چندی گڑھ میں بھارتی ڈاکٹروں کا کشمیری خاتون کے علاج سے انکار

’’ادھر ہماری فوج پر پتھر مارو، ادھر علاج کراتے ہو‘‘ یہ کہہ کر مریضہ کو اسپتال سے نکال دیا

ڈاکٹروں نے نسرین ملک کے نسخے پھاڑ دیے، غیر انسانی سلوک پر اسپتال چھوڑنا پڑا، بیٹا جاوید۔ فوٹو: فائل

بھارتی شہر چندی گڑھ میں قائم پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے ڈاکٹروں نے اپنے پیشے کی توہین کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی خاتوں مریضہ کا علاج کرنے سے انکار کیا ہے.

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نسرین ملک چندی گڑھ کے مذکورہ اسپتال میں دماغی امراض کے ڈاکٹروں کے پاس علاج کی غرض سے گئیں لیکن ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر علاج سے انکارکیا کہ آپ وادی کشمیر میں ہمارے فوجیوں پر پتھراؤ کرتے ہیں، ڈاکٹروں نے انھیں فوری طورپر اسپتال سے چلے جانے کیلیے کہا.


ںسرین ملک کے بیٹے جاوید ملک نے سرینگر میں صحافیوں کو بتایا کہ پی جی آئی اسپتال کے ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ ''وہاں کشمیر میں ہمارے جوانوں کو پتھر مارتے ہو اور پھر علاج کرانے یہاں آتے ہو''۔ انھوں نے کہا کہ جب تک ڈاکٹروں نے سرینگر اسپتال کے نسخے نہیں دیکھے تھے اس وقت تک وہ بڑی خدمت کر رہے تھے لیکن جب انھیں پتہ چلا کہ ہم کشمیر سے آئے ہیں، انھیں بہت غصہ آیا اور ہمارے کاغذات و نسخے پھاڑ دیے، اسپتال کے استقبالیہ پر موجود عملے نے بھی ہماری بے عزتی کی، ڈاکٹروں اور عملے کی طرف سے غیر انسانی سلوک کی وجہ سے ہم اسپتال چھوڑنے پر مجبور ہوئے، انھوں نے کہاکہ اپنی والدہ کا علاج کیے بغیر ہمیں وہاں سے جانا پڑا۔

جاوید ملک نے ڈاکٹروں کی طرف سے جغرافیائی یا نسلی بنیاد پر علاج سے انکار کو طبی پیشے کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی قراردیا۔

 
Load Next Story