سیاسی گند عدالتی لانڈری میں نہیں دھلنا چاہیے
ہمارے ہاں عدالت کے فیصلوں کو دل سے قبول کرنے کی روایت ہی نہیں رہی
فوٹو: فائل
SYDNEY:
چیف جسٹس آف پاکستان نے جمعرات کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر تحریک کے خلاف منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ امریکی اسکالر کے مطابق سیاسی گند عدالتی لانڈری میں نہیں دھلنا چاہیے تاہم اب سیاسی معاملات عدالت میں آ چکے ہیں' انھیں مناسب طریقے سے آگے لے کر چلیں گے۔
اس وقت سیاسی میدان میں حکومت اور اپوزیشن میں ایک دوسرے کو نااہل قرار دلوانے اور اقتدار کے کھیل سے باہر کرنے کے لیے ایک دوڑ شروع ہو چکی ہے اور ہر کوئی اپنے مقصد کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے اور چاہتا ہے کہ عدالت صرف اس کے دلائل کو حقیقت بر مبنی،حتمی اور ٹھوس ثبوت سمجھتے ہوئے اس کے مخالف کے خلاف فیصلہ سنا دے۔ لیکن عدالت بارہا قرار دے چکی ہے کہ وہ فیصلہ کسی کے خواہش کے مطابق نہیں سناتی بلکہ ٹھوس ثبوت،آئینی اور عدالتی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے ہی وہ فیصلہ سناتی ہے خواہ اسے کوئی فریق پسند کرے یا نا پسند۔
اب تک کا جو سیاسی منظر نامہ ابھرتا ہے اس کا ہر عکس اس امر کو واضح کرتاہے کہ عدالتی فیصلہ جس فریق کے حق میں آ جائے وہ اسے منصفانہ قرار دیتا اور مخالف فریق اسے تسلیم نہ کرنے کی گردان کرتے ہوئے مخالفانہ بیانات اور الزامات کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ پھر یہ نعرہ احتجاج بلند کیا جاتا ہے کہ اب فیصلہ عوامی عدالت میں ہو گا اور متاثرہ فریق دوسرے فریق کے خلاف جلسے جلوس اور دھرنوں کی آڑ میں اپنا سیاسی رنگ جمانا شروع کر دیتا ہے۔
ہمارے ہاں عدالت کے فیصلوں کو دل سے قبول کرنے کی روایت ہی نہیں رہی اور یہ روایت بدستور پختہ ہوتی چلی جا رہی ہے۔اس روایت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت سے من مانے فیصلے لینے کی خواہش کے بجائے ثبوت کی بنیاد پر ہونے والے عدالتی فیصلے کو تسلیم کر لیا جائے تو اس سے نہ صرف جمہوری روایات پختہ ہوں گی بلکہ سیاستدانوں کے قد کاٹھ میں بھی اضافہ ہو گا۔
بعض اوقات ایک سیاسی فریق اپنے مخالف کو تنگ کرنے اور اس کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کے لیے بھی عدالت جا پہنچتا ہے۔ اس حربے سے مخالف فریق کو کرپٹ اور نااہل ثابت کرنے کی کوشش اور عوامی ہمدردیاں سمیٹنے میں آسانی ہو جاتی ہے اور مقدمہ کرنے والا عوام کے سامنے اپنے مخالف فریق کو کرپٹ ثابت کرنے کا نعرہ بلند کر کے اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کی تگ و پو کرتا ہے۔
اس وقت ہمارے ہاں سیاست جلسے جلوسوں سے ہوتے ہوئے عدالت کے کٹہرے تک جا پہنچی ہے۔ ہر فریق دوسرے کو عدالت میں گھسیٹنے کے لیے بے چین ہوا جا رہا ہے اور دوسرے کو صادق و امین کے درجے سے گرا کر جھوٹا ثابت کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ سیاستدانوں کے اسی رویے کی نشاندہی کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کو یہ کہنا پڑا کہ سیاسی گند عدالتی لانڈری میں نہیں دھلنا چاہیے تاہم اب سیاسی معاملات عدالت میں آ چکے ہیں تو انھیں مناسب طریقے سے آگے لے کر چلیں گے۔
سیاستدان الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بناتے چلے آ رہے ہیں۔ اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو مکمل غیرجانبدار اور بااختیار بنایا جائے تاکہ کسی کو انتخابی نتائج میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن پر انگلی نہ اٹھانا پڑے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے جمعرات کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر تحریک کے خلاف منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ امریکی اسکالر کے مطابق سیاسی گند عدالتی لانڈری میں نہیں دھلنا چاہیے تاہم اب سیاسی معاملات عدالت میں آ چکے ہیں' انھیں مناسب طریقے سے آگے لے کر چلیں گے۔
اس وقت سیاسی میدان میں حکومت اور اپوزیشن میں ایک دوسرے کو نااہل قرار دلوانے اور اقتدار کے کھیل سے باہر کرنے کے لیے ایک دوڑ شروع ہو چکی ہے اور ہر کوئی اپنے مقصد کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے اور چاہتا ہے کہ عدالت صرف اس کے دلائل کو حقیقت بر مبنی،حتمی اور ٹھوس ثبوت سمجھتے ہوئے اس کے مخالف کے خلاف فیصلہ سنا دے۔ لیکن عدالت بارہا قرار دے چکی ہے کہ وہ فیصلہ کسی کے خواہش کے مطابق نہیں سناتی بلکہ ٹھوس ثبوت،آئینی اور عدالتی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے ہی وہ فیصلہ سناتی ہے خواہ اسے کوئی فریق پسند کرے یا نا پسند۔
اب تک کا جو سیاسی منظر نامہ ابھرتا ہے اس کا ہر عکس اس امر کو واضح کرتاہے کہ عدالتی فیصلہ جس فریق کے حق میں آ جائے وہ اسے منصفانہ قرار دیتا اور مخالف فریق اسے تسلیم نہ کرنے کی گردان کرتے ہوئے مخالفانہ بیانات اور الزامات کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ پھر یہ نعرہ احتجاج بلند کیا جاتا ہے کہ اب فیصلہ عوامی عدالت میں ہو گا اور متاثرہ فریق دوسرے فریق کے خلاف جلسے جلوس اور دھرنوں کی آڑ میں اپنا سیاسی رنگ جمانا شروع کر دیتا ہے۔
ہمارے ہاں عدالت کے فیصلوں کو دل سے قبول کرنے کی روایت ہی نہیں رہی اور یہ روایت بدستور پختہ ہوتی چلی جا رہی ہے۔اس روایت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت سے من مانے فیصلے لینے کی خواہش کے بجائے ثبوت کی بنیاد پر ہونے والے عدالتی فیصلے کو تسلیم کر لیا جائے تو اس سے نہ صرف جمہوری روایات پختہ ہوں گی بلکہ سیاستدانوں کے قد کاٹھ میں بھی اضافہ ہو گا۔
بعض اوقات ایک سیاسی فریق اپنے مخالف کو تنگ کرنے اور اس کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کے لیے بھی عدالت جا پہنچتا ہے۔ اس حربے سے مخالف فریق کو کرپٹ اور نااہل ثابت کرنے کی کوشش اور عوامی ہمدردیاں سمیٹنے میں آسانی ہو جاتی ہے اور مقدمہ کرنے والا عوام کے سامنے اپنے مخالف فریق کو کرپٹ ثابت کرنے کا نعرہ بلند کر کے اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کی تگ و پو کرتا ہے۔
اس وقت ہمارے ہاں سیاست جلسے جلوسوں سے ہوتے ہوئے عدالت کے کٹہرے تک جا پہنچی ہے۔ ہر فریق دوسرے کو عدالت میں گھسیٹنے کے لیے بے چین ہوا جا رہا ہے اور دوسرے کو صادق و امین کے درجے سے گرا کر جھوٹا ثابت کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ سیاستدانوں کے اسی رویے کی نشاندہی کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کو یہ کہنا پڑا کہ سیاسی گند عدالتی لانڈری میں نہیں دھلنا چاہیے تاہم اب سیاسی معاملات عدالت میں آ چکے ہیں تو انھیں مناسب طریقے سے آگے لے کر چلیں گے۔
سیاستدان الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بناتے چلے آ رہے ہیں۔ اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو مکمل غیرجانبدار اور بااختیار بنایا جائے تاکہ کسی کو انتخابی نتائج میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن پر انگلی نہ اٹھانا پڑے۔