دہشت گردوں کے خلاف پاک افغان مشترکہ آپریشن پر اتفاق

پاک بھارت تعلقات کی بحالی کے لیے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے پیچھے خود بھارت ہی کا ہاتھ رہا ہے

: فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
پاکستان اور افغانستان کی فوج کے درمیان دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ طور پر حکمت عملی مرتب کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے تاکہ دونوں ممالک کی سرحدوں سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو نہ صرف روکا جاسکے بلکہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک بھی پہنچایا جاسکے۔

ذرایع کے مطابق چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کے حالیہ دورۂ افغانستان کے موقع پر دہشت گردی کی روک تھام کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ امر ایک حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کو دہشت گردوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے اور دونوں ممالک میں بڑے بڑے واقعات رونما ہونے کی وجہ سے نہ صرف سیکیورٹی اہلکاروں بلکہ عام شہریوں کی قیمتی جانیں ضایع ہوئی ہیں، اس لیے مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مل جل کر لائحہ عمل بنانا لازم ہے۔ دونوں ممالک میں جاری دہشت گردی کے واقعات اور امن و امان کی صورتحال میں مذکورہ فیصلہ قابل ستائش ہے۔


دونوں جانب سے نیک نیتی اور مشاورت کے عمل کو آگے بڑھانے اور دہشت گردوں کے خلاف ہوائی اور زمینی آپریشن کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور فوجی تعاون بڑھانے کے مقصد کے تحت منگل کو کابل کا دورہ کیا، یہ ڈی جی آئی ایس آئی کا پہلا دورۂ افغانستان ہے۔ پاکستانی اور افغان افواج کے اعلیٰ سطح کے رابطے دونوں ملکوں کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی کی فضا کو کم کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کی کوششوں میں معاون ثابت ہوں گے۔

خطے میں امن و امان کی جو کشیدہ صورتحال ہے اس میں صرف پاکستان اور افغانستان ہی مبتلا نہیں بلکہ بھارت کی مذمومانہ حرکتیں بھی اشتعال انگیزی کا باعث بن رہی ہیں۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایک بیان میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل عام کے ذریعے 100سے زائد غیر مسلح نوجوان کشمیری مظاہرین کو شہید کرکے مظالم کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ مشیر خارجہ نے ترک صدر طیب اردوان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں خونریزی ختم کرنے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کا خیر مقدم کیا۔ انھوں نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات پر آمادگی سے متعلق بھارتی ہم منصب کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی غرض سے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت بامعنی مذاکرات کے لیے تمام مواقع ناکام بناچکا ہے۔

اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ پاک بھارت تعلقات کی بحالی کے لیے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے پیچھے خود بھارت ہی کا ہاتھ رہا ہے، بھارت نہ صرف باہمی تعلقات میں بہتری کا خواہاں ہے بلکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھی کشیدگی پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے، بلوچستان میں چلنے والی تحاریک اور امن و امان کی کشیدہ صورتحال کے پیچھے بھارت کے مکروہ عزائم بے نقاب ہوچکے ہیں، جب کہ پاک افغان تعلقات میں دراڑیں بھی بھارت کی سازشی چالوں کا نتیجہ ہیں۔ صائب ہوگا کہ پاکستان و افغان حکومتیں مل کر معاملات کو سلجھائیں جب کہ بھارت بھی ہوش کے ناخن لیتے ہوئے منافقانہ طرز عمل سے گریز کرے۔
Load Next Story