صوبوں کے تحفظات دور کیے جائیں
صوبوں کو اپنے طور پر بجلی پیدا کرنے کے لیے وسائل اور انفرااسٹرکچر کی فراہمی کی تجاویز زیر غور ہیں
فوٹو : فائل
وفاق اور صوبوں کے درمیان نیپرا ایکٹ میں ترامیم، گیس، پانی و بجلی سے متعلق امور پر مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔ وزیر پانی و بجلی کی زیر صدارت ہونے والے مذکورہ اجلاس میں سندھ اور خیبرپختونخوا نے اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جو لمحہ فکریہ ہے۔ وفاق اور صوبوں کے مابین اختیارات اور ریسورسز کے حقوق اور تقسیم سے متعلق معاملات کا ابھرنا ارباب اختیار کو دعوت فکر دیتا ہے کیونکہ یہی اختلافات بسا اوقات گنجلک مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں، چھوٹے صوبوں کے تحفظات فرو کرنا ارباب حل و عقد کی ذمے داری ہے۔
نیپرا ایکٹ میں ترامیم، پانی و بجلی اور گیس کے حوالے سے صوبوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، چیف سیکریٹری پنجاب سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ ذرایع کے مطابق سندھ اور خیبرپختونخوا نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے اجلاس کے دوران اپنے موقف پیش کیے ہیں، سندھ میں کیپٹو پاور پلانٹس سے 100 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں جن سے لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ کمی کی جاسکتی ہے، سندھ میں گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کو جلد ٹیرف کی فراہمی کے حوالے سے وفاقی وزیر سے بات چیت کی ہے اور انھوں نے اس سلسلے میں یقین دلایا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت صوبوں کو اپنے پاور پلانٹس کا ٹیرف مقرر کرنے کا حق حاصل ہے، اجلاس کے دوران ٹیرف، ٹرانسمیشن کے معاملات کے حوالے سے تحفظات پیش کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے موقف پر اصرار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 158، 157 کے تحت جو صوبہ گیس پیدا کرتا ہے، پہلا اس کا حق ہوتا ہے، یہ بات سندھ اسمبلی کے فلور پر کہی تھی اور آج بھی اس بات پر قائم ہوں۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم ارسا ایکٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی روشنی میں صوبوں کے اعتراضات دور کرنے کے پابند ہیں، ہماری مشترکہ کوشش ہے کہ مل کر لوڈشیڈنگ سے نجات دلائیں۔ اگر اس جہت میں پیش قدمی کی جاتی ہے تو یہ عوام کے لیے خوش کن اقدام ہوگا کیونکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ نے ہر شعبہ ہائے زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔
یہ خوش آیند اطلاع ہے کہ صوبوں کو اپنے طور پر بجلی پیدا کرنے کے لیے وسائل اور انفرااسٹرکچر کی فراہمی کی تجاویز زیر غور ہیں ،اگر ان خطوط پر کام شروع ہوگیا تو ملک کو لوڈ شیڈنگ سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی۔امید کی جانی چاہیے کہ وفاق اور صوبوں کے مابین یکجہتی کا سلسلہ جاری رہیگا۔ ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ آج ہونے والے اجلاس میں ہمارے تحفظات دور نہیں کیے گئے، اس لیے ہم دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل میں جائیں گے۔ملک کو مختلف النوع مسائل کا سامنا ہے مگر ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے جس فورم کی ضرورت ہے وہ یہ کونسل ہے جہاں صوبوں کے سربراہان مل بیٹھ کر اپنے جائز حقوق اور ضروریات کا فیصلہ خیر سگالی کے ماحول میں کرسکتے ہیں ، تاہم بنیادی بات صوبوں کی تسلی ہے اور وفاق کے ساتھ ان کا تعلق ٹھوس شراکت ،باہمی اعتماد اور کثیر جہتی مفاہمت پر ہونا چاہیے۔
18 ویں آئینی ترمیم ملک کے لیے ایک ایسا جمہوری بریک تھرو ہے جس میں ایک طرف صوبوں کو خود مختاری کا گہرا احساس ملا ہے اور دوسرے وفاق اور صوبوں کے مابین تنازعات اور خدشات کے تصفیہ اور حل کے لیے مشترکہ مفادات کونسل سے بہتر وے آؤٹ ممکن ہی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبوں کو ہر قیمت پر اس فورم کی افادیت کے لیے سوچنا چاہیے۔ صوبے خوشحال ہوں گے تو وفاق مضبوط اور مستحکم ہوگا۔ مشترکہ مفادات کونسل کا ادارہ قائم ہی اسی بنیاد پر کیا گیا ہے کہ صوبوں اور وفاق کے مابین اختیارات اور ریسورسز کے حوالے سے تنازعات نہ ابھر سکیں، مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر معاملات کا باہمی حل تلاش کرنا ہی راست طرز عمل ہے۔ دوسری جانب وفاق کو بھی کوشش کرنا ہوگی کہ تمام صوبوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔
نیپرا ایکٹ میں ترامیم، پانی و بجلی اور گیس کے حوالے سے صوبوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، چیف سیکریٹری پنجاب سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ ذرایع کے مطابق سندھ اور خیبرپختونخوا نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے اجلاس کے دوران اپنے موقف پیش کیے ہیں، سندھ میں کیپٹو پاور پلانٹس سے 100 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں جن سے لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ کمی کی جاسکتی ہے، سندھ میں گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کو جلد ٹیرف کی فراہمی کے حوالے سے وفاقی وزیر سے بات چیت کی ہے اور انھوں نے اس سلسلے میں یقین دلایا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت صوبوں کو اپنے پاور پلانٹس کا ٹیرف مقرر کرنے کا حق حاصل ہے، اجلاس کے دوران ٹیرف، ٹرانسمیشن کے معاملات کے حوالے سے تحفظات پیش کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے موقف پر اصرار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 158، 157 کے تحت جو صوبہ گیس پیدا کرتا ہے، پہلا اس کا حق ہوتا ہے، یہ بات سندھ اسمبلی کے فلور پر کہی تھی اور آج بھی اس بات پر قائم ہوں۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم ارسا ایکٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی روشنی میں صوبوں کے اعتراضات دور کرنے کے پابند ہیں، ہماری مشترکہ کوشش ہے کہ مل کر لوڈشیڈنگ سے نجات دلائیں۔ اگر اس جہت میں پیش قدمی کی جاتی ہے تو یہ عوام کے لیے خوش کن اقدام ہوگا کیونکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ نے ہر شعبہ ہائے زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔
یہ خوش آیند اطلاع ہے کہ صوبوں کو اپنے طور پر بجلی پیدا کرنے کے لیے وسائل اور انفرااسٹرکچر کی فراہمی کی تجاویز زیر غور ہیں ،اگر ان خطوط پر کام شروع ہوگیا تو ملک کو لوڈ شیڈنگ سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی۔امید کی جانی چاہیے کہ وفاق اور صوبوں کے مابین یکجہتی کا سلسلہ جاری رہیگا۔ ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ آج ہونے والے اجلاس میں ہمارے تحفظات دور نہیں کیے گئے، اس لیے ہم دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل میں جائیں گے۔ملک کو مختلف النوع مسائل کا سامنا ہے مگر ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے جس فورم کی ضرورت ہے وہ یہ کونسل ہے جہاں صوبوں کے سربراہان مل بیٹھ کر اپنے جائز حقوق اور ضروریات کا فیصلہ خیر سگالی کے ماحول میں کرسکتے ہیں ، تاہم بنیادی بات صوبوں کی تسلی ہے اور وفاق کے ساتھ ان کا تعلق ٹھوس شراکت ،باہمی اعتماد اور کثیر جہتی مفاہمت پر ہونا چاہیے۔
18 ویں آئینی ترمیم ملک کے لیے ایک ایسا جمہوری بریک تھرو ہے جس میں ایک طرف صوبوں کو خود مختاری کا گہرا احساس ملا ہے اور دوسرے وفاق اور صوبوں کے مابین تنازعات اور خدشات کے تصفیہ اور حل کے لیے مشترکہ مفادات کونسل سے بہتر وے آؤٹ ممکن ہی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبوں کو ہر قیمت پر اس فورم کی افادیت کے لیے سوچنا چاہیے۔ صوبے خوشحال ہوں گے تو وفاق مضبوط اور مستحکم ہوگا۔ مشترکہ مفادات کونسل کا ادارہ قائم ہی اسی بنیاد پر کیا گیا ہے کہ صوبوں اور وفاق کے مابین اختیارات اور ریسورسز کے حوالے سے تنازعات نہ ابھر سکیں، مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر معاملات کا باہمی حل تلاش کرنا ہی راست طرز عمل ہے۔ دوسری جانب وفاق کو بھی کوشش کرنا ہوگی کہ تمام صوبوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔