موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کم کردی
موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کم کردی،سیاسی کشیدگی سے غیر ملکی سرمایہ کاری اور ڈونرز کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے
15جنوری کوعدالتی فیصلے ، کرپشن کیخلاف دھرنے اور پاک بھارت کشیدگی نے پاکستان کا سیاسی استحکام خطرے میں ڈال دیا،رپورٹ فوٹو: رائٹرز/فائل
ISLAMABAD:
بین الااقوامی مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کم کردی ہے۔
پیر کو پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کے حوالے سے جاری ہونے والی موڈیز کی رپورٹ میں کہا گیاکہ آئی ایم ایف سے نیاقرضہ لینے میں تاخیر سے کرنٹ اکائونٹ خسارہ مزید دبائو کا شکار ہوسکتا ہے ۔ رواں سال جون تک پاکستان کو 3ارب ڈالر کی بیرونی قرضے کی ادائیگیاں کرنی ہیں جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر12ارب50کروڑ ڈالر سے کم ہوگئے ہیں۔
موڈیز کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم راجا پرویز اشرف سمیت کرپشن کیس میں دیگر 15افراد کی گرفتاری کا حکم ایسے وقت میں آیا جب ملک میں سیاسی کشیدگی کا ماحول چل رہا ہے جس کے باعث پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ منفی کرکے سی اے اے ون کردی گئی ہے۔
کیونکہ اس صورت حال کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سیاسی کشیدگی کے ماحول سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے قرض دینے والوں اور ڈونرز کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق 15جنوری کے سپریم کورٹ کے فیصلے اور علامہ طاہرالقادری کی جانب سے اسلام آباد میں انتخابی عمل اور کرپشن کے خلاف دھرنے اور سرحدپر پاک بھارت کشیدگی نے پاکستان کے سیاسی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔
اس صورت حال نے پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں ۔ روپے کی قدر میں کمی اور کیپٹل مارکیٹ میں کمی اس بات کے شواہد ہیں کہ ہر صورت حال پر سرمایہ کاروں کو شدید تشویش ہے۔
بین الااقوامی مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کم کردی ہے۔
پیر کو پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کے حوالے سے جاری ہونے والی موڈیز کی رپورٹ میں کہا گیاکہ آئی ایم ایف سے نیاقرضہ لینے میں تاخیر سے کرنٹ اکائونٹ خسارہ مزید دبائو کا شکار ہوسکتا ہے ۔ رواں سال جون تک پاکستان کو 3ارب ڈالر کی بیرونی قرضے کی ادائیگیاں کرنی ہیں جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر12ارب50کروڑ ڈالر سے کم ہوگئے ہیں۔
موڈیز کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم راجا پرویز اشرف سمیت کرپشن کیس میں دیگر 15افراد کی گرفتاری کا حکم ایسے وقت میں آیا جب ملک میں سیاسی کشیدگی کا ماحول چل رہا ہے جس کے باعث پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ منفی کرکے سی اے اے ون کردی گئی ہے۔
کیونکہ اس صورت حال کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سیاسی کشیدگی کے ماحول سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے قرض دینے والوں اور ڈونرز کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق 15جنوری کے سپریم کورٹ کے فیصلے اور علامہ طاہرالقادری کی جانب سے اسلام آباد میں انتخابی عمل اور کرپشن کے خلاف دھرنے اور سرحدپر پاک بھارت کشیدگی نے پاکستان کے سیاسی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔
اس صورت حال نے پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں ۔ روپے کی قدر میں کمی اور کیپٹل مارکیٹ میں کمی اس بات کے شواہد ہیں کہ ہر صورت حال پر سرمایہ کاروں کو شدید تشویش ہے۔