میں کون ہوں اے ہم نفسو

ناپرساں کے پولیس تھانہ اندھیر نگری کا ایس ایچ او انسپکٹر فضل مولا عرف غضب مولا خان گشت سے آکر اپنی کرسی میں بیٹھ گیا

barq@email.com

ناپرساں کے پولیس تھانہ اندھیر نگری کا ایس ایچ او انسپکٹر فضل مولا عرف غضب مولا خان گشت سے آکر اپنی کرسی میں بیٹھ گیا۔ پہلے اس نے اپنی ٹوپی اتار کر ایک طرف رکھ دی، پھر اپنی پیٹی کھول کر پیٹ کو آزادی دلائی جو مارے خوشی کے آگے میز اور کرسی کے درمیان خلا کو پار کر کے میز پر بہنے لگا تھا اور کرسی کے دونوں پہلوؤں سے بھی باہر لٹک گیا۔ وہ آنکھیں بند کر کے آج کے ''بکھیڑوں'' کے بارے میں ابھی اچھی طرح سوچنے بھی نہیں پایا تھا کہ کم بخت دوسری بیٹ والے ایک ملزم کو لے کر آپہنچے۔

اس نے آنکھیں اٹھا کر ملزم کو دیکھا، گشت والوں نے ملزم کو اچھے خاصے باعزت طریقے سے پہنچایا تھا جس کا ثبوت اس کے سارے جسم پر ثبت تھا۔ کان لال بھبھوکا ہو رہے تھے، چہرے کا جغرافیہ کسی سونامی کے بعد والا منظر پیش کر رہا تھا،کپڑے کسی کیکر کے جنگل سے گزر کر آنے کا پتہ دے رہے تھے جو جنگل سے نکل آنے کے بعد کسی دلدل سے بھی گزرے تھے، جسم کا کل اثاثہ چند ٹیڑھی میڑھی ہڈیوں کو مٹیالے کپڑے میں بندھی ہوئی گٹھڑی پر مشتمل تھا۔

حوالدار نے ملزم کا تعارف نہایت احترام سے مروجہ تمام قابل سنسر الفاظ سے کرتے ہوئے کہا کہ ملزم مشکوک حالت میں ایک سڑک پر پایا گیا تھا اور پولیس پارٹی نے جان پر کھیل کر اسے ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا۔ ملزم کی بغل میں ایک مرغی بھی تھی جسے ملزم فرار کرا دینے میں کامیاب ہوا۔ فضل مولا عرف غضب مولا خان نے کرسی میں سیدھا ہونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پوچھا،فضل ،کون ہو تم... (سنسر)ملزم : آدمی ہوں جناب۔فضل : آدمی کے بچے (سنسر) میں ...

ملزم : جی، آدمی کا بچہ بھی ہوں۔حوالدار : جھوٹ کہتا ہے سر ، وہاں تو خود کو عوام بتا رہا تھا۔ ملزم : عوام بھی ہوں سر۔

فضل : مگر ابھی تو تم خود کو آدمی کہہ رہے تھے۔

ملزم : وہ میرا خاندانی نام ہے جناب۔

فضل : تیرے خاندان کی (سنسر) اصل نام بتاؤ۔

ملزم : انعام صاحب۔ فضل : انعام صاحب واہ... صاحب... (سنسر) ملزم : صاحب... انعام میرا نام۔

فضل : انعام یا انعام میرا مطلب ہے زیر سے یا زبر سے ۔ملزم : دونوں سے جناب۔فضل : دونوں سے کیسے انعام کہو یا انعام۔ملزم : وہ ایسا ہے جناب کہ میں خود تو الف سے انعام ہوں لیکن دوسروں کے لیے زیر سے انعام ہوں۔

فضل : دوسروں سے تمہارا کیا مطلب ہے (سنسر)

ملزم : میرا مطلب ہے ملک کے لیے، قوم کے لیے اور سرکار کے لیے۔فضل : لیکن یہاں تو تمہارا ایک اور نام لکھا ہے ''ووٹ''۔ملزم : جی جی وہ بھی میں ہی ہوں۔

حوالدار : سر یہ اسی طرح کبھی کچھ کبھی کچھ کہہ رہا تھا، راستے میں کہہ رہا تھا کہ میں اس دکاندار کا گاہک ہوں۔

فضل : اچھا گاہک بھی تمہارا نام ہے اور کتنے ہیں...ملزم : دراصل لوگ مجھ سے پیار بہت کرتے ہیں۔

فضل : وہ تو میں بھی کروں گا (ڈنڈا اٹھا کر دکھاتے ہوئے) ملزم : اسی لیے تو کہتا ہوں کہ لوگ مجھے پیار کرتے ہیں اور اپنا اپنا پیار کا نام لیتے ہیں۔ فضل : سیدھی طرح بتاؤ اور سب کچھ بتاؤ کہ تم کون ہو اور کیا ہو ورنہ (سنسر)


ملزم : دراصل مجھے خود بھی پتہ نہیں کہ میں کیا ہوں کون ہوں، اگر اجازت ہو تو ایک الاپ ماروں۔ فضل : الاپ ؟ یہ کیا ہوتا ہے۔ ملزم : مطلب ہے شعر غزل گانا۔ فضل : ٹھیک ہے ٹھیک ہے مارو۔ملزم :

میں کون ہوں اے ہم نفسو سوختہ جاں ہوں

آگ میرے دل میں تو شغلہ فشاں ہوں

فضل : یہ آگ یہ شعلہ اور فشاں مشاں... تم کہیں دہشت گرد تو نہیں ہو۔ملزم : ہوں تو نہیں لیکن جب شہر میں پھرتا ہوں تو جگہ جگہ یہ نام بھی لوگ لیتے ہیں۔

فضل : سارے نام بتاؤ اپنے (سنسر)ملزم : بجلی والے مجھے کنزیومر کہتے ہیں، ٹرانسپورٹ والے ''سواری'' کے نام سے پکارتے ہیں، اسپتال والے مریض کہتے ہیں اور سرکاری لوگ مجھے عوام کے نام سے بلاتے ہیں۔

حوالدار : دیکھا صاحب میں نہیں کہتا تھا کہ یہ نام بدل بدل کر وارداتیں کرنے والا ''واردایتا'' ہے۔

ملزم : مہربانی شکریہ ایک اور نام کے لیے... وارداتیا

فضل : کچھ اور نام بھی ہیں تمہارے۔ملزم : جی ہاں لیڈر مجھے پیارے اور عزیز کہتے ہیں۔فضل : پیارے اور عزیز... اور؟ملزم : کچھ لوگ مجھے کھال بھی کہتے ہیں اور گائے بھی۔حوالدار : پکا بدمعاش ہے جناب۔ملزم : ہاں بدمعاش بھی مجھے کہتے ہیں۔فضل : تم آدمی ہو یا پاجامہ۔

ملزم : دونوں ہوں جناب... خود کو تو میں آدمی سمجھتا ہوں لیکن لوگ مجھے پاجامہ کہہ کر پہنتے ہیں، اتارتے ہیں دھوتے ہیں نچوڑتے ہیں ادھیڑتے ہیں اور سیتے ہیں۔

فضل : عجیب آدمی ہو تم تو (سنسر) ملزم : جی بالکل عجیب کے ساتھ غریب بھی ہوں۔ فضل : اگر غریب ہو تو پھر شریف بھی ہو گے... تلاشی لو اس کی۔

ملزم : وہ تو یہ لے چکے ہیں اور جو کچھ تھا۔حوالدار : خاموش اس کے منہ پر چھانٹا مارتا ہے، اور تلاشی لینے لگتا ہے ، یہ دیکھئے جناب یہ کیا نکلا ہے اس کے پاس، شرافت جناب شرافت... اپنے منہ میں چھپائے ہوئے تھا۔

فضل : ہوں آخر پکڑے گئے نا...حوالدار : مجھے شک تھا کہ اس کے پاس کوئی ممنوعہ چیز ضرور ہے۔

ملزم : جناب مگر ... مگر یہ تو پیدائشی ہے۔فضل : پھر تو اور بھی بڑا جرم ہے، شرافت اور وہ بھی بلا لائسنس ۔

ملزم : لائسنس ۔فضل : ہاں جب تک کسی کو شرافت کا لائسنس نہیں دیتے ، اس کی شرافت غیر قانونی ہو گی اور یہ جرم ہے، اور تم مجرم ہو۔ملزم : مطلب یہ کہ ایک اور نام...
Load Next Story