہ اخبارات میں ہمیں خود اپنے آپ پر شبہ ہے تو کسی اور سے سچ بولنے کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں اور وہ اخباری تعبیریں ہوتی بھی عجیب ہیں ایک شخص نے پوچھا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے جسم سے سارا خون نکل گیا ہے اور میں سوکھی لکڑی بن گیا ہوں۔
تعبیر گر نے بتایا تھا کہ بڑا مبارک خواب ہے... ساری غریبی تمہاری ناک سے نکلنے والی ہے اور کڑکڑاتے نوٹ بے تحاشا آنے والے ہیں یہ البتہ اس نے نہیں بتایا تھا کہ کہاں سے آنے والے ہیں، ایک اور صاحب نے اپنا خواب بتایا تھا کہ میں ہر روز خواب میں اپنی بیوی کو قتل کرتا ہوں لیکن کم بخت پھر زندہ دکھائی دیتی ہے، تعبیر گر نے اسے خوش خبری سنائی تھی کہ تمہاری بیوی کے دل میں تمہاری محبت روز بروز بڑھتی جارہی ہے ایک دن ممکن ہے کہ اس کی محبت اور ہمدردی اتنی بڑھ جائے کہ وہ تمہارا گلا چھوڑ کر کسی اور کو لاحق ہو جائے، خواب اچھا ہے لگے رہو منا بھائی لیکن بیوی کو ذبح کرتے ہوئے خواب میں تکبیر ضرور پڑھا کرو، لیکن ہمیں چین کہاں تھا چنانچہ اپنے گاؤں کے ایک شخص کو پکڑا جو خوابوں کی تعبیر بتانے میں مشہور تھا، اس نے ہمارا خواب غور سے سنا کیوں کہ شکرانہ ہم پہلے ہی اس کے ہاتھ پر رکھ چکے تھے، بولا خواب تو بڑا مبارک ہے شاید مظلوم پاکستان کی فریاد آسمان تک پہنچ گئی ہے، اندازاً کتنے لیڈر ہوں گے اور پھر پوچھنے لگا فلاں فلاں ان میں تھا یا نہیں، اب وہ ہمارا معاملہ چھوڑ کر اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رہا تھا کیوں کہ تقریباً ہر پارٹی میں وہ ''ان آؤٹ'' کا کورس مکمل کر چکے تھے۔
بیاں کیا کیجیے بیداد کاوش ہائے مژگان گا
کہ ہر ایک قطرہ خوں دانہ ہے تسبیح گدھاں کا
بولے ایسا کوئی طریقہ میری سمجھ میں تو نہیں آرہا ہے ایسا کرو کسی دن گاڑی کا بندوبست کرو' میرا ایک نجومی ہے اس کے پاس جا کر حل پوچھ لیں گے' ہمیں تو جلدی لگی تھی ہر رات لاکھوں کروڑوں گدھوں کا سامنا کرنا پھر چیخ کر بیدار ہونا اور دیر تک کانپتے رہنا ... اس لیے فوراً ایک دوست سے گاڑی مانگی اور نجومی صاحب سے ملنے چل پڑے لیکن پہنچتے ہی بلکہ دور سے وہاں ایک بڑا اژدہام دیکھا جن میں پولیس والے بھی نظر آرہے تھے... سوچنے لگے واقعی نجومی عامل صاحب تو بڑا مشہور ہے' ضرور کچھ کرے گا لیکن قریب جانے پر پتہ چلا کہ اس عامل نجومی کو رات کسی نے کلاشن کوف کا پورا برسٹ مار کرقتل کر دیا ہے' ہم نے حیرانگی سے پوچھا تو اس کے لیے اتنی زیادہ پولیس کی نفری کیوں منگوائی گئی ہے، لاشں پوسٹ مارٹم کے لیے لے جاتے اور بیوی بچوں سے رپٹ لکھواتے' سپاہی بولا ... اپنی چوتھی اور آخری زوجہ شریف نے ہی ان کواگلی دنیا تک کیا ہے، اچانک شدید فائرنگ کی آوازیں موقع واردات سے سنائی دیں 'سپاہی نے بتایا ، دراصل پولیس پارٹی ان گدھوں کو سنبھالنے کے لیے لائی گئی ہے جوعامل نجومی کے خون شریف سے پیدا ہو رہے ہیں، پھر ہم نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا ۔
تاب نظارہ نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے
سب کی چونچیں اور پنجے خون میں لتھڑے ہوئے تھے، بندہ بشر ہے رہا نہ گیا اور کلاشن کوف سے عقل کا پاسبان ہٹا کر شروع ہوئے، زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہم بھی بہت خوش ہوئے تھے کہ چلو خس کم ... لیکن تھوڑی دیر بعد دیکھا کہ ان کے خون کے ایک ایک قطرے سے بے تحاشہ نئے گدھ پیدا ہو رہے ہیں اور ہم پر جھپٹ رہے ہیں خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ خواب میں جاگنے کا آپشن بھی ہوتا ہے ورنہ ہمارا حشر نشر تو پاکستان سے بھی برا ہونے والا تھا، جاگنے پر بھی خاصی دیر تک کپکپاتے رہے ذرا حساب لگایئے پانچ چھ ہزار لوگ جنہوں نے عمر بھر پاکستان کا خون چوس چوس کر جزو بدن بنایا تھا ان کے جسم میں کتنا خون ہو گا اور بحساب ایک گدھ فی قطرہ حساب لگایئے
دل حسرت زدہ تھا مائدہ لذت درد
کام یاروں کا بقدر لب و دنداں نکلا
مطلب یہ ہے کہ آج کل ہم بڑے پرابلم میں ہیں اور ایک اچھے تعبیر گر کی تلاش میں ہیں لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ علامہ ڈاکٹر پروفیسر طاہر القادری وطن کے امراض کے لیے گل بکاؤلی ڈھونڈنے کینیڈا فرما ہیں اور دوسرے کسی اچھے تعبیر گر کا ہمیں پتہ نہیں۔ حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ العالیٰ بھی ہمارے کام آسکتے ہیں لیکن آج کل سنا ہے کہ وہ اتنے مصروف ہیں کہ اپنی پگڑی باندھنے کے لیے بھی وقت نہیں رکھتے اور دوسروں سے بندھوا رہے ہیں، اخبارات و رسائل میں کچھ لوگ خوابوں کی تعبیر بتانے کا دھندہ کرتے ہیں لیکن آپ تو جانتے ہیں کہ اخبارات میں ہمیں خود اپنے آپ پر شبہ ہے تو کسی اور سے سچ بولنے کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں اور وہ اخباری تعبیریں ہوتی بھی عجیب ہیں ایک شخص نے پوچھا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے جسم سے سارا خون نکل گیا ہے اور میں سوکھی لکڑی بن گیا ہوں۔
تعبیر گر نے بتایا تھا کہ بڑا مبارک خواب ہے... ساری غریبی تمہاری ناک سے نکلنے والی ہے اور کڑکڑاتے نوٹ بے تحاشا آنے والے ہیں یہ البتہ اس نے نہیں بتایا تھا کہ کہاں سے آنے والے ہیں، ایک اور صاحب نے اپنا خواب بتایا تھا کہ میں ہر روز خواب میں اپنی بیوی کو قتل کرتا ہوں لیکن کم بخت پھر زندہ دکھائی دیتی ہے، تعبیر گر نے اسے خوش خبری سنائی تھی کہ تمہاری بیوی کے دل میں تمہاری محبت روز بروز بڑھتی جارہی ہے ایک دن ممکن ہے کہ اس کی محبت اور ہمدردی اتنی بڑھ جائے کہ وہ تمہارا گلا چھوڑ کر کسی اور کو لاحق ہو جائے، خواب اچھا ہے لگے رہو منا بھائی لیکن بیوی کو ذبح کرتے ہوئے خواب میں تکبیر ضرور پڑھا کرو، لیکن ہمیں چین کہاں تھا چنانچہ اپنے گاؤں کے ایک شخص کو پکڑا جو خوابوں کی تعبیر بتانے میں مشہور تھا، اس نے ہمارا خواب غور سے سنا کیوں کہ شکرانہ ہم پہلے ہی اس کے ہاتھ پر رکھ چکے تھے، بولا خواب تو بڑا مبارک ہے شاید مظلوم پاکستان کی فریاد آسمان تک پہنچ گئی ہے، اندازاً کتنے لیڈر ہوں گے اور پھر پوچھنے لگا فلاں فلاں ان میں تھا یا نہیں، اب وہ ہمارا معاملہ چھوڑ کر اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رہا تھا کیوں کہ تقریباً ہر پارٹی میں وہ ''ان آؤٹ'' کا کورس مکمل کر چکے تھے۔
بیاں کیا کیجیے بیداد کاوش ہائے مژگان گا
کہ ہر ایک قطرہ خوں دانہ ہے تسبیح گدھاں کا
بولے ایسا کوئی طریقہ میری سمجھ میں تو نہیں آرہا ہے ایسا کرو کسی دن گاڑی کا بندوبست کرو' میرا ایک نجومی ہے اس کے پاس جا کر حل پوچھ لیں گے' ہمیں تو جلدی لگی تھی ہر رات لاکھوں کروڑوں گدھوں کا سامنا کرنا پھر چیخ کر بیدار ہونا اور دیر تک کانپتے رہنا ... اس لیے فوراً ایک دوست سے گاڑی مانگی اور نجومی صاحب سے ملنے چل پڑے لیکن پہنچتے ہی بلکہ دور سے وہاں ایک بڑا اژدہام دیکھا جن میں پولیس والے بھی نظر آرہے تھے... سوچنے لگے واقعی نجومی عامل صاحب تو بڑا مشہور ہے' ضرور کچھ کرے گا لیکن قریب جانے پر پتہ چلا کہ اس عامل نجومی کو رات کسی نے کلاشن کوف کا پورا برسٹ مار کرقتل کر دیا ہے' ہم نے حیرانگی سے پوچھا تو اس کے لیے اتنی زیادہ پولیس کی نفری کیوں منگوائی گئی ہے، لاشں پوسٹ مارٹم کے لیے لے جاتے اور بیوی بچوں سے رپٹ لکھواتے' سپاہی بولا ... اپنی چوتھی اور آخری زوجہ شریف نے ہی ان کواگلی دنیا تک کیا ہے، اچانک شدید فائرنگ کی آوازیں موقع واردات سے سنائی دیں 'سپاہی نے بتایا ، دراصل پولیس پارٹی ان گدھوں کو سنبھالنے کے لیے لائی گئی ہے جوعامل نجومی کے خون شریف سے پیدا ہو رہے ہیں، پھر ہم نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا ۔
تاب نظارہ نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے