قرضہ حسنہ اور قرضہ ہنسنا
زرعی ملک لیکن صنعتی بنانے کے چکر میں نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا رہا
barq@email.com
مملکت اللہ داد ناپرسان سے خبر آئی ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان جو مقدمہ صدیوں سے چلا آرہا تھا وہ آپس کے افہام و تفہیم سے نہ صرف ''طے'' بلکہ مکمل طے پا گیا، یہ مقدمہ دراصل اس زمانے سے چلا آرہا تھا جب سے ڈاکوؤں نے عوام کو گاہے گاہے لوٹنے اور پھر واپس چلے جانے کا طریقہ چھوڑ کر محافظ اور حکمران بننے کا فیصلہ کر لیا اور تلوار کے ساتھ قوانین کو بھی اسلحہ بنا لیا، یعنی گائے کو ایک مرتبہ ذبح کر کے کھانے کے بجائے دوہ کر کھانا شروع کیا، بے چاری گائے اس میں بھی خوش تھی کہ چلو اپنے کو گھاس اور بچھڑے کو دودھ تو مل جاتا تھا ۔
ایک غیر تحریری معاہدہ ہو گیا کہ پچاسی فیصد ''خاک بسر'' بوئیں گے، بنائیں گے، کمائیں گے، پیدا کریں گے اور پندرہ فیصد اہل ''سیف و قلم'' اس میں سے اپنا پندرہ فیصد مفت یا محافظت کا معاوضہ لے کر کھائیں گے لیکن پچاسی فیصد تو اپنے کام میں مصروف تھے جب کہ اشرافیہ کا طبقہ مفت کھا کھا کر موٹا ہوتا چلا گیا اور پچاسی فیصد کو پتہ بھی نہیں چلا کہ کیسے کب اور کس طرح معاملہ الٹا ہو گیا کہ پندرہ فیصد کے پاس پچاسی فیصد پہنچنے لگا اور پچاسی فیصد کے پاس صرف پندرہ فیصد رہ گیا۔
بات یہاں تک بھی ٹھیک تھی خاک بسر بے چارے خاکی خاکسار لوگ تھے، کماتے رہے اور پندرہ فیصد تاج بسر لوگوں کو پچاسی فیصد دیکھ کر برا بھلا گزارہ کرتے رہے لیکن تاج بسروں کو خاک بسروں کا پندرہ فیصد بھی برا لگنے لگا اور مختلف حیلوں بہانوں سے اس تناسب کو نوے دس کر دیا، اب بے چارے خاک بسر تعداد میں بڑھ گئے لیکن حصہ گھٹ کر دس ہو گیا جس میں ان بے چاروں کو صرف زندگی کا رشتہ قائم رکھنے کا کام بھی مشکل ہو گیا تب خاک بسر رو پڑے شور مچا... شاید اس سے بھی کچھ نہ ہوتا لیکن خود تاج بسروں میں یہ خوف پیدا ہو گیا کہ اگر خاک بسروں کو بھوکا مار دیا گیا تو ان کو کھلائے گا کون ... کیونکہ خود تو وہ پانی بھی اپنے ہاتھ سے نہیں پی سکتے تھے ۔ آخر کار اس مسئلے نے تنازعے، تنازعے نے جھگڑے اور جھگڑے نے مقدمے کی صورت اختیار کر لی، اس سے آگے پڑاؤ صرف جنگ تھا چنانچہ دونوں فریق آپس میں مل گئے اور سارے معاملات طے پا گئے ، جو تقریباً ان دو بھائیوں کے تنازعے کی طرح پایا کہ ایک بھائی نے دوسرے سے کہا کہ دیکھو باپ کی وفات پر جو کچھ ورثہ ہے اس کی تقسیم ہونی چاہیے۔
بڑے بھائی نے چونکہ سب کچھ قبضے میں لیا ہوا تھا اس لیے بولا کیسی تقسیم کس چیز کی تقسیم ؟ ... چھوٹا بولا دیکھو یہ دولت وولت ہے، جائیداد وائداد ہے، مکان وکان ہے۔ بڑے نے کہا ٹھیک... دولت وولت میں دولت میری، وولت تمہاری، جائیداد میری وائداد تمہاری، مکان وکان میں وکان تم لے لو اور مکان میرا ہوا، چنانچہ خاک بسروں اور تاج بسروں کے درمیان بھی یہ معاہدہ بحسن و خوبی طے پا گیا ہے کہ بوئیں گے وہ کھائیں گے یہ، پیدا کریں گے وہ اور غائب کریں گے یہ، بنائیں گے وہ اور بگاڑیں گے یہ ... ایک پیچیدہ مسئلہ قرض کا یوں طے ہوا کہ قرض لیں گے وہ اور ادا کریں گے یہ یعنی خدا مارے خاک بسر ... یہ آخری معاملہ تھوڑا سا گھمبیر ہو گیا تھا کیوں کہ خاک بسر اگرچہ حد درجہ سادہ لوح تھے لیکن یہ ان کو تھوڑا سا عجیب لگا کہ قرض وہ لے کر کھائیں اور چکائیں ہم ... چنانچہ اس کا فیصلہ ٹاس سے ہو گیا لیکن عقل کی طرح خاک بسروں کی قسمت بھی ان ہی کے جیسی تھی ، اس لیے ٹاس ہار گئے، لیکن معاہدہ کے مطابق اب وہ یہ فیصلہ ماننے کے پابند تھے کہ تاج بسروں کا لیا ہوا اور اڑایا ہوا قرضہ یہ ہی ادا کریں گے۔ بہرحال اس معاہدے پر چرچا کرنے کے لیے چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' تک نے ایک خصوصی پروگرام اپنے ٹاک شو چونچ بہ چونچ میں رکھا ہے، ملاحظہ ہو،
ہاں پروگرام کے شرکاء میں دو تو وہی ہمارے پرانے گردوں کے پھوڑے ہیں اور ایک خصوصی ماہر کو ہم نے مملکت اللہ داد ناپرسان سے مدعو کیا ہے، یہ ایک وزیر ابن وزیر اور ممکنہ طور پر ابو وزیر بن ابو وزیر ہیں اور قرض لینے کھانے ڈکارنے اور انکارنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں، نام ہے حضرت لین لین ولد نہ دیں نہ دیں صاحب
اینکر : ہاں تو جناب لین این ندیں صاحب
لین : لین لین دو مرتبہ تین مرتبہ کہئے کیوں کہ میرا پوتا بھی اب جوان اور لیڈر ہونے کے لائق ہو چکا ہے
اینکر : اچھا لین لین لین این ندیں ندیں ندیں صاحب
لین : اب ٹھیک ہے، پوچھئے کیا پوچھنے ہے
اینکر : پوچھنا یہ ہے کہ مملکت ناپرسان میں یہ جو نیا معاہدہ طے پا چکا ہے اس کی تفصیلات کیا ہیں
لین : تفصیلات کچھ نہیں البتہ وفصیلات بہت ہیں لیکن چونکہ وہ جائیداد منقولہ یا کالانعاموں میں شمار ہوتے ہیں اس لیے وہ بھی کچھ نہیں
علامہ : یعنی کچھ بھی کچھ نہیں
چشم : اور جہاں کچھ بھی نہیں ہوتا وہاں بہت کچھ ہوتا ہے
اینکر : یہ تم کیا کچھ کچھ کرنے لگے
لین : یہ کچھ کچھ ہی تو سب کچھ ہے
اینکر : اچھا اور کچھ
لین : اور کچھ یہ ہے کہ معاہدے کے مطابق ...
علامہ : وہ معاہدہ جو طے ہوا ہے
چشم : صرف طے ہی نہیں بلکہ پا چکا ہے جو جو پانا چاہتے
اینکر : آپ تو معمہ میں بات کر رہے ہیں
لین : اس لیے کہ یہ معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
علامہ : بات میں اب کیا رہ گیا ہے قرضہ تاج بسروں کا اور چکانا خاک بسروں کا
چشم : ویسے ہم نے تو یہ سنا ہے کہ ناپرسان کی اپنی آمدنی بھی کچھ کم نہیں ہے تو پھر یہ قرضہ
لین : دراصل ناپرسان ایک زرعی ملک تھا لیکن زراعت کے کھیت میں اتنے گدھے خچر گھوڑے ہاتھی گائے بھینس بکریاں چرتی اور لوٹتی رہتی ہیں کہ صرف گھاس ہی اگتی ہے
علامہ : ایک وجہ وہ کوے اور ہنس والی بھی ہے، تھا زرعی ملک لیکن صنعتی بنانے کے چکر میں نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا رہا
اینکر : لیکن سنا ہے کہ انڈسٹری بھی تو ... ماں کا سر کھا چکی ہے ۔
لین : ہاں لیکن انڈسٹری تو صرف قرضہ لینے اور پھر ہڑپنے کے لیے تھی نا
اینکر : یہ بتائیں کہ اب یہ جو قرضے پر سمجھوتہ ''طے'' اور پایا ہے تو کیا یہ پرانے قرضوں کے لیے ہے یا نئے قرضے بھی اس میں آتے ہیں
لین : پرانے قرضے جو اب تک ہڑپے جا چکے ہیں آیندہ کے لیے تو ...
علامہ : اور ہاں یہ قرضہ حسنہ ہے یا سودی
لین : نہ یہ قرضہ حسنہ ہے نہ سودی، بلکہ قرض ہنسنا ہے
چشم : یہ قرضے کی کون سی قسم ہے
لین : قرضہ حسنہ میں دینے والا روتا ہے اور لینے والا ہنستا ہے، سودی قرضہ ''ہنسنا'' میں لینے اور دینے والا دونوں ہنستے ہیں صرف ادا کرنے والے روتے ہیں یعنی خاک بسر ...
اینکر : جو لوگ یہ قرضہ دیتے ہیں وہ تو کوئی چیز گروہی بھی رکھتے ہیں
لین : اسی لیے خاک بسروں کو گروہ کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کو گروہی رکھا جا چکا ہوتا ہے۔
ایک غیر تحریری معاہدہ ہو گیا کہ پچاسی فیصد ''خاک بسر'' بوئیں گے، بنائیں گے، کمائیں گے، پیدا کریں گے اور پندرہ فیصد اہل ''سیف و قلم'' اس میں سے اپنا پندرہ فیصد مفت یا محافظت کا معاوضہ لے کر کھائیں گے لیکن پچاسی فیصد تو اپنے کام میں مصروف تھے جب کہ اشرافیہ کا طبقہ مفت کھا کھا کر موٹا ہوتا چلا گیا اور پچاسی فیصد کو پتہ بھی نہیں چلا کہ کیسے کب اور کس طرح معاملہ الٹا ہو گیا کہ پندرہ فیصد کے پاس پچاسی فیصد پہنچنے لگا اور پچاسی فیصد کے پاس صرف پندرہ فیصد رہ گیا۔
بات یہاں تک بھی ٹھیک تھی خاک بسر بے چارے خاکی خاکسار لوگ تھے، کماتے رہے اور پندرہ فیصد تاج بسر لوگوں کو پچاسی فیصد دیکھ کر برا بھلا گزارہ کرتے رہے لیکن تاج بسروں کو خاک بسروں کا پندرہ فیصد بھی برا لگنے لگا اور مختلف حیلوں بہانوں سے اس تناسب کو نوے دس کر دیا، اب بے چارے خاک بسر تعداد میں بڑھ گئے لیکن حصہ گھٹ کر دس ہو گیا جس میں ان بے چاروں کو صرف زندگی کا رشتہ قائم رکھنے کا کام بھی مشکل ہو گیا تب خاک بسر رو پڑے شور مچا... شاید اس سے بھی کچھ نہ ہوتا لیکن خود تاج بسروں میں یہ خوف پیدا ہو گیا کہ اگر خاک بسروں کو بھوکا مار دیا گیا تو ان کو کھلائے گا کون ... کیونکہ خود تو وہ پانی بھی اپنے ہاتھ سے نہیں پی سکتے تھے ۔ آخر کار اس مسئلے نے تنازعے، تنازعے نے جھگڑے اور جھگڑے نے مقدمے کی صورت اختیار کر لی، اس سے آگے پڑاؤ صرف جنگ تھا چنانچہ دونوں فریق آپس میں مل گئے اور سارے معاملات طے پا گئے ، جو تقریباً ان دو بھائیوں کے تنازعے کی طرح پایا کہ ایک بھائی نے دوسرے سے کہا کہ دیکھو باپ کی وفات پر جو کچھ ورثہ ہے اس کی تقسیم ہونی چاہیے۔
بڑے بھائی نے چونکہ سب کچھ قبضے میں لیا ہوا تھا اس لیے بولا کیسی تقسیم کس چیز کی تقسیم ؟ ... چھوٹا بولا دیکھو یہ دولت وولت ہے، جائیداد وائداد ہے، مکان وکان ہے۔ بڑے نے کہا ٹھیک... دولت وولت میں دولت میری، وولت تمہاری، جائیداد میری وائداد تمہاری، مکان وکان میں وکان تم لے لو اور مکان میرا ہوا، چنانچہ خاک بسروں اور تاج بسروں کے درمیان بھی یہ معاہدہ بحسن و خوبی طے پا گیا ہے کہ بوئیں گے وہ کھائیں گے یہ، پیدا کریں گے وہ اور غائب کریں گے یہ، بنائیں گے وہ اور بگاڑیں گے یہ ... ایک پیچیدہ مسئلہ قرض کا یوں طے ہوا کہ قرض لیں گے وہ اور ادا کریں گے یہ یعنی خدا مارے خاک بسر ... یہ آخری معاملہ تھوڑا سا گھمبیر ہو گیا تھا کیوں کہ خاک بسر اگرچہ حد درجہ سادہ لوح تھے لیکن یہ ان کو تھوڑا سا عجیب لگا کہ قرض وہ لے کر کھائیں اور چکائیں ہم ... چنانچہ اس کا فیصلہ ٹاس سے ہو گیا لیکن عقل کی طرح خاک بسروں کی قسمت بھی ان ہی کے جیسی تھی ، اس لیے ٹاس ہار گئے، لیکن معاہدہ کے مطابق اب وہ یہ فیصلہ ماننے کے پابند تھے کہ تاج بسروں کا لیا ہوا اور اڑایا ہوا قرضہ یہ ہی ادا کریں گے۔ بہرحال اس معاہدے پر چرچا کرنے کے لیے چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' تک نے ایک خصوصی پروگرام اپنے ٹاک شو چونچ بہ چونچ میں رکھا ہے، ملاحظہ ہو،
ہاں پروگرام کے شرکاء میں دو تو وہی ہمارے پرانے گردوں کے پھوڑے ہیں اور ایک خصوصی ماہر کو ہم نے مملکت اللہ داد ناپرسان سے مدعو کیا ہے، یہ ایک وزیر ابن وزیر اور ممکنہ طور پر ابو وزیر بن ابو وزیر ہیں اور قرض لینے کھانے ڈکارنے اور انکارنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں، نام ہے حضرت لین لین ولد نہ دیں نہ دیں صاحب
اینکر : ہاں تو جناب لین این ندیں صاحب
لین : لین لین دو مرتبہ تین مرتبہ کہئے کیوں کہ میرا پوتا بھی اب جوان اور لیڈر ہونے کے لائق ہو چکا ہے
اینکر : اچھا لین لین لین این ندیں ندیں ندیں صاحب
لین : اب ٹھیک ہے، پوچھئے کیا پوچھنے ہے
اینکر : پوچھنا یہ ہے کہ مملکت ناپرسان میں یہ جو نیا معاہدہ طے پا چکا ہے اس کی تفصیلات کیا ہیں
لین : تفصیلات کچھ نہیں البتہ وفصیلات بہت ہیں لیکن چونکہ وہ جائیداد منقولہ یا کالانعاموں میں شمار ہوتے ہیں اس لیے وہ بھی کچھ نہیں
علامہ : یعنی کچھ بھی کچھ نہیں
چشم : اور جہاں کچھ بھی نہیں ہوتا وہاں بہت کچھ ہوتا ہے
اینکر : یہ تم کیا کچھ کچھ کرنے لگے
لین : یہ کچھ کچھ ہی تو سب کچھ ہے
اینکر : اچھا اور کچھ
لین : اور کچھ یہ ہے کہ معاہدے کے مطابق ...
علامہ : وہ معاہدہ جو طے ہوا ہے
چشم : صرف طے ہی نہیں بلکہ پا چکا ہے جو جو پانا چاہتے
اینکر : آپ تو معمہ میں بات کر رہے ہیں
لین : اس لیے کہ یہ معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
علامہ : بات میں اب کیا رہ گیا ہے قرضہ تاج بسروں کا اور چکانا خاک بسروں کا
چشم : ویسے ہم نے تو یہ سنا ہے کہ ناپرسان کی اپنی آمدنی بھی کچھ کم نہیں ہے تو پھر یہ قرضہ
لین : دراصل ناپرسان ایک زرعی ملک تھا لیکن زراعت کے کھیت میں اتنے گدھے خچر گھوڑے ہاتھی گائے بھینس بکریاں چرتی اور لوٹتی رہتی ہیں کہ صرف گھاس ہی اگتی ہے
علامہ : ایک وجہ وہ کوے اور ہنس والی بھی ہے، تھا زرعی ملک لیکن صنعتی بنانے کے چکر میں نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا رہا
اینکر : لیکن سنا ہے کہ انڈسٹری بھی تو ... ماں کا سر کھا چکی ہے ۔
لین : ہاں لیکن انڈسٹری تو صرف قرضہ لینے اور پھر ہڑپنے کے لیے تھی نا
اینکر : یہ بتائیں کہ اب یہ جو قرضے پر سمجھوتہ ''طے'' اور پایا ہے تو کیا یہ پرانے قرضوں کے لیے ہے یا نئے قرضے بھی اس میں آتے ہیں
لین : پرانے قرضے جو اب تک ہڑپے جا چکے ہیں آیندہ کے لیے تو ...
علامہ : اور ہاں یہ قرضہ حسنہ ہے یا سودی
لین : نہ یہ قرضہ حسنہ ہے نہ سودی، بلکہ قرض ہنسنا ہے
چشم : یہ قرضے کی کون سی قسم ہے
لین : قرضہ حسنہ میں دینے والا روتا ہے اور لینے والا ہنستا ہے، سودی قرضہ ''ہنسنا'' میں لینے اور دینے والا دونوں ہنستے ہیں صرف ادا کرنے والے روتے ہیں یعنی خاک بسر ...
اینکر : جو لوگ یہ قرضہ دیتے ہیں وہ تو کوئی چیز گروہی بھی رکھتے ہیں
لین : اسی لیے خاک بسروں کو گروہ کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کو گروہی رکھا جا چکا ہوتا ہے۔