مرد اور خواتین ووٹروں کی تعداد میں تفاوت

پاکستان کے قبائلی اور جاگیردارانہ کلچر کے حامل علاقوں میں عورتوں کا بطور ووٹر اندراج نہیں کرایا جاتا

فوٹو : فائل

لاہور:
اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے کہا ہے کہ خواتین کے لیے قومی شناختی کارڈز کے اجراء کے لیے خصوصی مہم شروع کی جائے تا کہ الیکشن کمیشن مرد اور خواتین ووٹروں کی تعداد میں جو بھاری تفاوت ہے اسے کم کر سکے۔ واضح رہے فی الوقت مرد اور خواتین ووٹروں کی تعداد میں 12.17 ملین (ایک کروڑ 21 لاکھ ستر ہزار) ووٹروں کا فرق ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اس مسئلہ پر چیف الیکشن کمشنر اور نادرا کے چیئرمین کے مابین جمعہ کو بات چیت ہوئی اور چیئرمین نادرا نے یقین دہانی کرائی کہ اس مسئلہ کے حل کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ سیاسی عمل میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کے اقدامات کیے جانے ناگزیر ہیں۔


ایک اندازے کے مطابق خواتین ووٹروں کی تعداد مردوں کی نسبت 40 فیصد سے بھی زیادہ کم ہے۔ 2013 کے عام انتخابات کے موقع پر تقریباً دو کروڑ ووٹروں کا فرق تھا جس میں 2015 میں مزید اضافہ ہو گیا۔ 2002 میں ووٹروں کا تناسب فی 100 مردوں کے مقابلے میں 86 عورتیں تھا۔ ملک کے بعض پسماندہ علاقوں میں لوگ جان بوجھ کر اپنی خواتین کا اندراج نہیں کراتے۔ 2008 میں خواتین ووٹروں کی تعداد میں اضافے کے بجائے الٹا اور زیادہ کمی واقع ہو گئی۔ اب اس تفاوت کو کم کرنے کے سرکاری سطح پر کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ پاکستان کے قبائلی اور جاگیردارانہ کلچر کے حامل علاقوں میں عورتوں کا بطور ووٹر اندراج نہیں کرایا جاتا، اگر ووٹر لسٹ میں اندراج ہے بھی تو خواتین کی اکثریت شناختی کارڈ سے محروم ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ جاگیردارانہ اور قبائلی معاشرت میں رچے بسے سیاست دان اور دانشور حضرات مردم شماری میں تو اپنے علاقوں کے باشندوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ درج کرانا چاہتے ہیں لیکن ان علاقوں میں سماجی تبدیلی لانے کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔ سیاسی ومذہبی جماعتیں بھی خواتین کے ووٹ درج کرانے کے عمل میں دلچسپی نہیں لیتیں اور نہ ہی ان کے شناختی کارڈ بنانے کے لیے کوئی مہم شروع کرتی ہیں۔ جن خواتین کے شناختی کارڈز موجود ہیں اور ووٹ بھی درج ہیں تو ووٹ ڈالنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ یہ رویے پاکستان کی پسماندگی کا بڑا سبب ہیں۔
Load Next Story