خان قیوم خان کی پیش گوئی

خان عبدالقیوم خان کی کوئی جماعت بھی تھی قیوم لیگ جو انھوں نے بھٹو صاحب کی مدد میں دے دی اور خود وزیر داخلہ بن گئے۔

Abdulqhasan@hotmail.com

ہمارے کلاسیکی عہد سیاست کی ایک معروف شخصیت تھے خان عبدالقیوم خان۔ سابقہ صوبہ سرحد اور موجودہ خیبر پختونستان کے مرد آہن۔ وزیر اعلیٰ رہے اور بڑے ہی دبنگ۔ سرخپوشوں پر بہت سختیاں کیں اور داد پائی۔ اپنے مخالفوں کو صوبہ بدر کر دیا کرتے تھے، ان کے ایک صوبہ بدر ہمارے دوست خان غلام محمد لونڈ خور بھی تھے۔ صوبہ بدری کے بعد لاہور میں قیام کرتے تھے اور یہاں کی بے تکلف محفلوں کی جان تھے۔ وہ لاہور کے بازار حسن سے اپنا خراج لے چکے تھے، اس خاتون نے اس کھردرے پٹھان کی رفاقت میں صبر کے ساتھ زندگی بسر کی۔

ایک بار کسی نے خان صاحب سے کہا کہ منٹو نے آپ کے خلاف لکھا ہے، وہ غصے کے عالم میں منٹو کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، ڈھونڈتے ہوئے پتہ ملنے پر دفتر امروز میں پہنچے جہاں ایڈیٹر قاسمی صاحب کے پاس منٹو بیٹھے تھے۔ انھوں نے پوچھا کہ منٹو کون ہے؟ منٹو صاحب نے بتایا کہ میں ہوں۔ اچھا تو تم نے میرے خلاف کیا لکھا ہے، خان صاحب نے درشت لہجے میں پوچھا۔ منٹو نے کہا کہ میں نے لکھا ہے کہ لونڈ خور شراب پیتا ہے اور ہیرا منڈی جاتا ہے، اچھا بس یہی تو پھر ٹھیک لکھا ہے، خدا حافظ۔ خان قیوم نے اپنی سیاسی مخالفت کی وجہ سے انھیں صوبہ بدر کر دیا تھا اور وہ اپنے پسندیدہ شہر لاہور میں مقیم ہو گئے تھے۔ ذکر ہے خان عبدالقیوم خان کا ان کی کوئی جماعت بھی تھی قیوم لیگ جو انھوں نے بھٹو صاحب کی مدد میں دے دی اور خود ان کے وزیر داخلہ بن گئے۔

یہ بھٹو کی پہلی حکومت کا واقعہ ہے، بھٹو صاحب کسی کی عزت کے خلاف تھے، اس لیے اپنے اس حلیف اور وزیر کو بھی معاف نہیں کرتے تھے، اسے کبھی ڈبل بیرل خان اور 'آگے بھی خان پیچھے بھی خان' کہہ کر یاد کرتے اور یہ سب کسی پرائیویٹ محفل میں نہیں پبلک جلسوں میں کرتے تھے۔ بہر حال خان صاحب نے بڑی سیاسی دانشمندی سے وزارت کی۔ پہلے تو انھوں نے پاسپورٹ عام کر کے پاکستانی محنت کشوں کے لیے عرب ملکوں کے راستے کھول دیے۔ اس سے قبل پاسپورٹ کا حصول بہت مشکل ہوتا تھا۔ اصل بات جو میں کہنا چاہتا ہوں کہ خان صاحب کے نام کے ساتھ اور بھی بہت کچھ یاد آ گیا، وہ یہ ہے کہ خان صاحب نے بطور وزیر داخلہ ایک بار کہا کہ میں رشوت خوروں پر ہاتھ نہیں ڈالتا کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔

اس زمانے میں جب کرپشن آج کی طرح عام نہیں تھی یہ بات عجیب سی لگی کہ رشوت خور کیسے اتنے بہادر ہو سکتے ہیں کہ ایک وزیر وہ بھی خان عبدالقیوم کو قتل کر دیں لیکن آج کئی برس گزرنے اور کئی حکومتیں آنے جانے کے بعد یہ سب دیکھ رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال نیب کے ایک دیانت دار افسر کامران ہیں جن کو رشوت خوروں نے ختم کر دیا۔ اس قدر پریشان کیا کہ یہ نوجوان خود کشی کر گیا یا پھر اس کو مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ خان عبدالقیوم خان کی برسوں پرانی بات درست ثابت ہوئی، کامران کی مثال تازہ ہے، اس سے قبل بھی ایسی کئی وارداتیں ہو چکی ہیں۔


جب رشوت خوروں اور کرپٹ لوگوں نے اپنے بچائو کے لیے کسی افسر کو مار ڈالا، مقدمے لڑنے، پیشیاں بھگتنے اور وکیلوں کے ہتھے چڑھنے سے بہتر ہے کہ بانس ہی کاٹ دیا جائے تا کہ اس بانسری کی ناپسندیدہ آواز سنائی نہ دے۔ ایسے بانس کے غمخوار اور ساتھی اس کے رشتے دار ہی ہوا کرتے ہیں، باقی سب طاقت ور اس کے مخالف اور یوں یہ قتل رائیگاں چلا جاتا ہے۔ خان قیوم خان ایک جہاں دیدہ گرم و سرد چشیدہ سیاست دان تھے، سخت مزاج والوں کے صوبے سے تعلق رکھتے تھے اور خود بھی مرد آہن مشہور تھے لیکن حقائق کے قریب تر تھے چنانچہ انھوں نے رشوت خوروں کے مخالفوں کو ٹکا سا جواب دے دیا کہ میں آپ کے لیے مرنے پر تیار نہیں ہوں۔

یہ بھٹو صاحب کی پہلی حکومت کے وزیر تھے، اب ان کی آخری حکومت کی حالت تو یہ ہے کہ ایک وزیر اعظم ماشاء اللہ عدالت سے سزا پا کر اس عہدے سے فارغ ہو چکا ہے، دوسرا اب تیار ہے اور اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ حالت تو وزرائے اعظم کی ہے، ان کے نیچے کے وزیر کس حال میں ہیں، ان کے قصے کہانیاں سنتے رہتے ہیں، ان میں دو چار اگر بدنام نہیں تو بدناموں کی رفاقت کی وجہ سے ان کے ساتھی ہی سمجھے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں پنجابی کی ایک پرانی مثل یاد آتی ہے کہ سؤر اس نے نہیں کھایا جسے ملا نہیں۔ مشرقی آداب اور اسلامی آداب یہی ہیں کہ ہر ایک پر نیک گمان کریں تا آنکہ بدگمانی کا جواز نہ ملے۔ ایک حدیث مبارک ہے کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہوتی ہیں یعنی وہ درست ثابت نہیں ہوتیں اور گناہ بن جاتی ہیں۔ ہم عام زندگی میں دیکھتے ہیں کہ کسی کے بارے میں ہمارے دل و دماغ میں کوئی شک پیدا ہو جاتا ہے اور یہ بدگمانی بعض اوقات غلط کاموں کا سبب بن جاتی ہے جو اس کے دور ہو جانے کے بعد گناہ بن جاتے ہیں بہر کیف عرض یہ ہے کہ ہر وزیر بدعنوان نہیں ہوتا، وہ زیادہ سے زیادہ بدعنوانوں کا ساتھی ہوتا ہے، اس لیے آپ چاہیں تو اس کے صرف ساتھ دینے کے گناہ کو معاف کر دیں۔

ہم مسلمانوں میں ایک خرابی ہے کہ ہم آج کی حکومتوں کو بھی اپنی پرانی حکومتوں پر قیاس کر لیتے ہیں اور کسی وزیر کا قرون اولیٰ کے حکمرانوں سے موازنہ شروع کر دیتے ہیں۔ اب پرانی بات ہو ہی رہی ہے تو ایک مثال بھی سن لیں کہ عید آئی تو خاتون اول نے فرمائش کی کہ بچیوں کے نئے کپڑے نہیں کچھ پیسے مل جائیں تو ان کی عید ہو جائے۔ خاتون اول جو ایک شہزادی تھی اس فقیر بن جانے والے شہزادے کے ساتھ بیاہ کے شہزادگی بھول چکی تھی۔ امیر المومنین نے جواب دیا کہ جیب تو خالی ہے لیکن تنخواہ ایڈوانس لینے کی کوشش کرتا ہوں۔

خزانے میں گئے اور درخواست پیش کی، مہتمم خزانہ نے عرض کیا کہ امیر المومنین آپ تنخواہ تو پیشگی لے لیں لیکن کیا اگلے ماہ اس کی ادائیگی کے وقت آپ زندہ ہوں گے۔ بیت المال اپنا مال کس سے وصول کرے گا۔ وقت کا بادشاہ حضرت عمر بن عبدالعزیز سر جھکا کر گھر میں داخل ہوا، بچیوں کو بہت پیار کیا بیگم کو سب کچھ بتایا اور شدید کرب کے عالم میں گھر سے نکل گیا۔ بعض مغربی ملکوں میں آج بھی حکومتی دیانت و امانت کا قریباً یہی حال ہے لیکن ہم مسلمانوں کے تو پانچ سالہ حکومت میں دو وزرائے اعظم کا جو حال ہوا ہے، وہ قوم کے سامنے ہے اور کرپٹ لوگ اس قدر دیدہ دلیر ہو گئے ہیں کہ اپنے مخالفوں کو قتل کرنے سے بھی باز نہیں آتے اور ایسا بار ہا ہو چکا ہے اگر نیکی اوپر سے نیچے آتی ہے تو بدی بھی کسی بلندی پر جمی نہیں رہتی۔ انسان بنیادی طور پر بدعنوان نہیں ہے۔ ممکن ہے میرا خیال غلط ہو۔
Load Next Story