واٹر بورڈ اعلیٰ افسران کی ترقیوں میں مزید بے قاعدگیوں کا انکشاف
سندھ حکومت نوٹس لے اوراپنی نگرانی میں ترقیوں کا عمل کرائے، سینئر افسران۔
سابق ایم ڈی غلام عارف کے دور کی سالانہ خفیہ رپورٹ پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی. فوٹو: فائل
MULTAN:
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ میں اعلیٰ افسران کی ترقیوں میں مزید بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد یہ ترقیاں مکمل طور پر مشکوک ہوگئی ہیں۔
جس پر ادارے کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ترقیاں منسوخ کرکے نئے سرے سے اپنی نگرانی میں ترقیوں کا عمل کرانا چاہیے، باخبر ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ کے جن افسران پر مشتمل شعبہ جاتی ترقی کمیٹی قائم کی گئی تھی اس کمیٹی کے اراکین کی اکثریت خود ترقیوں کی امیدوار تھی جنھوں نے اپنی ترقیاں خود کرلیں جبکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ واٹربورڈ کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر غلام عارف کے دور میں افسران کی لکھی گئی خفیہ سالانہ رپورٹ (اے سی آر) پراسرار طور پر غائب ہوگئی۔
ترقی کے لیے اچھی اے سی آر کا ہونا ضروری ہے تاہم سابق ایم ڈی نے اعلیٰ افسران کے بارے میں تعریفی اے سی آر نہیں لکھی تھی جس کے باعث واٹربورڈ کے موجودہ افسران نے اس اے سی آر کو ادارے کے ریکارڈ سے ہی غائب کرادیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ بغیر اے سی آر کے کسی اگلے عہدے پر ترقی مکمل طور پر خلاف ضابطہ ہے تاہم واٹربورڈ کے افسران نے ''کمال بہادری '' کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر اے سی آر کے ہی ترقیاں حاصل کرکے اپنی نوعیت کا ایک منفرد ''کارنامہ '' انجام دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ جن افسران کی ترقیاں ہوئی ہیں ان میں ایک ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر فنانس معراج بھی شامل ہیں ان پر گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں کھانے کا الزام ثابت ہوچکا ہے اور ان پر باقاعدہ جرمانہ بھی کیا گیا تھا مگر جس افسر کو جرم ثابت ہونے پر تنزلی کی جانی چاہیے تھی اور اس پر عائد شدہ جرمانہ لیا جانا چاہیے تھا اس کی تنزلی کے بجائے اگلے گریڈ میں ترقی دیدی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ میں عبوری ترقیاں لینے کی بھی روایت عام ہوتی جارہی ہے، عبوری ترقیاں لیکر سندھ حکومت کو منظوری کے لیے بھیج دیا جاتا ہے، سندھ حکومت کی منظوری کے بغیر ترقی پانے والے آفیسر اگلے گریڈ کی مراعات بھی وصول کرلینا شروع کردیتا ہے، ذرائع نے اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ادارے کے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز علی محمد پلیجو جو کہ 1994 سے گریڈ 20 کی مراعات حاصل کررہے تھے۔
انھوں نے 1994 میں گریڈ 20میں ترقی حاصل کرکے منظوری کے لیے سندھ حکومت کو بھیجا، سندھ حکومت نے ان کی ترقی کی منظوری 15 نومبر 2012کو ان احکامات کے ساتھ دی کہ ان کی ترقی کے حکمنامے پر اب سے عمل ہوگا، ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں جاری کردہ حکمنامے کے تحت علی محمد پیلیجو نے 18سال سے جو اضافی مراعات لیں ان سے واپس لیا جانا قانونی ضرورت ہے۔
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ میں اعلیٰ افسران کی ترقیوں میں مزید بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد یہ ترقیاں مکمل طور پر مشکوک ہوگئی ہیں۔
جس پر ادارے کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ترقیاں منسوخ کرکے نئے سرے سے اپنی نگرانی میں ترقیوں کا عمل کرانا چاہیے، باخبر ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ کے جن افسران پر مشتمل شعبہ جاتی ترقی کمیٹی قائم کی گئی تھی اس کمیٹی کے اراکین کی اکثریت خود ترقیوں کی امیدوار تھی جنھوں نے اپنی ترقیاں خود کرلیں جبکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ واٹربورڈ کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر غلام عارف کے دور میں افسران کی لکھی گئی خفیہ سالانہ رپورٹ (اے سی آر) پراسرار طور پر غائب ہوگئی۔
ترقی کے لیے اچھی اے سی آر کا ہونا ضروری ہے تاہم سابق ایم ڈی نے اعلیٰ افسران کے بارے میں تعریفی اے سی آر نہیں لکھی تھی جس کے باعث واٹربورڈ کے موجودہ افسران نے اس اے سی آر کو ادارے کے ریکارڈ سے ہی غائب کرادیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ بغیر اے سی آر کے کسی اگلے عہدے پر ترقی مکمل طور پر خلاف ضابطہ ہے تاہم واٹربورڈ کے افسران نے ''کمال بہادری '' کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر اے سی آر کے ہی ترقیاں حاصل کرکے اپنی نوعیت کا ایک منفرد ''کارنامہ '' انجام دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ جن افسران کی ترقیاں ہوئی ہیں ان میں ایک ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر فنانس معراج بھی شامل ہیں ان پر گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں کھانے کا الزام ثابت ہوچکا ہے اور ان پر باقاعدہ جرمانہ بھی کیا گیا تھا مگر جس افسر کو جرم ثابت ہونے پر تنزلی کی جانی چاہیے تھی اور اس پر عائد شدہ جرمانہ لیا جانا چاہیے تھا اس کی تنزلی کے بجائے اگلے گریڈ میں ترقی دیدی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ میں عبوری ترقیاں لینے کی بھی روایت عام ہوتی جارہی ہے، عبوری ترقیاں لیکر سندھ حکومت کو منظوری کے لیے بھیج دیا جاتا ہے، سندھ حکومت کی منظوری کے بغیر ترقی پانے والے آفیسر اگلے گریڈ کی مراعات بھی وصول کرلینا شروع کردیتا ہے، ذرائع نے اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ادارے کے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز علی محمد پلیجو جو کہ 1994 سے گریڈ 20 کی مراعات حاصل کررہے تھے۔
انھوں نے 1994 میں گریڈ 20میں ترقی حاصل کرکے منظوری کے لیے سندھ حکومت کو بھیجا، سندھ حکومت نے ان کی ترقی کی منظوری 15 نومبر 2012کو ان احکامات کے ساتھ دی کہ ان کی ترقی کے حکمنامے پر اب سے عمل ہوگا، ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں جاری کردہ حکمنامے کے تحت علی محمد پیلیجو نے 18سال سے جو اضافی مراعات لیں ان سے واپس لیا جانا قانونی ضرورت ہے۔