کوئی بورڈ کو’’قربانی کا بکرا‘‘ تو لا دے

’’ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں، دیکھیے گا جلد اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث کرکٹرز کو سزا سنا دی جائے گی‘‘

ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں، دیکھیے گا جلد اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث کرکٹرز کو سزا سنا دی جائے گی. فوٹو: فائل

''ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں، دیکھیے گا جلد اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث کرکٹرز کو سزا سنا دی جائے گی''

پی ایس ایل کے دوران نجم سیٹھی نے دبئی کے میڈیا سینٹر میں آ کر جب سینہ ٹھونک کر یہ دعویٰ کیا تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ تین ماہ گزرنے کے بعد بھی پی سی بی کسی ایک کرکٹر کو بھی قصور وار ثابت نہیں کر سکے گا، عرفان کی بات رہنے دیں انھیں تو ڈیل کے نتیجے میں ایک طرح سے کلیئر ہی کر دیا گیا ہے،چند ماہ بعد ان کے بھی تمام گناہ صاف ہو جائیں گے اور وہ عامر کی طرح دوبارہ سے ''ملک و قوم '' کی خدمت کرنے لگیں گے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں عوام سے حقائق چھپائے جاتے ہیں، ماضی میں جو کرکٹرز کرپشن میں ملوث تھے۔

ان میں سے بیشتر اب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، جدید دور کے بعض ''سورما'' بھی کم نہیں، مگر ہر بار ایک ہی بات سامنے آتی تھی کہ ''ٹھوس ثبوت موجود نہیں''۔ اس بار نجم سیٹھی کے دعوے سن کر کچھ آس ملی مگر افسوس اب ایسا لگتا ہے کہ اس بار بھی کچھ نہیں ہو گا، کرکٹرز کے وکیل جس طرح بورڈ کی دھجیاں اڑا رہیں ہیں سوچیں فیصلہ اگر خلاف آیا تب کیا کریں گے، خالد لطیف کے وکیل نے تو یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ اوپنر کو ڈیل کی پیشکش ہوئی ہے۔ جو لوگ میرے کالمز اور نیوز باقاعدگی سے پڑھتے ہیں شاید انھیں یاد ہو کہ میں نے کئی ماہ قبل ہی یہ خبر دیدی تھی کہ یہ اسکینڈل سب کی سوچ سے بھی بڑا ہے۔

اس میں 10 سے زائد کھلاڑی شامل ہیں، بورڈ حکام کو یہ بات پہلے ہی دن سے پتا ہے لیکن شاید پی ایس ایل کی بدنامی کے ڈر سے معاملہ چھپایا گیا، ابتدا میں بھی دو کرکٹرز آئی سی سی کے دبائو پر پکڑے اور وطن بھیجا، پی سی بی کی ''زیروٹولیرنس'' کا اندازہ تو عرفان اور شاہ زیب کو پی ایس ایل میں برقرار رکھنے سے ہی ہو گیا تھا، پھر باری باری کرکٹرز کو ایسے سامنے لایا جا رہا ہے جیسے فلم میں کردار سامنے آتے ہیں، کوئی تو جرم قبول کر لے اس آس میں پردوں کے پیچھے چھپے نام سامنے آنے لگے مگر کوئی بھی قربانی کا بکرا بننے کو تیار نہیں، فکسنگ جیسے معاملات میں ثبوت ایسے نہیں ملتے، اسٹنگ آپریشن میں پکڑے جائیں تو اور بات ہے، عامر، سلمان اور آصف کا کیس ہو یا آئی پی ایل کا مشہور زمانہ اسکینڈل دونوں ہی اسٹنگ آپریشن سے بے نقاب ہوئے، حالیہ کیس میں ایسا نہیں ہوا، یہاں صرف واٹس ایپ پیغامات پر انحصار ہے، ثبوت اتنے پختہ نہیں اورعدالت میں شایدکچھ بھی ثابت نہیں کیا جا سکے گا۔


شاید یہی وجہ ہے کہ بورڈ اب تک کسی کو سزا نہیں دے سکا، پھرخالد، شرجیل و دیگر معطل کرکٹرز کو یہ بھی دکھ ہو گا کہ ہم تو پھنس گئے مگر دیگر اب بھی کرکٹ کھیل رہے ہیں،یہ انتہائی خطرناک کیس ہے، اس میں زیادہ تر مستقبل کے اسٹارز کو ٹارگٹ کیا گیا، صرف چند ہی ایسے پلیئرز تھے جو کیریئر کے اختتام پر پہنچ چکے،مسئلہ حل کرنا پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے بس کی بات نہیں، اچھا خاصا ایف آئی اے شامل ہوئی تھی مگر بعض پردہ نشینوں نے ''بات نکلی ہے تو بہت دور تلک جائیگی'' کے ڈر سے تحقیقات رکوا دیں، اب کر لیں ثابت؟ بورڈ کی یہ سوچ غلط ہے کہ کوئی کرکٹر آ کر سب کچھ اعتراف کر لے گا اور اس کی گواہی پر دیگر کو بھی سزا دے دینگے ایسا نہیں ہونے والا، کون بے وقوف اپنے پیر پر کلہاڑی مارے گا، کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کے اکائونٹس، جائیدادیں، غیرملکی ٹور،فون کالز کی تفصیلات وغیرہ بورڈ کا اینٹی کرپشن یونٹ آسانی سے حاصل نہیںکر سکتا،البتہ ایف آئی اے جیسے اداروں کیلیے یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہیں، اگر حکام کرکٹ سے سنجیدگی سے کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں تو کرنے دیں انھیں تحقیقات، نواز کو اب طلب کیا گیا ہے، ان کے بارے میں پہلے ہی شکوک تھے مگر وہ پوری پی ایس ایل کھیل گئے۔

پھر قومی ٹیم کیساتھ ویسٹ انڈیز بھی گئے، یہ کیا مذاق تھا، اگر وہ واقعی بکیز سے رابطے میں تھے تو کیا انھیں اسکواڈ میں لینا قومی جرم نہیں، بورڈ کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنے قریبی افراد کے ذریعے یہ بات پھیلا دی کہ '' نواز کو تو آسٹریلیا کے ٹور میں مشکوک رابطے کی رپورٹ نہ کرنے پر نوٹس جاری ہوا'' اگر ایسا ہے تو اتنے ماہ سے کیا حکام سو رہے تھے، اب اچانک کیسے یہ بات یاد آ گئی،اسی وقت انھیں پی ایس ایل سے معطل کیوں نہیں کیا گیا تھا؟ میں اب بھی اپنے بات پر قائم ہوں کہ اس کیس میں شامل کئی کھلاڑی ویسٹ انڈیز کے ٹور پر بھی گئے، بورڈ نے جانتے بوجھتے ہوئے آنکھیں بند کیے رکھیں، آپ یہ سوچیں کہ اگر ایک ساتھ 11 کرکٹرز کو معطل کیا جاتا تو کیا ہوتا، 2 کرکٹرز کے وکیل تو سنبھالے نہیں جا رہے11تو حکام کا جینا دوبھر کر دیتے، اب بھی وقت ہے بورڈ آفیشلز مل بیٹھ کر سوچیں اور فیصلہ کریں۔

آپ کے پاس سزا دلانے کیلیے پختہ ثبوت نہیں لیکن جانتے ہیں کہ فلاں کرکٹر کرپٹ سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اسے ٹیم میں شامل نہ کریں،پی ایس ایل سے بھی باہر کر دیں مگر اعلان نہ کریں کہ ایسا کیوں کیا، سب خود سمجھ جائیں گے، کسی کوٹیم میں لینا یا نہ لینا بورڈ کی صوابدید ہے، کوئی کھلاڑی عدالت جا کر اپنے آپ کو ٹیم میں شامل نہیں کرا سکتا،اگر کرپٹ کرکٹرز کو ایسے ہی چھوڑ دیا تو بھی غلط ہے مگر ثبوت نہ ہونے کے باوجود ڈھنڈورا نہ پیٹیں، اس سے وہ اپنی بے گناہی کا راگ الاپنے لگے گا،خاموشی سے کام کر جائیں، اتنے باصلاحیت کرکٹرز کو بھی تو ڈراپ کیا جاتا ہے میڈیا کے شور مچانے سے کیا اثر پڑتا ہے؟

کوئی کھلاڑی بکیز سے کئی بار ملے اور کوئی ڈیل نہ کرے یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ روز شراب خانے جانے والا شراب پیے بغیر واپس آ جائے اور ایسا ممکن نہیں ہے، میڈیا میں آ کر باتیں نہ کریں، خفیہ آپریشن کریں، ایسا آپریشن جس سے ہماری کرکٹ کی گند خاموشی سے صاف ہو جائے اور کسی کو قانونی دائو پیچ استعمال کر کے بچنے کا موقع نہ ملے، ایسا موجودہ بورڈ حکام کرتے تو دکھائی نہیں دیتے، شہریارخان جا رہے ہیں، پی ایس ایل اتنی داغدار ہو چکی کہ نجم سیٹھی کے پاس اب عہدے پر رہنے کا کوئی جواز نہیں بچا، نئے لوگ سامنے لا کر تحقیقات کرانی چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے، ساتھ اگلی لیگ کا انعقاد بھی کرپشن سے پاک ہو، یہ پاکستان سپر لیگ ہے کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، اسے بچانا ہے یا نہیں فیصلہ ہمیں کرنا ہوگا۔

(نوٹ:قارئین آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں۔
Load Next Story