اے این پی کابائیکاٹ کرنیوالی جماعتوں سے دوبارہ رابطے کااعلان

دہشت گردی پورے ملک کامسئلہ ہے،قیام امن کیلیے پہلاآپشن مذاکرات ہی ہیں،اسفندیارولی

باچاخان،ولی خان کے خوابوں کوحقیقت کارنگ دیدیا،پشاور میں برسی کی تقریب سے خطاب فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی خان نے ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک مرتبہ پھر مشترکہ طور پرحکمت عملی تیارکرنیکی دعوت اور بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں سمیت تمام پارٹیوں سے دوبارہ رابطے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی اپنا ایجنڈا کسی پر مسلط نہیں کرنا چاہتی بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں اپنے ایجنڈے پر اے این پی کی اے پی سی میں شرکت کریں تاکہ ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

جس کے لیے آج بھی ہمارا پہلا آپشن مذاکرات ہی ہیں تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو پھر دیگرآپشنز کا استعمال کرنا چاہیے،وہ پیر کے روز اے این پی ضلع اورسٹی ڈسٹرکٹ کے زیراہتمام باچاخان اوررہبر تحریک ولی خان کی مشترکہ برسی کی تقریب سے نشتر ہال میں خطاب کررہے تھے،اس موقع پر وزیراعلیٰ امیر حیدرہوتی،اے این پی کے صوبائی صدرسینیٹرافراسیاب خٹک،پشاور میں ایران کے قونصلر جنرل حسن درویش ونداور دیگرموجود تھے ۔




اسفندیارولی نے کہاکہ دہشت گردی صرف اے این پی کا نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے ،اگر یہ صرف اے این پی کا مسئلہ ہوتا تو پھر جی ایچ کیو ،کراچی میں نیول بیس اور دیگر مقامات پرکیوں حملے ہوتے؟ اس لیے تمام پارٹیوں کو مل کر اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ کراچی میں موجود تمام قوتیں آج اس بات پر متفق ہوگئی ہیں کہ وہاں پرامن قائم کیاجائے کیونکہ کراچی منی پاکستان ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story