استاد رئیس خان ستار نوازی کی دنیا کا روشن ستارہ ٹوٹ گیا

استاد رئیس خان نے جہاں ستار نوازی میں نئی جہتوں کو متعارف کرایا وہاں کئی گیتوں کے لیے لازوال دھنیں مرتب کیں

۔ فوٹو: نیٹ

برصغیر پاک و ہند کے ممتاز ستار نواز اور موسیقار استاد رئیس خان طویل علالت کے باعث اگلے روز کراچی میں انتقال کر گئے۔ مرحوم کی عمر 78سال تھی۔ انھیں کراچی میں سپرد خاک کردیا گیا۔ وہ ہندوستان کے مغل دربار سے شروع ہونے والے میوات گھرانے کی تیرہویں نسل سے تعلق رکھتے تھے۔

استاد رئیس خان نے جہاں ستار نوازی میں نئی جہتوں کو متعارف کرایا وہاں کئی گیتوں کے لیے لازوال دھنیں مرتب کیں، ان کی دھنوں والے گیت بے پناہ مقبول ہوئے، جن میں 'نیند آنکھوں سے اڑی پھول سے خوشبو کی طرح۔ جب تیرا حکم ملا ترک محبت کر دی۔ اب کے سال پونم میں' موجو ساحل سے ملو۔ میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے۔ کبھی کتابوں میں پھول رکھنا سمیت دیگر دھنیں شامل ہیں۔ یہ دل موہ لینے والے گیت اور غزلیں آج بھی مقبول ہیں۔


مرحوم کو 2007ء میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جب کہ موجودہ صدر نے 23 مارچ 2017ء کو انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا ۔ استاد رئیس خان اپنے فن کے بادشاہ تھے، وہ فنکاروں کی اس نسل کے نمائندہ تھے، جن کی پہچان اور شناخت تہذیب اور شائستگی تھی۔

استاد رئیس خان اور استاد بسم اللہ خان اکثر مواقع پر اکٹھے پرفارم کرتے تھے' استاد رئیس خان کے ستار اور استاد بسم اللہ خان کی شہنائی کی جگل بندی سماں باندھ دیتی تھی' استاد رئیس کی وفات سے موسیقی خصوصاً ستار نوازی کی دنیا میں بڑا خلا پیدا ہو گیا' ستار نوازی سے وابستہ موجودہ اور آنے والی نسل کو ان کے مقام تک پہنچنے کے لیے انتھک جدوجہد کرنا ہو گی۔
Load Next Story