پنجاب میں نئے صوبےآئینی ترمیمی بل پرباضابطہ کام شروع

پارلیمانی کمیشن ارکان کاگورنرکے صوبہ بہاولپورسے متعلق بیان پرسخت تحفظات

پارلیمانی کمیشن ارکان کاگورنرکے صوبہ بہاولپورسے متعلق بیان پرسخت تحفظات

KARACHI:
پارلیمانی کمیشن نے پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام کیلیے آئینی ترمیمی بل پرباضابطہ کام شروع کردیا ہے، نئے صوبوں کے قیام کیلیے پارلیمانی کمیشن کااجلاس منگل کوسینیٹر فرحت اﷲ بابرکی زیرصدارت ہوا۔

ارکان نے گورنر پنجاب کے صوبہ بہاولپورسے متعلق بیان پرسخت تحفظات کااظہارکیا۔فرحت اﷲ بابرنے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ کمیشن نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جامع اوربامقصدپیشرفت کی ہے تاہم آئینی بل کب تک تیارکرلیاجائیگا وہ اس کاکوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔کوئی شخص کتنے ہی بڑے عہدے پرکیوں نہ ہواسے پارلیمانی کمیشن سے متعلق رائے دینے کاحق نہیں۔کمیشن کے پاس (ن) لیگ سے رابطوںکاریکارڈموجودہے۔کمیشن کااجلاس آج بھی ہوگاجس میں وزارت قانون نئی آئینی ترمیم کیلئے تجاویزدیگی۔




این این آئی کے مطابق فرحت اﷲ بابرنے گورنرپنجاب سمیت کسی بھی شخصیت کے نئے صوبے پربیانات سے لاتعلقی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ کمیشن کے پاس صوبے بنانے کااختیارنہیں، سفارشات قومی اسمبلی میں پیش کرینگے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دوتہائی اکثریت سے منظوری کے بعد پنجاب اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت سے منظوری ہوگی جس کے بعدصدر اس پردستخط کرسکیں گے۔

Recommended Stories

Load Next Story