عراق میں 7بم دھماکے اور فائرنگ سے 26افراد ہلاک 58زخمی
بغداد اور اس کے نواحی علاقوں میں واقعات، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ، کئی گاڑیاں تباہ.
بائیجی قصبے میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے سرکاری ملازمین کی تنخواہ لے جانے والے افراد پر فائرنگ کردی. فوٹو: رائٹرز
عراق میں متعدد بم دھماکوں اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں 26 افراد ہلاک اور 58 افراد زخمی ہوگئے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت بغداد کے شمالی قصبے تاجی میں ایک کار بم دھماکے میں 7 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے، بغداد کے ایک اور شمالی قصبے محمودیہ میں ایک اور خودکش کار بم دھماکے میں 5 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے، بغداد کی ایک اور مارکیٹ میں ہونے والے تیسرے بم دھماکے میں مزید 5 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے، دھماکوں میں کئی کاریں پوری طرح تباہ یا کچھ نقصان ہوا ہے، توز خرماتو قصبے میں ایک اور بم دھماکے میں 6 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔
بائیجی قصبے میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے سرکاری ملازموں کی تنخواہ لے جانیوالے افراد پر فائرنگ کردی جس میں 5 افراد ہلاک ہوگئے، اے ایف پی کے مطابق دیالہ، نینوا، صلاح الدین صوبوں اور بغداد کے شمال میں مزید 7 بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں مزید 4 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو اسپتال داخل کروادیا گیا ہے جہاں پر متعدد افراد کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت بغداد کے شمالی قصبے تاجی میں ایک کار بم دھماکے میں 7 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے، بغداد کے ایک اور شمالی قصبے محمودیہ میں ایک اور خودکش کار بم دھماکے میں 5 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے، بغداد کی ایک اور مارکیٹ میں ہونے والے تیسرے بم دھماکے میں مزید 5 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے، دھماکوں میں کئی کاریں پوری طرح تباہ یا کچھ نقصان ہوا ہے، توز خرماتو قصبے میں ایک اور بم دھماکے میں 6 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔
بائیجی قصبے میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے سرکاری ملازموں کی تنخواہ لے جانیوالے افراد پر فائرنگ کردی جس میں 5 افراد ہلاک ہوگئے، اے ایف پی کے مطابق دیالہ، نینوا، صلاح الدین صوبوں اور بغداد کے شمال میں مزید 7 بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں مزید 4 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو اسپتال داخل کروادیا گیا ہے جہاں پر متعدد افراد کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔