زرداری کراچی میں ایک ماہ 6 دن قیام کے بعد اسلام آباد روانہ
بینظیرکی برسی میں شرکت،لاڑکانہ کادورہ کیا،وزیراعظم4 باربلاول ہاؤس آئے
گورنرپنجاب کی تبدیلی،بلوچستان میں گورنرراج،دھرنے سمیت اہم معاملات نمٹائے۔ فوٹو: فائل
صدر زرداری کراچی میں ایک ماہ6 دن کے طویل قیام کے بعد اسلام آباد روانہ ہوگئے۔
وہ پولیس کی غیر معمولی حفاظت میں منگل کی شام بلاول ہاؤس سے خیابان اتحاد کی سڑک سے ہوتے ہوئے بلوچ کالونی پل سے ایئرپورٹ پہنچے۔ اس موقع پر شہر کی کئی شاہراہوں پر ٹریفک جام رہا، کراچی میں قیام کے دوران انھوں نے اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کو اس دوران4 مرتبہ بلاول ہاؤس آنا پڑا، صدر نے 26 دسمبر سے لاڑکانہ کا دورہ کیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پانچویں برسی میں شرکت کی جس میں ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھال لی ۔
تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے14جنوری اسلام آباد میں دھرنے سمیت اہم مواقع کے دوران صدر بلاول ہاؤس میں موجود رہے۔ اپنے قیام کے دوران صدر زرداری نے 9 جنوری کو بلاول ہاؤس میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس کی صدارت کی جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر فاروق ستار، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، سینیٹر شاہی سید، مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت حسین نے شرکت کی۔
کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری پر حملہ اور88 لاشوں کو سڑک پر رکھ کراحتجاج کے بعد بلوچستان میں گورنر راج نافذ کرنیکا فیصلہ اور گورنر راج کے نفاذکے صدارتی فرمان پر دستخط بھی صدر نے کراچی میں قیام کے دوران ہی کیے۔
صدر زرداری نے بلاول ہاؤس میں بیٹھ کرہی پنجاب کے گورنرکی تبدیلی کے احکامات جاری کیے جس کے تحت گورنر ہاؤس پنجاب میں گورنر ذوالفقار کھوسہ کو ہٹاکر مخدوم احمد محمود کو گورنر پنجاب بنادیا گیا۔ صدر نے کراچی میں قیام کے دوران اہم سیاسی خصوصاً بلوچستان اور اسلام آباد میں دھرنے کے معاملات کو کامیابی سے حل کیا ۔ دریں اثنا صدر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
وہ پولیس کی غیر معمولی حفاظت میں منگل کی شام بلاول ہاؤس سے خیابان اتحاد کی سڑک سے ہوتے ہوئے بلوچ کالونی پل سے ایئرپورٹ پہنچے۔ اس موقع پر شہر کی کئی شاہراہوں پر ٹریفک جام رہا، کراچی میں قیام کے دوران انھوں نے اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کو اس دوران4 مرتبہ بلاول ہاؤس آنا پڑا، صدر نے 26 دسمبر سے لاڑکانہ کا دورہ کیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پانچویں برسی میں شرکت کی جس میں ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھال لی ۔
تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے14جنوری اسلام آباد میں دھرنے سمیت اہم مواقع کے دوران صدر بلاول ہاؤس میں موجود رہے۔ اپنے قیام کے دوران صدر زرداری نے 9 جنوری کو بلاول ہاؤس میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس کی صدارت کی جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر فاروق ستار، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، سینیٹر شاہی سید، مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت حسین نے شرکت کی۔
کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری پر حملہ اور88 لاشوں کو سڑک پر رکھ کراحتجاج کے بعد بلوچستان میں گورنر راج نافذ کرنیکا فیصلہ اور گورنر راج کے نفاذکے صدارتی فرمان پر دستخط بھی صدر نے کراچی میں قیام کے دوران ہی کیے۔
صدر زرداری نے بلاول ہاؤس میں بیٹھ کرہی پنجاب کے گورنرکی تبدیلی کے احکامات جاری کیے جس کے تحت گورنر ہاؤس پنجاب میں گورنر ذوالفقار کھوسہ کو ہٹاکر مخدوم احمد محمود کو گورنر پنجاب بنادیا گیا۔ صدر نے کراچی میں قیام کے دوران اہم سیاسی خصوصاً بلوچستان اور اسلام آباد میں دھرنے کے معاملات کو کامیابی سے حل کیا ۔ دریں اثنا صدر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔