امریکی قوم کا امتحان
امریکا نے ہمیں اپنے جال میں گرفتار کیا تھا یا ہم خود اس کی طرف سے بھیجے گئے غذائی سامان اور اسلحے کی طرف لپکے تھے
zahedahina@gmail.com
قوموں اور نسل انسانی کی بات کی جائے تو قومی اور شخصی آزادی، احتیاج سے نجات اور تحریر و تقریر کی آزادی کی بات صدیوں نہیں ہزاروں برس پر پھیلی ہوئی ہے۔ گزرے ہوئے ہزاروں برسوں کے دوران انسان نے کیسے سنہرے اور رنگین خواب دیکھے ہیں لیکن آج صرف امریکا کی بات کی جائے جہاں صدیوں کے دوران ذلت، غربت، جہالت، نسلی امتیاز اور جنسی استحصال کے مارے ہوئے سیاہ فاموں نے جانوروں سے بدتر زندگی گزاری۔ انھیں اس اندھیری رات میں امید کی کرن بھی نظر نہیں آتی تھی۔
پیٹھ پر پڑنے والے چابکوں کی اذیت انھیں گندے اورکھردرے بستر سے پشت نہیں ٹکانے دیتی تھی۔ درد اور دکھوں کے جہنم میں جلتے ہوئے بھی وہ کھلی آنکھوں سے آزادی کے خواب دیکھتے رہے۔ انسانی شرف کی بلندیوں پر فائز ہونے کا خواب انھوں نے غلامی کی دلدلوں میں دھنستے ہوئے بھی دیکھا اور اس روزکی امید کا چراغ اپنے دلوں میں جلائے رکھاکہ جب وہ مشقت کرنے والا دوپایہ نہیں، ایک انسان سمجھے جائیں گے۔ ان سب کے دلوں میں یہ یقین زندہ رہا کہ وہ دن ضرور آئے گا۔
امریکا جسے ہم اپنی لامتناہی ابتلائوں کا ذمے دار خیال کرتے ہیں، اس کے بارے میں ہم کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ امریکا نے ہمیں اپنے جال میں گرفتار کیا تھا یا ہم خود اس کی طرف سے بھیجے جانے والے غذائی سامان اور ازکار رفتہ اسلحے کی طرف لپکے تھے اور اس جال میں بہ خوشی پھنستے چلے گئے جو آج ہماری گردنوں کو اپنے شکنجے میں کسے ہوئے ہے اور ہم اس میں پھڑپھڑاتے ہوئے بے دم ہوئے جاتے ہیں۔
آج ہم ٹیلی ویژن اسکرین پر مختلف نسلوں اور قوموں سے تعلق رکھنے والوں، درجنوں زبانیں بولنے والے لوگوں کا صف در صف اجتماع دیکھ رہے ہیں جو بارک اوباما کی دوسری مرتبہ رسمِ حلف برداری کو دیکھنے اور اس میںحصہ لینے کے لیے جمع ہوا ہے۔ کہا یہ جا رہا تھا واشنگٹن میں کیپٹل ہل کے سامنے اس مرتبہ اس تقریب میں شرکت کرنے والوں کی تعداد 2009کی نسبت کم ہوگی لیکن تخمینہ لگانے والے غلط ثابت ہوئے ہیں اور مجمع 9 لاکھ تک پہنچ گیا ہے۔ ہم نے چند دنوں پہلے اسلام آباد کے ایک چوک پرچالیس لاکھ کے اجتماع کے مضحکہ خیز دعوے سنے تھے۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ 9 لاکھ انسان کسی ایک جگہ پر اکٹھے ہوں تواس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ نئے صدر کو سلامی دینے کے لیے توپیں گرج رہی ہیں اور انسانوں کا یہ شاندار اجتماع تالیاں بجارہا ہے۔
ڈیڑھ سوبرس پہلے واشنگٹن کا یہی شہر تھا، جنوری 1863کا آغاز ہوچکا تھا اور خانہ جنگی میں حصہ لینے والے باغیوں کی فوجیں پسپا ہوگئی تھیں۔ تب سیاہ فام غلاموں کی آزادی کے حق کے لیے لڑنے والے امریکا کے سفید فام صدر ابراہم لنکن نے کہا تھاکہ میں نے اپنے دل میں مصمم ارادہ کرچکا تھا کہ جیسے ہی باغی آخری محاذ سے پسپا ہوں گے میں غلاموں کی آزادی کا اعلان کردوں گا۔ 1863کا پہلا دن تھا۔ جب نئے سال کا جشن منایا جارہا تھا۔ صبح کا وقت ابراہم لنکن نے وہائٹ ہائوس میں لوگوں سے نئے سال کی مبارکباد وصول کرتے ہوئے اور انھیں مبارکباد دینے میں گزارا۔ پھر وہ اپنے دفتر میں آیا اور اس نے غلامی کے خاتمے کے فرمان پر دستخط کردیے۔
اس روز لنکن نے خود سے یہ سوا ل کیا تھا کہ کیا ہم دنیا کی آخری امید کو شریفانہ طور پر پورا کریں گے یا اسے کمینگی کے ساتھ رد کردیں گے؟ اس نے آزادی کے فرمان پر دستخط کرتے ہوئے ایک دوست سے کہا کہ''
اگر غلامی ظلم نہیں ہے تو دنیا میں کوئی فعل بھی ظلم نہیں ہے۔ میں نے زندگی میں کبھی اس سے زیادہ درست کام نہیں کیا جو ابھی کرنے والا ہوں۔''
غلامی کے خاتمے کا خواب بہت سے لوگ دیکھتے رہے تھے لیکن یہ لنکن تھا جس نے اس خواب کی تکمیل کے لیے ایک ایسے آہنی عزم کا مظاہرہ کیا جس کی مثال امریکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس نے غلاموں کو آزاد کرنے کے لیے ایک خوفناک جنگ لڑی۔ یہ وہ جنگ تھی جس میں سفید فام امریکی ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ بھائی، بھائی سے اور باپ بیٹے سے لڑرہا تھا۔ اس خون آلود فضا میں سیاہ فاموں کی آزادی کے لیے لنکن نے جو خواب دیکھا اس کی پاداش میںوہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔
امریکی سماج میں یہ خواب سفر کرتا رہا۔ کچھ امریکی دانشور اوربہ طور خاص سیاہ فام پادری، وکیل، طلبا اور شہری آزادی کی لڑائی لڑنے والے ایک نہایت مشکل اور صبر آزما سفر سے گزرے، ان میں سے سیکڑوں نے اپنی ذاتی خوشیاں اور چین آرام تج دیا، ان میں سے کچھ اپنی جان سے گزر گئے لیکن مساوات اور آزادی کا خواب ان کی آنکھوں میں زندہ رہا۔ ان میں سب سے نمایاں نام مارٹن لوتھرکنگ جونیئر کا ہے۔ جس نے کہا تھا ''ریاست ہائے متحدہ میں شہری حقوق کی تحریک کے اہم مراکز کہہ رہے ہیں کہ وقار، مساوات ، ملازمتیں اور شہریت کے مطالبات پر نہ کوئی سمجھوتا ہوگا اور نہ ان کو ملتوی کیاجائے گا ۔ اگر اس کا مطلب مزاحمت اور تنازعہ ہے تو جان لیا جائے کہ ہم دبنے والے نہیں۔ اب ہمیں خوف بھی نہیں آتا۔''
سیاہ فام عورتوں اور مردوں کو آئینی طور پر آزاد ہوجانے اور مساوی حقوق رکھنے کے باوجود نسلی امتیاز کا شکار رکھا گیا۔ ان ہی دنوں کو یاد کرتے ہوئے شہری حقوق کی تحریک کے ایک بزرگ رہنما ریورنڈ جوزف لووری نے دو دن پہلے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ 60کے دن تھے جب ایک سفید فام شخص چلتا ہوا آیا اور اس نے اپنا جلتا ہوا سگریٹ میرے بازو پر بجھا دیا۔ وہ ان دنوں کو یاد کرتا ہے جب اس کے چہرے پر ٹھنڈا مشروب پھینک دیا جاتا تھا۔
وہ اس الم ناک دن کو بھی یاد کرتا ہے جب وہ نسلی امتیاز کے خلاف ایک جلوس کی قیادت کررہا تھا اور اس کی نگاہوں کے سامنے چار سیاہ فام نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کردیاگیا تھا۔ میں اپنے لوگوں کے لیے شرف انسانی کی طلب میں کئی مرتبہ جیل گیا۔ میں بہ مشکل بارہ تیرہ برس کا تھا جب ایک سفید فام پولیس والے نے کسی سبب کے بغیر ربڑکے ڈنڈے سے میرے پیٹ پر ضرب لگائی۔ درد ناقابل برداشت تھا میں رونے لگا اور اسی دن سے میںنے تشدد سے نفرت شروع کردی۔ تشدد آپ کے ساتھ کیا جائے یا آپ کسی دوسرے کے ساتھ کریں قابل نفرت ہے۔
نسلی امتیاز اور شہری آزادیوں کے لیے لڑنے والوں میں سب سے مشہور نام مارٹن لوتھرکنگ جونیئر کا ہے۔ کنگ کو اس کی جدوجہد کے سبب نسل پرستوں نے گولی مارکر ہلاک کردیا لیکن وہ اس جدوجہد کو آگے بڑھنے سے نہ روک سکے جس کا آغاز ابراہم لنکن نے کیا تھا۔ کنگ کو امن کا نوبیل انعام برائے1964 دیا گیا۔ مارٹن لوتھر کنگ کی بے مثال تقریر ''میرا بھی ایک خواب ہے'' بیسویں صدی کی عظیم تقریروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ خواب جو لنکن اور کنگ جیسے نامور لوگوں نے دیکھا اور اسے دوسروں کو منتقل کرتے رہے، یہ اسی خواب کا جاری سفر ہے جو ہمیں بارک اوباما کے وجود میں مجسم ہوتا نظر آتا ہے۔ انھوں نے پہلا ناممکن کام یہ کر دکھا کہ وہ ڈیموکریٹس کی طرف سے صدارتی امیدوار نامزد ہوئے، پھر انھوں نے پہلا سیاہ فام صدر امریکا ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور اب وہ دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوچکے ہیں۔
انھوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں غربت، جنگ اور تشدد کے خلاف بات کی۔ یہ ان کے دعوے ہیں۔ ہم ان کے دعووئوں کو اسی وقت تسلیم کرسکتے ہیں جب تیسری دنیا کے انسانوں پر ان کے ان دعوئوں کے اثرات مرتب ہوں۔ لیکن ان کا اصل کلام تو اپنی قوم سے تھا۔ جس سے انھوں نے بے روزگاری، غربت، جنگ اور نابرابری ختم کرنے کے وعدے کیے۔ یہ ڈیڑھ سو برس پرانے ایک امریکی خواب کا تسلسل ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کنگ جونیر نے کہا تھا کہ'' امیر ملکوں میں مفلسوں کا خیال دلوں سے نکال دیا گیا ہے اور ان کو ہمارے سماج کے مرکزی دھارے سے بھی نکال باہر کردیا گیا ہے۔
بالکل اسی طرح جیسے عدم تشدد نے نسلی ناانصافی کی بدصورتی کو عیاں کردیا ہے، افلاس کی بیماری کو بھی منظر عام پر لانا ہوگا اور اس کا علاج کرنا ہوگا۔ مرض کی علامتوں ہی کو نہیں اس کی بنیادی وجوہ کو بھی دور کرنا ہوگا۔ یہ کام کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔اب افلاس کے شیطان سے عالمی پیمانے پر جنگ کرنے کا وقت آچکا ہے۔ دولت مند قوموں کو اپنے وسیع وسائل کو ترقی پذیر دنیا کی ترقی پر خرچ کرنا چاہیے۔ جاہل کو علم اور بھوکے کو غذا فراہم کرنی چاہیے۔ بڑی قوم ہمیشہ مہربان ہوتی ہے۔ وہ اگر ایسے لوگوں کے لیے فکر نہ کرے تو نہ کوئی فرد بڑا ہوسکتا ہے اور نہ کوئی قوم۔''
دیکھنا یہ ہے کہ امریکی قوم اپنے مدبروں اور دانشوروں کے خواب کا تعاقب کرتے ہوئے بڑا بننے کی کوشش کرتی ہے یا یہ محض نعرے اور دعوے ہی رہتے ہیں۔
پیٹھ پر پڑنے والے چابکوں کی اذیت انھیں گندے اورکھردرے بستر سے پشت نہیں ٹکانے دیتی تھی۔ درد اور دکھوں کے جہنم میں جلتے ہوئے بھی وہ کھلی آنکھوں سے آزادی کے خواب دیکھتے رہے۔ انسانی شرف کی بلندیوں پر فائز ہونے کا خواب انھوں نے غلامی کی دلدلوں میں دھنستے ہوئے بھی دیکھا اور اس روزکی امید کا چراغ اپنے دلوں میں جلائے رکھاکہ جب وہ مشقت کرنے والا دوپایہ نہیں، ایک انسان سمجھے جائیں گے۔ ان سب کے دلوں میں یہ یقین زندہ رہا کہ وہ دن ضرور آئے گا۔
امریکا جسے ہم اپنی لامتناہی ابتلائوں کا ذمے دار خیال کرتے ہیں، اس کے بارے میں ہم کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ امریکا نے ہمیں اپنے جال میں گرفتار کیا تھا یا ہم خود اس کی طرف سے بھیجے جانے والے غذائی سامان اور ازکار رفتہ اسلحے کی طرف لپکے تھے اور اس جال میں بہ خوشی پھنستے چلے گئے جو آج ہماری گردنوں کو اپنے شکنجے میں کسے ہوئے ہے اور ہم اس میں پھڑپھڑاتے ہوئے بے دم ہوئے جاتے ہیں۔
آج ہم ٹیلی ویژن اسکرین پر مختلف نسلوں اور قوموں سے تعلق رکھنے والوں، درجنوں زبانیں بولنے والے لوگوں کا صف در صف اجتماع دیکھ رہے ہیں جو بارک اوباما کی دوسری مرتبہ رسمِ حلف برداری کو دیکھنے اور اس میںحصہ لینے کے لیے جمع ہوا ہے۔ کہا یہ جا رہا تھا واشنگٹن میں کیپٹل ہل کے سامنے اس مرتبہ اس تقریب میں شرکت کرنے والوں کی تعداد 2009کی نسبت کم ہوگی لیکن تخمینہ لگانے والے غلط ثابت ہوئے ہیں اور مجمع 9 لاکھ تک پہنچ گیا ہے۔ ہم نے چند دنوں پہلے اسلام آباد کے ایک چوک پرچالیس لاکھ کے اجتماع کے مضحکہ خیز دعوے سنے تھے۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ 9 لاکھ انسان کسی ایک جگہ پر اکٹھے ہوں تواس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ نئے صدر کو سلامی دینے کے لیے توپیں گرج رہی ہیں اور انسانوں کا یہ شاندار اجتماع تالیاں بجارہا ہے۔
ڈیڑھ سوبرس پہلے واشنگٹن کا یہی شہر تھا، جنوری 1863کا آغاز ہوچکا تھا اور خانہ جنگی میں حصہ لینے والے باغیوں کی فوجیں پسپا ہوگئی تھیں۔ تب سیاہ فام غلاموں کی آزادی کے حق کے لیے لڑنے والے امریکا کے سفید فام صدر ابراہم لنکن نے کہا تھاکہ میں نے اپنے دل میں مصمم ارادہ کرچکا تھا کہ جیسے ہی باغی آخری محاذ سے پسپا ہوں گے میں غلاموں کی آزادی کا اعلان کردوں گا۔ 1863کا پہلا دن تھا۔ جب نئے سال کا جشن منایا جارہا تھا۔ صبح کا وقت ابراہم لنکن نے وہائٹ ہائوس میں لوگوں سے نئے سال کی مبارکباد وصول کرتے ہوئے اور انھیں مبارکباد دینے میں گزارا۔ پھر وہ اپنے دفتر میں آیا اور اس نے غلامی کے خاتمے کے فرمان پر دستخط کردیے۔
اس روز لنکن نے خود سے یہ سوا ل کیا تھا کہ کیا ہم دنیا کی آخری امید کو شریفانہ طور پر پورا کریں گے یا اسے کمینگی کے ساتھ رد کردیں گے؟ اس نے آزادی کے فرمان پر دستخط کرتے ہوئے ایک دوست سے کہا کہ''
اگر غلامی ظلم نہیں ہے تو دنیا میں کوئی فعل بھی ظلم نہیں ہے۔ میں نے زندگی میں کبھی اس سے زیادہ درست کام نہیں کیا جو ابھی کرنے والا ہوں۔''
غلامی کے خاتمے کا خواب بہت سے لوگ دیکھتے رہے تھے لیکن یہ لنکن تھا جس نے اس خواب کی تکمیل کے لیے ایک ایسے آہنی عزم کا مظاہرہ کیا جس کی مثال امریکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس نے غلاموں کو آزاد کرنے کے لیے ایک خوفناک جنگ لڑی۔ یہ وہ جنگ تھی جس میں سفید فام امریکی ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ بھائی، بھائی سے اور باپ بیٹے سے لڑرہا تھا۔ اس خون آلود فضا میں سیاہ فاموں کی آزادی کے لیے لنکن نے جو خواب دیکھا اس کی پاداش میںوہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔
امریکی سماج میں یہ خواب سفر کرتا رہا۔ کچھ امریکی دانشور اوربہ طور خاص سیاہ فام پادری، وکیل، طلبا اور شہری آزادی کی لڑائی لڑنے والے ایک نہایت مشکل اور صبر آزما سفر سے گزرے، ان میں سے سیکڑوں نے اپنی ذاتی خوشیاں اور چین آرام تج دیا، ان میں سے کچھ اپنی جان سے گزر گئے لیکن مساوات اور آزادی کا خواب ان کی آنکھوں میں زندہ رہا۔ ان میں سب سے نمایاں نام مارٹن لوتھرکنگ جونیئر کا ہے۔ جس نے کہا تھا ''ریاست ہائے متحدہ میں شہری حقوق کی تحریک کے اہم مراکز کہہ رہے ہیں کہ وقار، مساوات ، ملازمتیں اور شہریت کے مطالبات پر نہ کوئی سمجھوتا ہوگا اور نہ ان کو ملتوی کیاجائے گا ۔ اگر اس کا مطلب مزاحمت اور تنازعہ ہے تو جان لیا جائے کہ ہم دبنے والے نہیں۔ اب ہمیں خوف بھی نہیں آتا۔''
سیاہ فام عورتوں اور مردوں کو آئینی طور پر آزاد ہوجانے اور مساوی حقوق رکھنے کے باوجود نسلی امتیاز کا شکار رکھا گیا۔ ان ہی دنوں کو یاد کرتے ہوئے شہری حقوق کی تحریک کے ایک بزرگ رہنما ریورنڈ جوزف لووری نے دو دن پہلے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ 60کے دن تھے جب ایک سفید فام شخص چلتا ہوا آیا اور اس نے اپنا جلتا ہوا سگریٹ میرے بازو پر بجھا دیا۔ وہ ان دنوں کو یاد کرتا ہے جب اس کے چہرے پر ٹھنڈا مشروب پھینک دیا جاتا تھا۔
وہ اس الم ناک دن کو بھی یاد کرتا ہے جب وہ نسلی امتیاز کے خلاف ایک جلوس کی قیادت کررہا تھا اور اس کی نگاہوں کے سامنے چار سیاہ فام نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کردیاگیا تھا۔ میں اپنے لوگوں کے لیے شرف انسانی کی طلب میں کئی مرتبہ جیل گیا۔ میں بہ مشکل بارہ تیرہ برس کا تھا جب ایک سفید فام پولیس والے نے کسی سبب کے بغیر ربڑکے ڈنڈے سے میرے پیٹ پر ضرب لگائی۔ درد ناقابل برداشت تھا میں رونے لگا اور اسی دن سے میںنے تشدد سے نفرت شروع کردی۔ تشدد آپ کے ساتھ کیا جائے یا آپ کسی دوسرے کے ساتھ کریں قابل نفرت ہے۔
نسلی امتیاز اور شہری آزادیوں کے لیے لڑنے والوں میں سب سے مشہور نام مارٹن لوتھرکنگ جونیئر کا ہے۔ کنگ کو اس کی جدوجہد کے سبب نسل پرستوں نے گولی مارکر ہلاک کردیا لیکن وہ اس جدوجہد کو آگے بڑھنے سے نہ روک سکے جس کا آغاز ابراہم لنکن نے کیا تھا۔ کنگ کو امن کا نوبیل انعام برائے1964 دیا گیا۔ مارٹن لوتھر کنگ کی بے مثال تقریر ''میرا بھی ایک خواب ہے'' بیسویں صدی کی عظیم تقریروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ خواب جو لنکن اور کنگ جیسے نامور لوگوں نے دیکھا اور اسے دوسروں کو منتقل کرتے رہے، یہ اسی خواب کا جاری سفر ہے جو ہمیں بارک اوباما کے وجود میں مجسم ہوتا نظر آتا ہے۔ انھوں نے پہلا ناممکن کام یہ کر دکھا کہ وہ ڈیموکریٹس کی طرف سے صدارتی امیدوار نامزد ہوئے، پھر انھوں نے پہلا سیاہ فام صدر امریکا ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور اب وہ دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوچکے ہیں۔
انھوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں غربت، جنگ اور تشدد کے خلاف بات کی۔ یہ ان کے دعوے ہیں۔ ہم ان کے دعووئوں کو اسی وقت تسلیم کرسکتے ہیں جب تیسری دنیا کے انسانوں پر ان کے ان دعوئوں کے اثرات مرتب ہوں۔ لیکن ان کا اصل کلام تو اپنی قوم سے تھا۔ جس سے انھوں نے بے روزگاری، غربت، جنگ اور نابرابری ختم کرنے کے وعدے کیے۔ یہ ڈیڑھ سو برس پرانے ایک امریکی خواب کا تسلسل ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کنگ جونیر نے کہا تھا کہ'' امیر ملکوں میں مفلسوں کا خیال دلوں سے نکال دیا گیا ہے اور ان کو ہمارے سماج کے مرکزی دھارے سے بھی نکال باہر کردیا گیا ہے۔
بالکل اسی طرح جیسے عدم تشدد نے نسلی ناانصافی کی بدصورتی کو عیاں کردیا ہے، افلاس کی بیماری کو بھی منظر عام پر لانا ہوگا اور اس کا علاج کرنا ہوگا۔ مرض کی علامتوں ہی کو نہیں اس کی بنیادی وجوہ کو بھی دور کرنا ہوگا۔ یہ کام کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔اب افلاس کے شیطان سے عالمی پیمانے پر جنگ کرنے کا وقت آچکا ہے۔ دولت مند قوموں کو اپنے وسیع وسائل کو ترقی پذیر دنیا کی ترقی پر خرچ کرنا چاہیے۔ جاہل کو علم اور بھوکے کو غذا فراہم کرنی چاہیے۔ بڑی قوم ہمیشہ مہربان ہوتی ہے۔ وہ اگر ایسے لوگوں کے لیے فکر نہ کرے تو نہ کوئی فرد بڑا ہوسکتا ہے اور نہ کوئی قوم۔''
دیکھنا یہ ہے کہ امریکی قوم اپنے مدبروں اور دانشوروں کے خواب کا تعاقب کرتے ہوئے بڑا بننے کی کوشش کرتی ہے یا یہ محض نعرے اور دعوے ہی رہتے ہیں۔