اسٹاک مارکیٹ میں تیزی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا نتیجہ
پاکستان کو گذشتہ تین سال میں 60 فیصد ٹیکس وصولیوں میں کامیابی ہوئی
پاکستان کو گذشتہ تین سال میں 60 فیصد ٹیکس وصولیوں میں کامیابی ہوئی ۔ فوٹو: فائل
MANSEHRA:
پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں زبردست تیزی کا رحجان دیکھا جارہا جس سے تاریخ میں پہلی بار کے ایس ای انڈیکس50935 پوائنٹس پر پہنچ گیا جب کہ مارکیٹ کے مجموعی سرمائے کی مالیت بھی پہلی بار100 کھرب روپے سے تجاوز کر گئی۔
تجارتی حلقوں اور معاشی مبصرین کے مطابق عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیزکی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ بی تھری پربرقرار رکھنے اور رواں ماہ میں حصص بازار کی ایم ایس سی آئی انڈیکس میں شمولیت انویسٹرز کے اعتماد کا نتیجہ ہے۔ ملکی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی بلاشبہ ایک خوش آیند پیش رفت ہے، پاکستان کو گذشتہ تین سال میں 60 فیصد ٹیکس وصولیوں میں کامیابی ہوئی، سرمایہ کاروں کو ریلیف دینے کے متعدد اقدامات کا جائزہ لیا گیا، چینی سرمایہ کارون کے لیے کراچی کے دھابے جی علاقے میں خصوصی معاشی زون کا کام شروع ہوگیا ہے، جاپانی نائب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ 2030 تک پاکستان جی 20 کا رکن بن جائے گا، تاہم معیشت کے استحکام کے لیے اسے لاحق داخلی خطرات سے بچانا بھی وقت کا تقاضا ہے۔
جس کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ روز سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مسلسل نگرانی اور تفصیلی تحقیقات کے نتیجے میں مالیاتی سائبر کرائم کا سراغ لگایا۔بتایا جاتا ہے کہ ایس ای سی پی اسٹیٹ بینک، ایف آئی اے اور نیب کے ساتھ مل کر مالی فراڈ بشمول مالیاتی سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے ہائی پاور کمیٹی تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں مالیاتی جرائم کی روک تھام کے لیے ریگولیٹری اٹھارٹیز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ حکمت عملی کافی کامیاب ثابت ہو رہی ہے، ایسے ہی صائب اقدامات اور کریک ڈاؤن اسٹاک مارکیٹ ، شیئرز کے کاروبار سمیت سرمایہ کاری کے دیگر شعبوں میں شفافیت اور احساس تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے، لہٰذا سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور اسٹیٹ بینک کی حالیہ سفارشات اور ہدایات بھی قابل غور ہیں ۔سرمایہ کاروں کی طرف سے بروکرز اور ریگولیٹرز کے مابین توازن اور چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے جب کہ ایس ای سی پی سرمایہ کاروں میں آگہی مہم کو مزید وسعت دے کرکلائنٹس کے اعتماد کو بھی صیقل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں زبردست تیزی کا رحجان دیکھا جارہا جس سے تاریخ میں پہلی بار کے ایس ای انڈیکس50935 پوائنٹس پر پہنچ گیا جب کہ مارکیٹ کے مجموعی سرمائے کی مالیت بھی پہلی بار100 کھرب روپے سے تجاوز کر گئی۔
تجارتی حلقوں اور معاشی مبصرین کے مطابق عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیزکی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ بی تھری پربرقرار رکھنے اور رواں ماہ میں حصص بازار کی ایم ایس سی آئی انڈیکس میں شمولیت انویسٹرز کے اعتماد کا نتیجہ ہے۔ ملکی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی بلاشبہ ایک خوش آیند پیش رفت ہے، پاکستان کو گذشتہ تین سال میں 60 فیصد ٹیکس وصولیوں میں کامیابی ہوئی، سرمایہ کاروں کو ریلیف دینے کے متعدد اقدامات کا جائزہ لیا گیا، چینی سرمایہ کارون کے لیے کراچی کے دھابے جی علاقے میں خصوصی معاشی زون کا کام شروع ہوگیا ہے، جاپانی نائب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ 2030 تک پاکستان جی 20 کا رکن بن جائے گا، تاہم معیشت کے استحکام کے لیے اسے لاحق داخلی خطرات سے بچانا بھی وقت کا تقاضا ہے۔
جس کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ روز سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مسلسل نگرانی اور تفصیلی تحقیقات کے نتیجے میں مالیاتی سائبر کرائم کا سراغ لگایا۔بتایا جاتا ہے کہ ایس ای سی پی اسٹیٹ بینک، ایف آئی اے اور نیب کے ساتھ مل کر مالی فراڈ بشمول مالیاتی سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے ہائی پاور کمیٹی تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں مالیاتی جرائم کی روک تھام کے لیے ریگولیٹری اٹھارٹیز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ حکمت عملی کافی کامیاب ثابت ہو رہی ہے، ایسے ہی صائب اقدامات اور کریک ڈاؤن اسٹاک مارکیٹ ، شیئرز کے کاروبار سمیت سرمایہ کاری کے دیگر شعبوں میں شفافیت اور احساس تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے، لہٰذا سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور اسٹیٹ بینک کی حالیہ سفارشات اور ہدایات بھی قابل غور ہیں ۔سرمایہ کاروں کی طرف سے بروکرز اور ریگولیٹرز کے مابین توازن اور چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے جب کہ ایس ای سی پی سرمایہ کاروں میں آگہی مہم کو مزید وسعت دے کرکلائنٹس کے اعتماد کو بھی صیقل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔