کامران ہلاکت کیس میں ڈی جی نیب کوثر ملک کو شامل تفتیش کرنیکا فیصلہ
میڈیا کی قیاس آرائیوں سے انویسٹی گیشن کا عمل متاثر ہوگا، چیئرمین نیب،عدالتی کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد:نیب کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرکامران فیصل کی یاد میں فیڈرل لاجز میں ان کے کمرے کے باہر مو م بتیاں روشن کی جارہی ہیں۔ فوٹو: آن لائن
نیب کے ڈی جی ایچ آر کوثر اقبال ملک کو کامران فیصل کیس میں شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈی جی نیب کوثر اقبال ملک کے پر الزام ہے کہ انھوں نے کامران فیصل پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ رینٹل پاور کیس کی تفتیش سے الگ ہو جائیں اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور اس میں لکھیں کہ سپریم کورٹ کے دباؤ میں آکر مستعفی ہو رہے ہیں۔ کامران فیصل سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ وہ پرانی تاریخ پر بیان حلفی بھی دیں، اس ضمن میں جب آئی جی اسلام آباد بنیامین سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا ان کو اس کے بارے میں علم نہیں، ایس پی سٹی کیپٹن الیاس سے رابطہ کیا جائے جبکہ ایس پی سٹی کیپٹن الیاس نے بتایا کہ ایسی کوئی کارروائی زیر غور نہیں۔ کوثر اقبال ملک سے رابطہ کیا گیا تو ان کا سیل فون مسلسل بند مل رہا تھا۔
آئی این پی کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑی تو کوثر اقبال ملک کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب نیب کے افسران نے منگل کو بھی قلم چھوڑ ہڑتال جاری رکھی، بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں، لاہور میں تمام عملہ کام چھوڑ کر باہر گرائونڈ میں بیٹھ گیا، بعدازاں ڈی جی نیب کی ہدایت پر افسران نے نماز ظہر کے بعد ہڑتال ختم کر دی۔ آئی این پی کے مطابق ڈی جی نیب لاہور خورشید انور بھنڈر نے ہڑتالی افسروں کو یقین دلایا کہ کامران فیصل کی ہلاکت کی مکمل تحقیقات کرائی جائے گی، ہڑتالی ملازمین نے کہا کہ آج رینٹل پاور عملدرآمد کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ بھی جائیں گے۔
ادھر نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کامران فیصل کی پراسرار موت کی تحقیقات جاری ہے اور اس کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق نیب کے افسران کامران فیصل کی موت کے بعد شدید دباؤ میں کام کر رہے ہیں، ان حالات میں چیئرمین نیب نے میڈیا سے کہا ہے کہ مفروضوں کی بنیاد پر کیس کی رپورٹنگ نہ کی جائے، اس طرز عمل سے انویسٹی گیشن کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دریں اثنا پولی کلینک اسپتال اسلام آباد کی ماہر نفسیات ڈاکٹر نجمہ نے پولیس کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ کامران نفسیاتی مریض نہیں تھے۔
ایک ٹی وی کے مطابق تحریری بیان میں ڈاکٹر نجمہ کاکہنا ہے کہ کامران صرف ایک بار علاج کیلیے ان کے پاس آئے تھے، وہ ڈپریشن کا شکار تو تھے لیکن نفسیاتی مریض نہیں تھے، انھیں سکون کیلیے دوائیں تجویز کی گئی تھیں۔ دوسری جانب تحقیقاتی ٹیم نے اب تک کیس سے متعلقہ9 افراد کے بیانات قلمبند کر لیے جبکہ نیب کے دو افسروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ علاوہ ازیں ایک اور ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نیب افسروں نے ابتدائی تفتیشی رپورٹ میں کامران فیصل کی موت کو قتل قرار دیدیا، حقائق نامہ آج سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق نیب تفتیشی افسروں نے شواہد کی بنیاد پرحقائق نامہ تیار کیا جس میں لکھا گیا ہے کہ کامران فیصل کے پاس آر پی پی کیس کی اہم معلومات تھیں۔ انکی زبان باہر تھی اور ایسا دم گھٹنے کے باعث ہوتا ہے۔ پھندا لگتا ہے تو آنکھیں باہر نکل آتی ہیں لیکن کامران فیصل کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خود کو پھندا لگانے والے کیلیے ایسا ممکن نہیں، کامران فیصل کی گردن لمبی نہیں تھی اور پھندا ڈھیلا تھا۔ کامران فیصل کی ہتھیلیوں پر رسی کے نشان تھے۔دریں اثناآئی این پی کے مطابق رینٹل پاورکیس کے تفتیشی افسرکامران فیصل کی موت کی تحقیقات کیلیے جسٹس (ر)جاویداقبال کی سربراہی میں 3 رکنی عدالتی کمیشن کے قیام کاباضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ کمیشن کے 2دیگرارکان میںایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اورڈی آئی جی انویسٹی گیشن پختونخواشامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈی جی نیب کوثر اقبال ملک کے پر الزام ہے کہ انھوں نے کامران فیصل پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ رینٹل پاور کیس کی تفتیش سے الگ ہو جائیں اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور اس میں لکھیں کہ سپریم کورٹ کے دباؤ میں آکر مستعفی ہو رہے ہیں۔ کامران فیصل سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ وہ پرانی تاریخ پر بیان حلفی بھی دیں، اس ضمن میں جب آئی جی اسلام آباد بنیامین سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا ان کو اس کے بارے میں علم نہیں، ایس پی سٹی کیپٹن الیاس سے رابطہ کیا جائے جبکہ ایس پی سٹی کیپٹن الیاس نے بتایا کہ ایسی کوئی کارروائی زیر غور نہیں۔ کوثر اقبال ملک سے رابطہ کیا گیا تو ان کا سیل فون مسلسل بند مل رہا تھا۔
آئی این پی کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑی تو کوثر اقبال ملک کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب نیب کے افسران نے منگل کو بھی قلم چھوڑ ہڑتال جاری رکھی، بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں، لاہور میں تمام عملہ کام چھوڑ کر باہر گرائونڈ میں بیٹھ گیا، بعدازاں ڈی جی نیب کی ہدایت پر افسران نے نماز ظہر کے بعد ہڑتال ختم کر دی۔ آئی این پی کے مطابق ڈی جی نیب لاہور خورشید انور بھنڈر نے ہڑتالی افسروں کو یقین دلایا کہ کامران فیصل کی ہلاکت کی مکمل تحقیقات کرائی جائے گی، ہڑتالی ملازمین نے کہا کہ آج رینٹل پاور عملدرآمد کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ بھی جائیں گے۔
ادھر نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کامران فیصل کی پراسرار موت کی تحقیقات جاری ہے اور اس کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق نیب کے افسران کامران فیصل کی موت کے بعد شدید دباؤ میں کام کر رہے ہیں، ان حالات میں چیئرمین نیب نے میڈیا سے کہا ہے کہ مفروضوں کی بنیاد پر کیس کی رپورٹنگ نہ کی جائے، اس طرز عمل سے انویسٹی گیشن کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دریں اثنا پولی کلینک اسپتال اسلام آباد کی ماہر نفسیات ڈاکٹر نجمہ نے پولیس کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ کامران نفسیاتی مریض نہیں تھے۔
ایک ٹی وی کے مطابق تحریری بیان میں ڈاکٹر نجمہ کاکہنا ہے کہ کامران صرف ایک بار علاج کیلیے ان کے پاس آئے تھے، وہ ڈپریشن کا شکار تو تھے لیکن نفسیاتی مریض نہیں تھے، انھیں سکون کیلیے دوائیں تجویز کی گئی تھیں۔ دوسری جانب تحقیقاتی ٹیم نے اب تک کیس سے متعلقہ9 افراد کے بیانات قلمبند کر لیے جبکہ نیب کے دو افسروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ علاوہ ازیں ایک اور ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نیب افسروں نے ابتدائی تفتیشی رپورٹ میں کامران فیصل کی موت کو قتل قرار دیدیا، حقائق نامہ آج سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق نیب تفتیشی افسروں نے شواہد کی بنیاد پرحقائق نامہ تیار کیا جس میں لکھا گیا ہے کہ کامران فیصل کے پاس آر پی پی کیس کی اہم معلومات تھیں۔ انکی زبان باہر تھی اور ایسا دم گھٹنے کے باعث ہوتا ہے۔ پھندا لگتا ہے تو آنکھیں باہر نکل آتی ہیں لیکن کامران فیصل کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خود کو پھندا لگانے والے کیلیے ایسا ممکن نہیں، کامران فیصل کی گردن لمبی نہیں تھی اور پھندا ڈھیلا تھا۔ کامران فیصل کی ہتھیلیوں پر رسی کے نشان تھے۔دریں اثناآئی این پی کے مطابق رینٹل پاورکیس کے تفتیشی افسرکامران فیصل کی موت کی تحقیقات کیلیے جسٹس (ر)جاویداقبال کی سربراہی میں 3 رکنی عدالتی کمیشن کے قیام کاباضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ کمیشن کے 2دیگرارکان میںایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اورڈی آئی جی انویسٹی گیشن پختونخواشامل ہیں۔