5 ہزار طالبان کراچی میں داخل یہ ایسی مخلوق نہیں کہ کنٹرول نہ ہوسکے چیف جسٹس

یہاں لوگ مارے جا رہے ہیںاور موم بتیاں جلاکر یادمنائی جاتی ہے، جسٹس افتخار

پولیس کوسیاست سے پاک کیاجائے،منظرامام کے قاتلوںکوگرفتارکیاجائے،توہین عدالت کے مقدمے پر سنجیدہ ہیں،سپریم کورٹ ،اجمل پہاڑی کے ٹرائل کاریکارڈ طلب۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے کہاہے جب تک پولیس کوسیاست سے پاک نہیں کیا جاتا کراچی میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

پوری دنیاکے بڑے شہروں میں جرائم کے منظم گروہ ہوتے ہیں لیکن اچھی طرزحکومت اورپالیسیوں سے ان پرقابوپایاجاتاہے۔کراچی بد امنی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کراچی میں مسلح باڈی گارڈز کی موجودگی میں ایک رکن صوبائی اسمبلی محفوظ نہیں تو عام لوگوں کو کیسے تحفظ دیاجاسکتا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بینچ نے منظر امام کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیاہے اور اجمل پہاڑی کے ٹرائل کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا ہے ۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ فتح محمدملک سے استفسار کیا کہ کراچی میں صورتحال بہتر ہوئی یامار دھاڑ جاری ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا حالات اگر100فیصد نہیں تو90 فیصد بہتر ہوئے ہیں جس پرچیف جسٹس نے کہاصورتحال بہت ابترہے ایک ایم پی اے 2مسلح گارڈزکی موجودگی میں قتل ہوا اس سے زیادہ بدامنی اور کیا ہو سکتی ہے،عدالت کے فیصلے کے بعد2ماہ تک حالات بہترتھے لیکن جب فیصلے کی خلاف ورزی شروع ہوئی توحالات دوبارہ بے قابوہوگئے، عدالت کے حکم پر عمل ہو گا تو حالات بہتر ہوں گے اس کے لیے سب سے پہلے پولیس کوسیاست سے صاف کیاجائے۔

پولیس میں سیاسی تقرریوں اورتبادلوں کاسلسلہ ختم کر دیاجائے،منظر امام کے قاتل کو گرفتار کرنا کراچی پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے اگرملزم گرفتار ہو جاتے ہیں تو اس کامطلب ہے کہ پولیس حالات کو بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اگرایک منتخب رکن کے قاتل گرفتارنہیں ہوں گے تو کسی عام آدمی کے قاتل گرفتارہی نہیں ہو سکتے۔چیف جسٹس نے اجمل پہاڑی کے رہاکرنے کامعاملہ بھی اٹھایااورکہاکہ جب قاتل چھوڑے جائیں گے توحالات بہترنہیں ہوسکتے۔ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ اجمل پہاڑی عدالت کے حکم پر رہاہواجس پرچیف جسٹس نے کہاانھیں حراست میں تو رکھا گیالیکن استغاثہ نے کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے،عدم ثبوت کی بنیادپرکسی کو زیر حراست نہیں رکھاجاسکتااب تک انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جج نہیں تودہشت گردی پر قابو کیسے پا یا جاسکتاہے۔




ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ5ہزار طالبان کراچی میں داخل ہوچکے ہیں ،منظر امام کے قتل کوبھی طالبان نے قبول کردیاہے کچھ طالبان گرفتار بھی کر لیے گئے ہیں اوران سے انٹی ایئر کرافٹ بندوقیں بازیاب ہوئی ہیں،کراچی میں حالیہ تشددکی لہر کے پیچھے طالبان ہیں۔چیف جسٹس نے کہاطالبان کوئی ایسی مخلوق نہیں جوقابو نہ ہو سکیں،اس کے لیے سنجیدگی اور عزم کی ضرورت ہے، ہم نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ حکومت درست طور پر کام نہیں کررہی ہے،شاہ زیب بھی عدالت کے حکم پرگرفتار ہوئے ہمارے لیے ہر شخص شاہ زیب ہے لیکن قاتل صرف عدالت کاحکم آنے کے بعد گرفتار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ کاکہنا تھا کہ کراچی بہت بڑا شہر ہے20لاکھ غیرملکی اورملک بھر سے آئے ہوئے لوگ یہاں پررہتے ہیں جس کی وجہ سے امن وامان کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں،مسائل سے نمٹنے کیلیے کمیٹی بنادی گئی ہے۔چیف جسٹس نے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیااور کہاممبئی ،دہلی سمیت دنیا کے تمام میٹرو پولیٹن شہروں پرآبادی کادبائوہو تاہے لوگ روزگار کیلیے ان شہروں میں آتے ہیں لیکن ایک منظم پالیسی کے ذریعے ان مسائل کو قابو کیا جاتاہے،چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں کمیٹیوں پریقین نہیں جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہا کام نہ کرناہوتواس کیلیے کمیٹی بنادی جاتی ہے۔

جسٹس گلزار نے کہا صبح صبح 3لاشیں کراچی میں ملی ہیں ،زمینوں پرقبضے ہو رہے ہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ اصل وجہ بھی یہی ہے بھتہ مافیا اور لینڈ مافیا کی لڑائی میں معصوم لوگ بھی مررہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہالگتا ہے حکومت خود کراچی میں امن نہیں چا ہتی جب سفارشی ایس ایچ اورتھانوں میں لگیںگے توانھوں نے وہی کرناہے جوان کوکہاجا ئے گا،آج پولیس سے سیاست کاخاتمہ کیا جائے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا،چیف جسٹس نے کہاکہ لوگ مارے جارہے ہیں اور پھر موم بتیاں جلا کران کی یادمنائی جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے ایک بارپھرایڈیشنل سیکریٹری سندھ وسیم احمد کی تعینا تی کامعاملہ اٹھایا اور کہا جب دوستیاں نبھانے کے لیے ریٹائرڈ افسران کو نوازاجائے گا اور انھیں اہم عہدے دیے جائیں گے تو امن کیسے قائم ہوگی،سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیاہے کہ ریٹائرڈ افسران کو دوبارہ نہ لگا یا جائے لیکن فیصلے کی بار بار خلاف ورزی ہوئی۔چیف جسٹس نے کہا کراچی کے بارے عدالت کے فیصلے پرعمل نہیں ہوا اس لیے توہین عدالت کی درخواست دائر ہوئی،توہین عدالت کے اس مقدمے کے بارے عدالت بہت سنجیدہ ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے دو ہفتے کی مہلت کی استدعاکی اور کہا کہ جلد بہتر نتائج سامنے آجا ئیں گے ،عدالت نے سماعت6فروری تک ملتوی کردی۔

Recommended Stories

Load Next Story