وزیراعظم کی عدم دلچسپی کے باعث اعلیٰ تعلیمی کمیشن غیرفعال

گورننگ باڈی کے 10 اراکین مدت پوری کر چکے، کئی اہم فیصلوں کی قانونی حیثیت مشکوک ہو گئی

62 برس تک افراد کے نام وزیر اعظم ہاؤس کو بھجوا دیے ہیں جس کی منظوری کا انتظار ہے، چیئرمین فوٹو: فائل

سرکاری و نجی جامعات اور اسناد تفویض کرنے والے اداروں کو مانیٹر کرنے اورانھیں فنڈنگ کرنے والے ادارے وفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی اپنی مانیٹرنگ بدانتظامی کے سبب ختم ہوگئی ہے۔

وفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی گورننگ باڈی ختم اور7ماہ قبل اس کاکورم ٹوٹ چکا ہے جس کے سبب آئندہ مالی wسال کے بجٹ کی منظوری سمیت کمیشن کے کئی اہم فیصلے رک گئے ہیں اورکچھ فیصلے گورننگ باڈی کی منظوری کے بغیرہی کردیے گئے ہیں جنھیں گورننگ باڈی نہ ہونے کے سبب منظوری کے لیے اجلاس میں ہی پیش نہیں کیاجاسکا، ان فیصلوں کی بھی قانونی حیثیت مشکوک ہوگئی ہے، نئی گورننگ باڈی کی منظوری وزیراعظم نوازشریف کوجاری کرنا ہے تاہم ایچ ای سی حکام کی سست روی اوروزیراعظم ہاؤس کی اس ادارے میں عدم دلچسپی کے سبب ملک بھرکی جامعات کو انتظامی، تدریسی ومالی نظم وضبط کی ہدایت کرنے والے ادارے ادارے ایچ ای سی کی اپنی گورننگ باڈی ہی موجودنہیں ہے۔


'ایکسپریس'کومعلوم ہواہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی 18 رکنی گورنرننگ باڈی میں سے 10اراکین اپنی مدت پوری کر چکے ہیں اور50 فیصد سے زائد گورننگ باڈی نہ ہونے کے سبب کمیشن کاگزشتہ7ماہ سے کوئی اجلاس نہیں ہوا، کمیشن کا آخری اجلاس گزشتہ برس اکتوبر2016 میں ہواتھا، پہلے ایچ ای سی کی جانب سے گورننگ باڈی کی تشکیل میں تاخیرکی جاتی رہی اوراب وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے تاخیرکی جارہی ہے، کمیشن نے کچھ ماہ قبل اپنی ٹیسٹنگ سروس بھی گورننگ باڈی کی منظوری کے بغیرہی قائم کرلی، اس سلسلے میں جو نوٹیفکیشن جاری کیاگیااس میں واضح طورپرکہاگیاتھاکہ اس ٹیسٹنگ سروس کے قیام کی منظوری گورننگ باڈی سے لی جائے گی تاہم کئی ماہ گزرگئے ہیں نہ گورننگ باڈی ہے اورنہ ہی اس کی منظوری ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے ایکٹ کے مطابق چیئرمین کمیشن، سیکریٹری وزارت تعلیم، سیکریٹری سائینٹیفک اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن، چاروں صوبائی حکومتوں کے نامزدافسران اورکمیشن کے اپنے ایگزیکٹو وڈائریکٹرگورننگ باڈی کے رکن ہوتے ہیں جبکہ 10 اراکین کے ناموں کی منظوری کنٹرولنگ اتھارٹی (وزیر اعظم) دیتے ہیں۔ ایچ ای سی ذرائع کے مطابق ابتدا میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے گورننگ باڈی کے10اراکین کی نامزدگی وزیراعظم ہاؤس کوبھجوانے میں تاخیری حربے استعمال کیے تاکہ من مانے فیصلے میں باڈی رکاوٹ نہ ڈال سکے تاہم اب وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے منظوری میں تاخیرکی جارہی ہے، کمیشن کے ایکٹ کے مطابق 10میں سے 7اراکین کے لیے بین الاقوامی سطح پر ممتاز شخصیت جواعلیٰ تعلیم میں اپنامقام رکھتے ہوں ان کی منظوری وزیراعظم دیتے ہیں جبکہ ان 7اراکین میں کم از کم ایک خاتون کی شمولیت بھی لازمی ہے۔

مزید براں ایک رکن کسی یونیورسٹی کاوائس چانسلر ہوتا ہے جس کا وزیراعظم بھجوائے گئے3 ناموں کے پینل میں سے انتخاب کرتے ہیں جبکہ 3اراکین نجی شعبے کی ممتاز شخصیت کے طورپرلیے جاتے ہیں۔ ''ایکسپریس''نے جب اس معاملے پر چیئرمین اعلیٰ تعلیمی کمیشن ڈاکٹرمختاراحمد سے رابطہ کیا تو انھوںنے گورننگ باڈی کے عدم وجود سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ کمیشن نے پہلے ان10نشستوں پر موزوں افرادکے نام وزیراعظم ہاؤس کوبھجوادیے تھے تاہم وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کے مطابق خودمختارادارے کی گورننگ باڈی میں 65 برس کے زائد عمرکے افرادشامل نہیں کیے جاسکتے جبکہ ایچ ای سی کی جانب سے جونام بھجوائے گئے تھے ان میں اکثریت 65 برس یااس سے زائد عمرکے افرادکی تھی جس کے سبب یہ سمری واپس آگئی اب62برس تک کے افرادکے نام وزیر اعظم ہاؤس کوبھجوائے گئے ہیں جس کی منظوری کاانتظارہے۔
Load Next Story