فلم انڈسٹری کے ذریعے متبادل بیانیے کی ضرورت

آج بھی فلم انڈسٹری ایک تفریحی صنعت سے بہت آگے جاکر قومی امنگوں اور ثقافتی قدروں کی ضامن اور امین بن سکتی ہے

۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
جدید دور میں فلمی صنعت کو ملک و قوم کی تہذیب و ثقافت کی شناخت کا درجہ حاصل ہے، جب کہ بعض عالمی شہرت یافتہ فلمی مبصرین کا کہنا ہے کہ فلم انڈسٹری کا تخلیقی معیار بنیادی شرط ہے، آج کی معاصر فلمی صنعتیں فلمی موضوعات کے حوالے سے انتہائی ہولناک مرکزی خیال پر کہانیاں فلماتی ہیں سائنس فکشن اور اینی میشن تک میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کے پیغام کو سمویا جاتا ہے، جن میں تشدد، قتل وغارت، جنگی منصوبہ بندی، لرزہ خیز خونریزی اور دہشتگردی کے مناظر سے بڑے اسکرین پر امن سے زیادہ تشدد کے واقعات کی گرافک تفصیلات نے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں، فلمیں پروپیگنڈہ میں بجھا ہوا زہریلا تیر بن کر رہ گئی ہیں، اس کے جواب میں موثر بیانیے کی اشد ضرورت ہے۔ دشمن ملک مخاصمت میں ایسی مذموم فلموں سے اپنے بیانیہ کوبڑھاوا دیتے ہیں ، بھارت فلم سازی کے تکنیکی کام میں سنگ میل عبور کرچکا ہے مگر فلموں میں بھی پاکستان دشمنی سے باز نہیں آتا۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات اور قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ دنیا میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کرنے اور معاشرے سے انتہا پسندی و عدم برداشت کے خاتمے کے لیے متحرک فلم انڈسٹری وقت کی اہم ضرورت ہے، انتہا پسندی کے خلاف متبادل بیانیہ پیش کرنے کے لیے فلم انڈسٹری موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ وہ جمعہ کو گورنر ہاؤس میں فلم، پروڈکشن اور براڈ کاسٹنگ پالیسی 2017کے حوالے سے پہلے مشاورتی اجلاس کی افتتاحی تقریب کے موقع پریزنٹیشن اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگوکررہی تھیں۔

گورنر سندھ محمد زبیر اور دیگر شخصیات اس موقعے پر موجود تھیں۔ بلاشبہ وزیر اعظم کی سربراہی میں ملک کی پہلی فلم ، پروڈکشن اور براڈ کاسٹ پالیسی کی تشکیل ایک خوش آیند اقدام ہے۔ وزیر مملکت کے مطابق 60 کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری ایشیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری میں شمار کی جاتی تھی اس وقت 160 سے 180 فلمیں ایک برس میں تیار کی جارہی تھیں لیکن2007 میں یہ تعداد صفر پر آگئی جب کہ ملک کے زیادہ تر سنیما ہالز یا تو بند یا پھر شاپنگ سینٹر میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا درست ہے کہ ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج اور عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور فلم انڈسٹری کی بحالی سے انتہاپسندی کی سوچ کے خلاف متبادل بیانیہ کے فروغ میں مدد ملے گی۔

حب الوطنی کے فروغ میں فلم انڈسٹری اہم کردار ادا کر سکتی ہے، یہ اطلاع کہ پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے بچوں کے لیے ایک چینل بن رہا ہے اچھی سوچ کی ترجمانی ہے۔ بلاشبہ ہمیں بھی کسی والٹ ڈزنی کی ضرورت ہے، اینی میشن یونیورسٹی قائم ہونی چاہیے، علاقائی زبانوں میں بننے والی فلموں کی قدر افزائی اور ان کی مالی سرپرستی ہونی چاہیے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ایک مخصوص سوچ نے طے شدہ ایجنڈے کے تحت ثقافتی خلفشار کے بیج بوئے اور فکری و ثقافتی اقدار کی تعریف و توضیحات کے گھناؤنے چکر میں اداروں پر کنٹرول حاصل کیا، فن وفنکار معتوب ٹھہرے ، فلم انڈسٹری ریاستی و حکومتی ترجیح سے محروم رہی جب کہ تقسیم ہند سے پہلے بمبئی کی فلمی صنعت کو سرکار کی مکمل مالغار کا سامنا رہا، ہم ثابت قدم رہے، آج بھی فلم میڈیم یا بڑے اسکرین کے ذریعے نہ صرف دشمن کے گمراہ کن پروپیگنڈہ کا توڑ کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے مذموم عزائم کے خلاف فلم میڈیم ایک موثر وسیلہ ہے۔


ملک میں بے شمار معیاری فلمیں بنیں اگرچہ ناقدری کے اثرات مستقل رہے، حکومتیں فلمی شخصیات کو لالی پاپ دیتی رہیں ، فلم اندسٹری کو ٹیکسون کے بوجھ تلے دبایا گیا، فلم ڈسٹری بیوشن ایگزی بیشن اور اسٹوڈیوز کی کسمپرسی کے ساتھ ساتھ سینماؤں کی ٹوٹ پھوٹ اور فنکاروں کی ناقدری نے بڑے مسائل پیدا کیے، ثقافت کھوکھلی ہوتی چلی گئی، ہمارا سٹیج اور ٹی وی ڈرامہ جمود زدہ ہوگیا، فلمیں بے معنی رومانس، بلاجواز گلیمر سے معمور ہیں ، یا پھر ڈزا ڈز تے کھچا کھچ کے سوا کچھ بھی نہیں، وہ سنجیدہ فنکار و ہدایت کار کہاں کھو گئے؟

تہواروں سے دشمنی کو عروج حاصل ہوا ،عدم رواداری کے باعث لوگ ''سب دن چنگے تہوار کے دن ننگے'' کے مصداق ہوگئے ، رہی سہی کسر انتہا پسندی کی لہر نے پوری کردی۔ ایسی صورتحال میں فلم پروڈکنشنز، اداکارنہ ہمہ گیریت اور فلموں کے ذریعے دیے جانے والے عالمی پیغام کے ذریعے امن، استحکام ، خوشحالی اور عوامی آسودگی کا پیغام فلموں سے کیسے دیا جانا تقاضائے وقت ہے تاکہ فلمی صنعت دنیا کو بتادے کہ پاکستان کی تہذیب و ثقافت کیا ہے، لہٰذا آج بھی فلم انڈسٹری ایک تفریحی صنعت سے بہت آگے جاکر قومی امنگوں اور ثقافتی قدروں کی ضامن اور امین بن سکتی ہے۔

فلم انڈسٹری کی تخلیقی جست اسے آسکر ایوارڈز سے روشناس کرا چکی ہے ، یوں سماجی و معاشی ترقی ، معاشرہ کی سچی اور حقیقت پسندانہ عکاسی ، سیاسی و سفارتی شناخت اور سافٹ امیج کے لیے فلم انڈسٹری کی ضروریات کا خیال رکھنے سے کوئی بھی حکومت صرف نظر کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ یہ صنعت تفریح و ثقافت کا ایک اہم اور سنجیدہ حوالہ ہے اور موجودہ حکومت نے فلم میڈیم کو درپیش مسائل کے جس ایجنڈہ کا اعلان کیا ہے وہ بے حد خوش آیند ہے۔

 
Load Next Story