خطے کی صورتحال اور زمینی حقائق

ایران کو بہر طور ایسے نامناسب ریمارکس اور انداز بیان سے گریز کرنا چاہیے جس سے دشمنوں کو فائدہ پہنچے

. فوٹو:فائل

پاکستان نے ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کی سرحد پار کارروائی سے متعلق حالیہ بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے ریمارکس دونوں برادر ملکوں کے تعلقات کے منافی ہیں۔ پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست کو منگل کو دفتر خارجہ طلب کر کے ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد حسین باقری کے سرحد پار کارروائی سے متعلق ریمارکس پر شدید احتجاج اور انھیں ان ریمارکس پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔

یہ حقیقت ہے کہ سرحد پار کارروائی کا انتباہ ایک برادر ہمسایہ ملک کی طرف سے غیر معمولی حالات میں ایک غیر متوقع ویک اپ الارم سے کم نہیں چنانچہ خطے میں مستقبل میں اٹھنے والے تزویراتی مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان اپنی موجودہ پوزیشن اور تزویراتی طاقت کا بھی جائزہ لے، خود احتسابی کے ساتھ ہی پیدا شدہ آزمائشوں سے سرخرو ہونے کی ضرورت ہے۔ایک خبر کے مطابق پارلیمانی قومی سلامتی کا اجلاس جمعرات کو زیر صدارت اسپیکر سردار ایاز صادق طلب کیا گیا ہے جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیزاور دیگر سینئر حکام شریک ہونگے اور ملکی سالمیت ،داخلی امن اور خطے کی مجموعی صورتحال، افغانستان ، بھارت اور ایران کے ساتھ کشیدگی کا جائزہ لیں گے جب کہ مشیر قومی سلامتی امور لیفٹینینٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ بریفنگ دیں گے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کے مطابق ایرانی سفیر کو آگاہ کیا گیا کہ اس قسم کے ریمارکس دونوں برادر ملکوں کے تعلقات کے منافی ہیں۔ادھر ایران نے پاکستان میں گرفتار کیے جانے والے انڈین جاسوس کلبھوشن یادو تک رسائی اور اس سے پوچھ گچھ کے لیے پاکستانی حکام سے درخواست کی ہے، اس بات کا انکشاف کوئٹہ میںمقیم ایرانی قونصل جنرل محمد رفیع نے دو روز قبل ایک پریس کانفرنس میںکیا۔ ایرانی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کے لیے ایک انتہائی اہم ہمسایہ ملک ہے، ایران کی سرزمین کو کسی طرح بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ تاہم بات یہاں ختم نہیں ہوئی کہ ایرانی فوج کے لیفٹیننٹ کمانڈر بریگیڈیئر جنرل احمد رضا پوردستانی نے پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ایران کا ناقابل تنسیخ اور قانونی حق ہے۔


ادھر ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے ایک انٹرویو میں کہاکہ ایران میں آیندہ صدارتی انتخاب کے بعد حکومت کی تبدیلی سے پاکستان اور ایران کے تعلقات کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئے گی ۔ یوں ایرانی حکام کی تلخ نوائی اور یقین دہانیوں سے غلط فہمیوں اور خدشات کے خاتمہ میں مدد نہیں ملی ، ایران کو بہر طور ایسے نامناسب ریمارکس اور انداز بیان سے گریز کرنا چاہیے جس سے دشمنوں کو فائدہ پہنچے۔ پاکستان کے ارباب اختیار کو زمینی صورتحال کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ ملکی سالمیت کو خطرات کے بگولے محاصرہ میں کیوں لے رہے ہیں ، پاکستان کو دھمکیاں ملنے کا سبب کیا ہے، کیا دہشتگردی کے خلاف قربانی دینے کا یہی صلہ ہے؟

لہٰذا پاکستان کا دفاع مضبوط جب کہ ملکی سلامتی کو ہر چیز پر فوقیت ملنی چاہیے ،ادراک کرنا ہوگا کہ دشمن نئی چال چل رہا ہے،پاکستان کے حساس صوبہ بلوچستان پر دشمنوں کی للچائی ہوئی نظریں مرکوز ہیں ، بھارت افغانستان ، ایران اور دیگر پاکستان دوست حلقوں میں بدگمانی پیدا کرنے اور بلوچستان کو ٹارگٹ کرکے سی پیک منصوبہ کو نقصان پہنچانے کے در پے ہے، جس پر گزشتہ روز چین نے سی پیک پر بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مبالغہ آرائی سے باز رہے، بھارت کے چین کی فوجی ترقی بارے بھی خدشات بے بنیاد ہیں، چین کے عروج کے بارے میں زیادہ فکر مند ہونے کے بجائے نئی دہلی کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ میں ابتدائی کردار لینے پر غور کرنا چاہیے۔

چینی سرکاری میڈیا نے ایک بار پھر بھارت کو بھی اس منصوبے میں شرکت کے لیے دعوت دی ہے، اس سلسلے میں ہونے والے فورم میں پاکستانی وزیر اعظم سمیت28ممالک کے سربراہان شرکت کر رہے ہیں، یہ اس منصوبے کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ بھارتی لابی خطے میں امن و ترقی اور مسائل کے منصفانہ حل کی سمت بڑھنے کے بجائے دہشتگرد نیٹ ورکس کی فنڈنگ میں مصروف ہے، بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی دے رہے ہیں،انھوں نے بڑھک مارتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان 2016 ء کے سرجیکل اسٹرائیک کا پیغام پڑھ لے۔ اس دھمکی کو ایرانی انتباہ سے جوڑا جائے تو پاکستانی حکمرانوں کو بلوچستان سمیت ملکی داخلی صورتحال کو لاحق ممکنہ خطرات کا ادراک کرنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔

ایک تجزیہ کار کے مطابق افغانستان کی سیاسی تاریخ ایک مرتبہ پھر بدلنے والی ہے، بڑی طاقتیں پھر نئی سازش کے لیے پرتول رہی ہیں، اس صورتحال میں پاکستان کودور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے اور بھارت کوخطے کا نیا ٹھیکیدار بنانے کی پلاننگ کی جا رہی ہے۔اس تناظر میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت میں بھارتی اپیل کیا معنی رکھتی ہے،ارباب اختیار خطے میں بدلتی حرکیات اور ''فطرت کے اشارات'' پر نظر رکھیں۔ اسٹیبلشمنٹ مژگاں کھولے تاکہ وطن کے خلاف مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے قوم متحد ہو، سیاست دان بھی خطے کی صورتحال کے پیش نظر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
Load Next Story