سی پیک پر ایکسپریس میڈیا گروپ کا اہم سیمینار
توانائی کا بحران، روزگارکے مواقعے اور انفراا سٹرکچرا کی بحالی ایسے اقدامات ہیں جن کے اثرات انتہائی مثبت ہوں گے
۔ فوٹو: ایکسپریس
ملک میں سی پیک کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات، ابہام، تحفظات اور منفی پروپیگنڈے کے رد کے لیے درست صورتحال عوام تک پہنچانے کا بیڑا ایکسپریس میڈیا گروپ نے اٹھایا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں تسلسل سے اس سلسلے میں سیمینارز منعقد کروائے جا رہے ہیں، تا کہ ایک حقیقی صورتحال سامنے آ سکے، یہ میڈیا کے حوالے ایک انتہائی مستحسن اور قابل ستائش اقدام ہے۔
ان سیمینارز میں ہر طبقہ فکرکے نمایندے کھل کر اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔ گزشتہ روز لاہور میں منعقدہ سیمینار کے موقع پر وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی ترقی کا بہت بڑا منصوبہ ہے۔ یہ خطے کا جیو اکنامکس توازن تبدیل کر دے گا، پاکستان مخالف قوتیں سی پیک کے خلاف پراپیگنڈا کر رہی ہیں، اکیسویں صدی سیاسیات کی نہیں اقتصادیات کی صدی ہے۔ جو کچھ وفاقی وزیر نے کہا ہے وہ زمینی حقیقت اور درست انداز نظر ہے۔ دراصل ہمیں اپنے ملک کی معاشی و اقتصادی صورتحال کو زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ نے ہمارا پورا انفرااسٹرکچر تباہ و برباد کر دیا۔ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔
ایسے میں اگر ہمیں چین جیسا بہترین دوست ملک ہماری مدد کو آیا ہے اور چالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ وہ مشکل وقت میں ہماری مدد کر کے ہمیں اپنے پاؤں پرکھڑا کرنا چاہتا ہے۔ توانائی کا بحران، روزگارکے مواقعے اور انفراا سٹرکچرا کی بحالی ایسے اقدامات ہیں جن کے اثرات انتہائی مثبت ہوں گے، لیکن ہم تو سوشل میڈیا سے لے کر ہر فورم میں منفی تاثر پھیلانے کی مہم پر لگے ہوئے ہیں۔ سی پیک پر سیاست چمکائی جا رہی ہے، اگر ہم سیاسی عدم استحکام کا مظاہرہ کریں گے تو دشمنوں کی مذموم خواہشیں پوری ہونگی۔
سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختون خوا سب اکائیاں ہیں ایک وحدت کی۔ ان سب کو یکساں مواقعے ملنے چاہئیں ترقی کے اور آگے بڑھنے کے۔ سی پیک کے ثمرات سب کو ملیں گے۔ تو یقیناً غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جائیں گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاستدانوں کی محاذ آرائی اور بیان بازی نے سی پیک پر عوام کے ذہنوں میں ابہام پیدا کر دیا ہے۔ ابہام جب ہی دور ہوتے ہیں جب ان پر مکالمہ کیا جائے اور یہ قومی فریضہ ایکسپریس میڈیا گروپ نے خوب خوب ادا کیا ہے۔ ہمیں آگے کی جانب بڑھنا ہے تو اپنے باہمی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی مفادات کو اہمیت دینا ہو گی۔ پاکستان میں اس وقت سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ یہی ایک مضبوط بنیاد ہے معاشی ترقی کا سفر طے کرنے کی۔
ان سیمینارز میں ہر طبقہ فکرکے نمایندے کھل کر اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔ گزشتہ روز لاہور میں منعقدہ سیمینار کے موقع پر وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی ترقی کا بہت بڑا منصوبہ ہے۔ یہ خطے کا جیو اکنامکس توازن تبدیل کر دے گا، پاکستان مخالف قوتیں سی پیک کے خلاف پراپیگنڈا کر رہی ہیں، اکیسویں صدی سیاسیات کی نہیں اقتصادیات کی صدی ہے۔ جو کچھ وفاقی وزیر نے کہا ہے وہ زمینی حقیقت اور درست انداز نظر ہے۔ دراصل ہمیں اپنے ملک کی معاشی و اقتصادی صورتحال کو زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ نے ہمارا پورا انفرااسٹرکچر تباہ و برباد کر دیا۔ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔
ایسے میں اگر ہمیں چین جیسا بہترین دوست ملک ہماری مدد کو آیا ہے اور چالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ وہ مشکل وقت میں ہماری مدد کر کے ہمیں اپنے پاؤں پرکھڑا کرنا چاہتا ہے۔ توانائی کا بحران، روزگارکے مواقعے اور انفراا سٹرکچرا کی بحالی ایسے اقدامات ہیں جن کے اثرات انتہائی مثبت ہوں گے، لیکن ہم تو سوشل میڈیا سے لے کر ہر فورم میں منفی تاثر پھیلانے کی مہم پر لگے ہوئے ہیں۔ سی پیک پر سیاست چمکائی جا رہی ہے، اگر ہم سیاسی عدم استحکام کا مظاہرہ کریں گے تو دشمنوں کی مذموم خواہشیں پوری ہونگی۔
سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختون خوا سب اکائیاں ہیں ایک وحدت کی۔ ان سب کو یکساں مواقعے ملنے چاہئیں ترقی کے اور آگے بڑھنے کے۔ سی پیک کے ثمرات سب کو ملیں گے۔ تو یقیناً غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جائیں گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاستدانوں کی محاذ آرائی اور بیان بازی نے سی پیک پر عوام کے ذہنوں میں ابہام پیدا کر دیا ہے۔ ابہام جب ہی دور ہوتے ہیں جب ان پر مکالمہ کیا جائے اور یہ قومی فریضہ ایکسپریس میڈیا گروپ نے خوب خوب ادا کیا ہے۔ ہمیں آگے کی جانب بڑھنا ہے تو اپنے باہمی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی مفادات کو اہمیت دینا ہو گی۔ پاکستان میں اس وقت سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ یہی ایک مضبوط بنیاد ہے معاشی ترقی کا سفر طے کرنے کی۔