بجٹ کے لیے اسٹرٹیجی پیپر کی منظوری
وزارت خزانہ نے اگلے مالی سال کے بجٹ کا تخمینہ 4.8 کھرب لگایا ہے،ذرائع
وزارت خزانہ نے اگلے مالی سال کے بجٹ کا تخمینہ 4.8 کھرب لگایا ہے،ذرائع ۔ فوٹو : آئی این پی
وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال 18-2017 کے وفاقی بجٹ کے لیے اسٹرٹیجی پیپر کی اصولی منظوری دیدی ہے جب کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آیندہ مالی سال کے بجٹ میں بلند، پائیدار اور مجموعی شرح نمو کے حصول پر توجہ مرکوز کی جائے گی، عام آدمی کو ریلیف دیا جائے گا، کابینہ ممبران اپنے دائرہ اختیار میں ان شعبوں کو ترجیح دیں جن سے اقتصادی نمو بہتر اور روزگار کے اضافی مواقع پیدا ہو سکیں۔
جمعرات کو یہاں بجٹ اسٹرٹیجی پیپر برائے 20-2017 سے متعلق کابینہ کا اہم اجلاس ہوا۔ معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ سابقہ تجربات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بجٹ سازی میں ادارہ جاتی فریم ورک وضع کرنے اور اس میں ٹرانسپیرنسی،جوابدہی اور عوام کی شراکت کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ بجٹ کو روایتی طور پر عام آدمی کے ریلیف کی امید سے منسوب کیا جاتا ہے مگر ملکی تاریخ کے بیشتر بجٹ منصفانہ ، غیراستحصالی ، شفاف اور عوام دوست ہونے کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے سے قاصر رہے، کوئی بجٹ قوم کی زندگی میں تبدیلی کی نوید لے کر نہیں آیا، بجٹ اعداد وشمار کا گورکھ دھندہ قراردیا جاتا رہا، اب جب کہ حکومت کو احتجاج، دھرنوں کے علاوہ کرپشن کے ایشو پر مسلسل عدالتی اور تحقیقاتی کارروائی کا سامنا ہے اور اسے خاصے معاشی چیلنجز درپیش ہیں اس لیے آیندہ مالی سال کے لیے بجٹ فیصلہ کن اور تقدیر پلٹ ہونا چاہیے۔
موجودہ حکومت کے کریڈٹ پر سی پیک سمیت توانائی کے متعدد منصوبے ہیں ، ہائی ویز بنائی جارہی ہیں ، زرعی شعبہ سمیت دہگر اہم میں اصلاحات اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت نے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مالیاتی خسارہ میں کمی لانے کے لیے وسط مدتی میکرو اکنامک سٹرٹیجی وضع کی ہے، ایک خبر کے مطابق جولائی تا اپریل تجارتی خسارہ 40 فی صد بڑھ کر 26 ارب55 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے، بلاشبہ چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ 6 فیصد کی شرح نمو حاصل کرنے اور زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں نمو بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے اگلے مالی سال کے بجٹ کا تخمینہ 4.8 کھرب لگایا ہے جو رواں مالی سال کے بجٹ سے 7 فیصد زیادہ ہے۔لہٰذا امید کی جانی چاہیے کہ بجٹ اسٹرٹیجی پیپر کی منظوری کے بعد عملی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ پارلیمنٹ کو بجٹ سازی عمل میں بائی پاس نہ کیا جائے، بہترین شفاف مالیاتی پالیسیوں اور ترقیاتی رقوم کے مختص کیے جانے اور منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت کو مد نظر رکھا جائے اور بجٹ ہر قیمت پر عوامی امنگوں کی عکاسی کرے۔
جمعرات کو یہاں بجٹ اسٹرٹیجی پیپر برائے 20-2017 سے متعلق کابینہ کا اہم اجلاس ہوا۔ معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ سابقہ تجربات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بجٹ سازی میں ادارہ جاتی فریم ورک وضع کرنے اور اس میں ٹرانسپیرنسی،جوابدہی اور عوام کی شراکت کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ بجٹ کو روایتی طور پر عام آدمی کے ریلیف کی امید سے منسوب کیا جاتا ہے مگر ملکی تاریخ کے بیشتر بجٹ منصفانہ ، غیراستحصالی ، شفاف اور عوام دوست ہونے کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے سے قاصر رہے، کوئی بجٹ قوم کی زندگی میں تبدیلی کی نوید لے کر نہیں آیا، بجٹ اعداد وشمار کا گورکھ دھندہ قراردیا جاتا رہا، اب جب کہ حکومت کو احتجاج، دھرنوں کے علاوہ کرپشن کے ایشو پر مسلسل عدالتی اور تحقیقاتی کارروائی کا سامنا ہے اور اسے خاصے معاشی چیلنجز درپیش ہیں اس لیے آیندہ مالی سال کے لیے بجٹ فیصلہ کن اور تقدیر پلٹ ہونا چاہیے۔
موجودہ حکومت کے کریڈٹ پر سی پیک سمیت توانائی کے متعدد منصوبے ہیں ، ہائی ویز بنائی جارہی ہیں ، زرعی شعبہ سمیت دہگر اہم میں اصلاحات اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت نے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مالیاتی خسارہ میں کمی لانے کے لیے وسط مدتی میکرو اکنامک سٹرٹیجی وضع کی ہے، ایک خبر کے مطابق جولائی تا اپریل تجارتی خسارہ 40 فی صد بڑھ کر 26 ارب55 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے، بلاشبہ چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ 6 فیصد کی شرح نمو حاصل کرنے اور زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں نمو بڑھانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے اگلے مالی سال کے بجٹ کا تخمینہ 4.8 کھرب لگایا ہے جو رواں مالی سال کے بجٹ سے 7 فیصد زیادہ ہے۔لہٰذا امید کی جانی چاہیے کہ بجٹ اسٹرٹیجی پیپر کی منظوری کے بعد عملی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ پارلیمنٹ کو بجٹ سازی عمل میں بائی پاس نہ کیا جائے، بہترین شفاف مالیاتی پالیسیوں اور ترقیاتی رقوم کے مختص کیے جانے اور منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت کو مد نظر رکھا جائے اور بجٹ ہر قیمت پر عوامی امنگوں کی عکاسی کرے۔