آزادی اظہار…تاریخی پس منظر

جمہوری نظام میں ریاست کے تین ستون بنیادی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں

tauceeph@gmail.com

پرویز رشید کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ وہ زمانہ طالب علمی میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شامل ہوئے۔کارل مارکس، لینن اور چیئرمین ماؤ کے نظریات کے اسیر ہوئے۔ ڈاکٹر رشید حسن خان اور معراج محمد خان کی قیادت میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں، پھر بائیںبازو کی سیاست سے مایوس ہوئے اور میاں نوازشریف کی شخصیت پر نثار ہوگئے۔

میاں نواز شریف نے دوسری بار حکومت بنائی تو پرویز رشید کو پاکستان ٹیلی وژن کا چیئرمین بنایا گیا۔ جب 1999ء میں نواز شریف حکومت برطرف کی گئی تو پرویز رشید گرفتار ہوئے اور تشددکا نشان بنے۔ پرویز رشید کی تربیت بائیں بازو کے کلچر میں ہوئی تھی۔ جب ان پر تشدد ہورہا تھا شاید ان کے ذہن میں حسن ناصر اور نذیر عباسی کی شخصیتیں ہوںگی جو 60ء اور 80ء کی دھائی میں بدترین تشدد کا شکار رہے مگر زبان نہیں کھولی۔ بہرحال پرویز رشید کو مہینوں نظربند رکھا گیا، وہ رہا ہوئے اور امریکا چلے گئے جہاں ایک یہودی ڈاکٹر نے ان کا علاج کیا اورکوئی معاوضہ نہیں لیا۔

پرویز رشید نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں وزیر اطلاعات بنے۔ ان کے صحافیوں اور ادیبوں سے خوشگوار تعلقات رہے مگر وفاق میں اطلاعات کے حصول کا جامع قانون نہیں بن سکا۔ پرویز رشید نے کبھی اس معاملے پر اظہارِ خیال نہیں کیا۔ پھر نیوز لیکس کے ایشو پر پرویز رشید کو وزارت سے مستعفی ہونا پڑا۔ پرویز رشید 6 ماہ سے خاموش ہیں۔ انھوں نے عالمی یومِ آزادئ صحافت پر صحافیوں سے اہم باتیں کیں پرویز رشید کا کہنا تھا کہ وزارت اطلاعات کا کام خبریں رکوانا ہے تو یونیورسٹیوں میں اس کی تعلیم دی جائے۔ پرویز رشید نے کہا کہ میں نے وہی کیا جو جمہوری معاشرے میں ہوتا ہے۔ آپ خبر کے حوالے سے صحافیوں کو اصل صورتحال سے آگاہ کرسکتے ہیںلیکن صحافی کو مجبور نہیں کرسکتے۔ پرویز رشید نے اپنی مختصر بات چیت میں صحافت اور ریاست کے تعلقات کو آشکارکردیا۔

جمہوری نظام میں ریاست کے تین ستون بنیادی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان ستونوں میں انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ شامل ہیں۔ مقننہ کو عوام ایک مقررہ وقت کے لیے منتخب کرتے ہیں اور مقننہ آئین کے تحت قانون سازی کرتی ہے۔ مقننہ میں جس جماعت کی اکثریت ہوتی ہے وہ حکومت بناتی ہے۔ حکومت مقننہ یعنی پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔ مقننہ انتظامیہ کے احتسا ب کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ عدلیہ، آئین اور قوانین کے تحت انتظامیہ کی نگرانی کرتی ہے اور قانون کے مطابق عوام کو انصاف فراہم کرتی ہے۔ برطانیہ جہاں سب سے پہلے جمہوری ادارے پروان چڑھے وہاں سیاسی مفکرین کے ذہنوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ان ستونوں کا احتساب بھی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ادارے کی اجارہ داری قائم نہ ہوسکے۔

یہ فریضہ اخبارات کے سپرد ہوا۔ یوں اخبارات کو state Fourth کا نام دیا گیا۔ یہ تصور بھی مستحکم ہوا کہ عوام کو ریاستی اداروں کے بارے میں جاننے کا حق ہونا چاہیے۔ اس تصور کی بناء پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں آزادئ صحافت کے تحفظ کے لیے آرٹیکل 19 شامل کیا گیا۔ آرٹیکل 19 پاکستان سمیت دنیا بھر کے آئین میں شامل ہے۔برصغیر میں اخبارات کا ارتقاء برطانوی ہند حکومت کے دور میں ہوا۔ جیمس آگسٹ ہکی نے 1780ء میں کلکتہ سے پہلا اخبار ہکی گزٹ شایع کیا۔


ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت نے 1822ء میں اخباری اشاعت کے لیے پرمٹ اور سنسر کا پہلا قانون نافذ کیا۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد کمپنی کی حکومت ختم ہوئی تو برطانوی ہند حکومت قائم ہوئی۔ پہلے وزارت داخلہ اخبارات کوکنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرتی رہی، پھر باقاعدہ وزارت اطلاعات قائم کی گئی۔ برطانوی ہند حکومت نے 1947ء تک وزارت اطلاعات کے ذریعے اخبارات پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی۔ 15اگست 1947ء کو حکومت پاکستان متحرک ہوئی تو اخبارات کے بارے میں وہی سوچ نئے ملک میں منتقل ہوئی جو نوآبادیاتی دور کی تھی۔

اگست 1947ء کے آغاز کے ساتھ ہی نئے دارالحکومت کراچی میں حکومت پاکستان کے دفاتر نے کام کرنا شروع کردیا تھا۔10 اگست 1947ء کو آئین ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس کراچی میں ہوا تو نامزد گورنر جنرل اور مسلم لیگ کے صدر محمد علی جناح نے 11 اگست 1947ء کو اسمبلی میں بنیادی تقریرکی۔ اس تقریر میں نئی ریاست کے جمہوری اور سیکیولرخیالات کو واضح کیا گیا۔ حکومت پاکستان کے سیکریٹری جنرل چوہدری محمد علی نے بانئ پاکستان کی تقریر کے کچھ حصوں کو اخبارات میں اشاعت سے رکوانے کی کوشش کی ۔

ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین نے ان کی ایڈوائس کو تسلیم نہیں کیا، ایوب خان نے 27 اکتوبر 1958ء کو مارشل لاء نافذ کیا اورملک میں اخبارات پر سنسر عائد کیا۔ پھر 1959ء میں جنرل ایوب خان کی حکومت نے ترقی پسند اخبارات کے ادارے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے اخبارات پر قبضہ کیا تو روزنامہ پاکستان ٹائمزکے ایڈیٹر مظہر علی خان نے استعفیٰ دیدیا اور اس وقت کے سیکریٹری اطلاعات قدرت اﷲ شہاب نے خود اداریہ تحریر کیا جو "New Leaf" کے عنوان سے شایع ہوا۔ جنرل یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹوا ور جنرل ضیاء الحق کے ادوار میں بھی اظہار رائے پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد رہیں۔

وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اقتدار میں آنے کے بعد پریس اینڈ پبلکیشنز آرڈیننس کی منسوخی اور بنیادی قانون کی تیاری کا کام شروع کیا۔ پریس ایڈوائس ختم کردی گئی اور نیوز پرنٹ اور اشتہارات کی تقسیم کو میرٹ سے منسلک کیا گیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کو تبدیل کردیا۔ اسی طرح وزارت اطلاعات کی ہیت بھی تبدیل ہوگئی۔

برطانیہ اور یورپی ممالک میں وزارت اطلاعات کے متبادل تعلقات عامہ کاایک ادارہ قائم کیا۔ سرکاری اشتہارات کی مرکزیت ختم ہوگئی اور ہر وزارت اور خودمختار ادارے انھیں ضرورت کے مطابق اشتہار دینے لگے۔ پاکستان میں بھی وزارت اطلاعات کے کردار میں تبدیلیاں آرہی ہیں اور فرینڈلی میڈیا ایڈوائس نے پریس ایڈوائس کی جگہ لے لی۔ پر ویز رشید نے وزارت اطلاعات سنبھالنے کے بعد وزارت کے کردار کو مزید کم کردیا۔ اس تناظر میں اب وزارت اطلاعات کا کام خبر رکوانا نہیں ہے، وہ حکومت کا مؤقف شایع کرسکتی ہے۔ پرویز رشید کے دور میں ایسا ہی ہوا۔ ایک مہذب جمہوریت کے علمبردار پرویز رشید کا بیان جمہوریت کی فتح ہے۔
Load Next Story