بیشتر ڈاکٹر چکن گنیا کے علاج کی معلومات نہیں رکھتے ماہرین عالمی ادارہ صحت
صرف علامات کی بنیاد پر علاج کیاجا رہا ہے، چکن گنیا کے مرض سے بچاؤ کی کوئی حفاظتی ویکسین دستیاب نہیں
کراچی میں مچھروں نے اپنی نرسریاں قائم کر رکھی ہیں، ضلعی سطح پر تشخیص اور علاج کے نظام کو موثر بنایا جائے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
MULTAN:
عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے کہا ہے کہ کراچی میں ڈاکٹروں کی اکثریت چکن گنیا مرض کے علاج کے بارے میں معلومات نہیں، متاثرہ مریضوں کا علاج علامات (کلینکل) کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے کراچی میں چکن گنیا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں مچھروں نے اپنی نرسریاں قائم کررکھی ہیں ،کراچی میںگندگی صٖفائی وستھرائی کے فقدان کی وجہ سے مچھروں کی افزائش نسل تیزی سے ہو رہی ہے۔ مچھروں کی وجہ سے چکن گنیا، ڈنگی اور ملیریا بھی تیزی سے پھیل رہا ہے، اس مرض کی کوئی حفاظتی ویکسین نہیں جبکہ سرکاری اسپتالوں میں اس مرض کی تشخیص کی بھی سہولتیں میسر نہیں، ضلعی سطح پر تشخیص اور علاج کے نظام کو موثر بنایا جائے، ہنگامی بنیادوں پر جراثیم کش ادویات اسپرے مہم شروع کی جائے تاہم عوام اور شعبہ طب سے تعلق رکھنے والوں کواس مرض کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے تربیتی ورکشاپس منعقد کرائی جائیں، عوام کو اس مرض سے محفوظ رکھنے کیلیے ملک گیر آگاہی مہم بھی شروع کی جائے۔
سفارشات جمعرات کوای پی آئی پروگرام کے دفتر میں مرتب کی گئیں جس کے بعد عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے اپنی سفارشات ڈائریکٹر صحت کراچی کے حوالے کیں،ڈائریکٹر صحت کراچی ڈاکٹر محمد توفیق نے بتایا کہ ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ کراچی میں ہنگامی بنیادوں پر صفائی ستھرائی کی مہم شروع کی جائے کیونکہ شہر میں جگہ جگہ گندگی اورکچرے کے ڈھیر لگے ہیں، ان مقامات پر مچھروں نے اپنی نرسریاں قائم کر رکھی ہیں، مچھروں کی وجہ سے ڈنگی، چکن گنیا اور ملیریا کا مرض شدت اختیار کر گیا ہے جبکہ صفائی کے ساتھ ماہرین نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ شہر میں جراثیم کش ادویات مچھر مار اسپرے مہم چلائی جائے ۔
علاوہ ازیں ڈاکٹروں بھی اس مرض کی علامات سے آگاہ کیا جائے، قبل ازیں متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے انکشاف کیا تھا کہ کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں چکن گنیا کے مرض کی تشخیص کی سہولتیں موجود نہیں جبکہ ڈاکٹروں کی اکثریت کو چکن گنیا کے مرض کی علامات کے بارے میں بھی معلومات نہیں رکھتے۔
واضح رہے کہ کراچی میں چکن گنیا کے مرض میں مبتلا روزانہ درجنوں افراد مختلف اسپتالوں میں آرہے ہیں جبکہ اب تک تقریباً 200افراد میں اس مرض کی تصدیق بھی ہو چکی ہے جس پر صوبائی محکمہ صحت نے عالمی ادارہ صحت سے چکن گنیا کے کیسزکی روک تھام اورٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔
عالمی ادارہ صحت کی ٹیم منگل کوکراچی آئی تھی ٹیم نے بدھ کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کیاجبکہ جمعرات کو اجلاس میں سفارشات جمع کرادیں، دوسری جانب ماہرین صحت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ چکن گنیا بچاؤکے لیے احتیاط کے طور پر صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جائے، مچھروں کا خاتمہ کیا جائے ، پوری آستینوں والے کپڑے ، موزے اور بند جوتے پہنے جائیں ، پانی زیادہ دیر تک کھڑا نہ رہنے دیں اور گندگی کو ختم کریں، جسم پر مچھر دور رکھنے والا محلول لگائیں۔
علاوہ ازیں ماہرین کا کہنا ہے کہ چکن گنیا کے علاج کیلئے کوئی خاص اینٹی وائرل ڈرگ اورویکسین موجود نہیں ہے تاہم سپورٹیو ٹریٹمنٹ دی جاتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے کہا ہے کہ کراچی میں ڈاکٹروں کی اکثریت چکن گنیا مرض کے علاج کے بارے میں معلومات نہیں، متاثرہ مریضوں کا علاج علامات (کلینکل) کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے کراچی میں چکن گنیا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں مچھروں نے اپنی نرسریاں قائم کررکھی ہیں ،کراچی میںگندگی صٖفائی وستھرائی کے فقدان کی وجہ سے مچھروں کی افزائش نسل تیزی سے ہو رہی ہے۔ مچھروں کی وجہ سے چکن گنیا، ڈنگی اور ملیریا بھی تیزی سے پھیل رہا ہے، اس مرض کی کوئی حفاظتی ویکسین نہیں جبکہ سرکاری اسپتالوں میں اس مرض کی تشخیص کی بھی سہولتیں میسر نہیں، ضلعی سطح پر تشخیص اور علاج کے نظام کو موثر بنایا جائے، ہنگامی بنیادوں پر جراثیم کش ادویات اسپرے مہم شروع کی جائے تاہم عوام اور شعبہ طب سے تعلق رکھنے والوں کواس مرض کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے تربیتی ورکشاپس منعقد کرائی جائیں، عوام کو اس مرض سے محفوظ رکھنے کیلیے ملک گیر آگاہی مہم بھی شروع کی جائے۔
سفارشات جمعرات کوای پی آئی پروگرام کے دفتر میں مرتب کی گئیں جس کے بعد عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے اپنی سفارشات ڈائریکٹر صحت کراچی کے حوالے کیں،ڈائریکٹر صحت کراچی ڈاکٹر محمد توفیق نے بتایا کہ ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ کراچی میں ہنگامی بنیادوں پر صفائی ستھرائی کی مہم شروع کی جائے کیونکہ شہر میں جگہ جگہ گندگی اورکچرے کے ڈھیر لگے ہیں، ان مقامات پر مچھروں نے اپنی نرسریاں قائم کر رکھی ہیں، مچھروں کی وجہ سے ڈنگی، چکن گنیا اور ملیریا کا مرض شدت اختیار کر گیا ہے جبکہ صفائی کے ساتھ ماہرین نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ شہر میں جراثیم کش ادویات مچھر مار اسپرے مہم چلائی جائے ۔
علاوہ ازیں ڈاکٹروں بھی اس مرض کی علامات سے آگاہ کیا جائے، قبل ازیں متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے انکشاف کیا تھا کہ کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں چکن گنیا کے مرض کی تشخیص کی سہولتیں موجود نہیں جبکہ ڈاکٹروں کی اکثریت کو چکن گنیا کے مرض کی علامات کے بارے میں بھی معلومات نہیں رکھتے۔
واضح رہے کہ کراچی میں چکن گنیا کے مرض میں مبتلا روزانہ درجنوں افراد مختلف اسپتالوں میں آرہے ہیں جبکہ اب تک تقریباً 200افراد میں اس مرض کی تصدیق بھی ہو چکی ہے جس پر صوبائی محکمہ صحت نے عالمی ادارہ صحت سے چکن گنیا کے کیسزکی روک تھام اورٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔
عالمی ادارہ صحت کی ٹیم منگل کوکراچی آئی تھی ٹیم نے بدھ کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کیاجبکہ جمعرات کو اجلاس میں سفارشات جمع کرادیں، دوسری جانب ماہرین صحت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ چکن گنیا بچاؤکے لیے احتیاط کے طور پر صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جائے، مچھروں کا خاتمہ کیا جائے ، پوری آستینوں والے کپڑے ، موزے اور بند جوتے پہنے جائیں ، پانی زیادہ دیر تک کھڑا نہ رہنے دیں اور گندگی کو ختم کریں، جسم پر مچھر دور رکھنے والا محلول لگائیں۔
علاوہ ازیں ماہرین کا کہنا ہے کہ چکن گنیا کے علاج کیلئے کوئی خاص اینٹی وائرل ڈرگ اورویکسین موجود نہیں ہے تاہم سپورٹیو ٹریٹمنٹ دی جاتی ہے۔