پاناما لیکس… جے آئی ٹی کا قیام

جے آئی ٹی کی سربراہی ایف آئی اے کے ایک سینئر افسر واجد ضیاء کریں گے

۔ فوٹو: فائل

پاناما پیپرز لیکس کے کیس میں عدالت عظمیٰ کے لارجر بنچ کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی (جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم) بنا دی ہے۔ اس ٹیم کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ اس جے آئی ٹی کی سربراہی ایف آئی اے کے ایک سینئر افسر واجد ضیاء کریں گے جو پانامہ لیکس کی روشنی میں وزیراعظم اور ان کے بچوں کے اثاثوں کا جائزہ لے گی۔ یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے تشکیل دی ہے جس کی سربراہی جسٹس اعجاز افضل خان کر رہے ہیں۔

بنچ نے جے آئی ٹی ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کی سربراہی میں قائم کی ہے جو 21 گریڈ کے افسر ہیں۔ جے آئی ٹی کے دیگر اراکین میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل بلال رسول، قومی احتساب بیورو کے ڈائریکٹر عرفان نعیم منگی کے علاوہ آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر محمد لقمان سعید، جب کہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے بریگیڈیئر کامران خورشید شامل ہیں۔ ان ناموں پر کسی قسم کو کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔


یاد رہے کہ 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے قیام کا فیصلہ سنایا تھا تا کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے اثاثوں کی تحقیقات کی جائے۔ پاناما کیس پاکستان کی تاریخ کا انتہائی اہم مقدمہ ہے، اس پر پورے ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی نظریں لگی رہیں،اس حوالے سے سیاست اور سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ اصولی طور پر جب کوئی مقدمہ عدالت میں زیرسماعت ہو یا کوئی تحقیقاتی ادارہ یا کمیشن اس کی تحقیقات کر رہا ہو تو اس پر سیاسی نوعیت کی بیان بازی نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر طنز یا منفی جذبات کا اظہار ہونا چاہیے۔

کسی بھی کیس کے فیصلے کا انحصار اس کیس سے متعلق ثبوتوں پر ہوتا ہے۔کسی بھی مقدمے میں فریقین کے وکلاء عدالت کے سامنے ثبوت پیش کرتے ہیں اور گواہوں سے جرح کے دوران سچ سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں، انھی دلائل اور ثبوتوں کی روشنی میں عدالت مقدمے کا فیصلہ سناتی ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اب پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل پا چکی ہے لہٰذا اس ٹیم کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور اس کے حوالے سے بے معنی قسم کی گفتگو اور بیان بازی بند ہونی چاہیے تاکہ جے آئی ٹی اپنی پوری توجہ سچ تک پہنچنے پر دے سکے ۔

 
Load Next Story