پاک ایران سرحدی مسائل کے حل میں پیش رفت

ضرورت دوطرفہ اعتماد کو مزید مستحکم اور قابل رشک بنانا ہے۔

۔ فوٹو : فائل

لاہور:
ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے پاکستانی وزیراعظم، آرمی چیف، وزیرداخلہ اور اسپیکرقومی اسمبلی سے الگ الگ ملاقات کی اور خطہ میں امن و استحکام کے امور پر تبادلہ خیال کیا ، حکومتی ذرایع نے اسے تسلی بخش اور مفید قرار دیا ہے، جب کہ پاکستان اور ایران نے سرحدی سیکیورٹی فورسز کے درمیان مختلف سرحدی مسائل کے فوری حل کے لیے ہاٹ لائن بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ روز ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں باہمی طور پر مفید تعاون کے فروغ کے لیے اقتصادی روابط کو وسعت دیتے رہیں گے۔ انھوں نے دوطرفہ تجارت میں5 ارب ڈالر کا ہدف جلد از جلد حاصل کرنے کے لیے دونوں اطراف سے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ ملاقات خوش آیند ہے، اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک کے دشمن پاک ایران تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، اور پاک ایران سرحد پر ایرانی بارڈر سیکیورٹی گارڈز کی شہادت سے متعلق ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان میں پیش آنے والے واقعہ پر وزیراعظم نے ایران کی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔


اس موقع پر چوہدری نثار علی خان اور جواد ظریف نے سرحدی انتظام، غیر قانونی انسانی و منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کے شعبوں میں باہمی تحفظات کو دور کرنے کے لیے فیصلہ کیا کہ مختلف سطحوں پر آپریشنل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو تعاون کے لیے شعبوں کی نشاندہی کرینگی، باہمی تحفظات کو دور کرینگی اور دونوں ممالک کے درمیان بالخصوص سرحدی انتظام، اطلاعات و انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور غیر قانونی انسانی و منشیات اسمگلنگ پر دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے تجاویز دیں گی۔

وزیر داخلہ نے ایرانی وزیر خارجہ سے کہاکہ آپ کے دورہ سے ان کو ایک مضبوط پیغام جائے گا جو پاک ایران تعلقات کو مجروح کرنا چاہتے ہیں اور ہمیشہ دونوں دوست ممالک کے مابین بداعتمادی پیدا کرنے کے لیے موقع کی تاک میں رہتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کا یہ عزم کہ کسی کو بھی اپنی سرحدیں اور سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کرنے دینگے لائق تحسین ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات میں مختلف شعبوں میں پاک ایران تعاون بڑھانے اورپاک ایران سرحدکو دہشت گردی سے پاک کرنے پر اتفاق کیا ۔ ضرورت دوطرفہ اعتماد کو مزید مستحکم اور قابل رشک بنانا ہے۔
Load Next Story